کیا آپ پدرسری نظام بدلنا چاہتے ہیں؟


جناب ڈاکٹر خالد سہیل صاحب !

چند دن پہلے آپ کا ‘ہم سب’ پر کالم "کیا آپ عورتوں کی آزادی سے خوفزدہ ہیں؟” پڑھا – پڑھ کر خوشی ہوئی کہ جن مسائل کو ہماری آقائی نسل کی دو آزادی نسواں کی علمبردار خواتین اک زمانے میں زیر بحث لا رہی تھیں آج وہی مسائل ان کے غلام معاشروں میں بھی زیر بحث ہیں –بے ٹی فریڈمین اور سمیں دی بوا کی گفتگو بھی تقریبا اتنی ہی پیچیدگی اور گنجلک کا شکار ہے جتنے ہمارے یہاں یہ موضوعات – مگر پھر بھی یہ خواتین ان موضوعات کو الفاظ دینے میں کامیاب ہو گئیں اور ان کے ساتھ آپ نے بھی یہ ذمہ داری خوب نباہی جو شاید آپ کی تھی بھی نہیں- میرا خیال ہے اردو ابھی تک عورت کے حقوق کی جدوجہد کی زبان سے قاصر ہے سواۓ اکادکا شہہ پاروں کے جہاں عورت کے موضوعات زیر بحث آئے ہیں –

میں ان موضوعات کی بات نہیں کر رہی جو کہ مرد یا معاشرے نے عورت کو تھمائے ہیں – بلکہ وہ مسائل جو خواتین خود اپنے

مسائل سمجھتی ہیں اور ان کو حل کرنا چاہتی ہیں – اس تاریخی گفتکو میں آپ خیالات اور بیان کی اس پیچدگی کو محسوس کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ان خواتین سمیت قاری محسوس کرتا رہتا ہے کہ جیسے ان خواتین میں کوئی اختلاف ہے جبکہ تھوڑی دیر بعد دونوں کو احساس ہوتا ہے کہ اصل میں وہ کم و بیش ایک ہی بات کر رہی ہیں –

جیسا کہ حقوق نسواں کی تحریک میں بھی یہی عالم ہے عورت کے انسانی حقوق سے کم ہی لوگ معترض ہیں مگر ان حقوق تک کیسے پہچنا جاۓ اس پر سب کی اپنی اپنی راۓ ہے جو کہ اختلاف کا سبب بنتی ہے – جس پر عالمی سطح پر یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ خواتین کو انفرادی اور اجتماعی طور پر ان کے حقوق تک پہنچنے کا راستہ بتانے سے اجتناب کیا جاۓ اور ان کو خود اپنا راستہ تلاش کرنے کی آزادی اور قوت کی سہولت مہیا کی جاۓ –

میرے خیال میں اس وقت اس آزادی میں غلطی کرنے کی آزادی سر فہرست ہے –

 سماجی اور تاریخی طور پر عورت کو غلطی کرنے کے اس سے زیادہ نتائج بھگتنے پڑتے ہیں جتنے مرد کو – اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ مرد اک غلط بات بھی اس سے زیادہ اعتماد سےکرتا ہے جتنا ایک عورت صحیح بات کر پاتی ہے – اس لیے عورت کوئی بھی فیصلہ کرنے سے کتراتی ہے کہ کہیں غلط فیصلہ نہ کر بیٹھے – جس سے وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے ہی ہاتھ دھو بیٹھی ہے – جس کے نتیجے میں وہ اعتماد اور قوت فیصلہ کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے – اسی طرح اگر تحریک نسواں کو بھی سوچنے سمجھنے بولنے مشورہ کرنے’ تجربات کرنے اور غلطی کرنے اور اس غلطی سے سیکھنے کا موقع یا آزادی نہیں دی جائے گی تو تحریک آزادی نسواں اور اس کے ساتھ ساتھ تمام خواتین اسی طرح عدم خود اعتمادی اور عدم قوت فیصلہ کا شکار رہیں گی- اور اپنے کو دوسری جنس اور مردوں کو پہلی جنس سمجھتی رہیں گی –

 میرے خیال میں زندگی میں مردوں کے لیے مواقع کی عورتوں کے مقابلے میں زیادتی کو ہی پدرسری مرد شاہی یا Patriarchy کہتے ہیں اس لیے جب بھی کسی فیمنسٹ پر مرد دشمنی کا الزام لگایا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ہم مرد کے نہیں اس نظام کے خلاف ہیں جو مردوں کو عورتوں کے مقابلے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے – آپ کا کیا خیال ہے کہ Patriarchy کس کو کہتے ہیں؟ اور مردوں اور عورتوں کے لیے اس میں کیا فوائد اور نقصانات ہیں – میں اس بارے میں آپ کے خیالات جاننا چاہوں گی –

آپ کی ہم خیال دوست زہرا نقوی

24 اپریل 2019

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail