بلاول کی مردانگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری کو ”صاحبہ“ کہہ کر پکارا تو شور مچ گیا اور شور مچنا بھی چاہیے تھا کہ انہوں نے بلاول کے انداز و اطوار کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اسے ایک عورت کہہ کر اس کی توہین کرنے کی کوشش کی، سوال سو فیصد درست ہے کہ کیا آپ کی نظر میں عورت ہونا باعث شرم اور باعث ذلت ہے کہ آپ اسے طعنے، طنز اور گالی کے طور پر استعمال کرتے ہیں، آپ کی والدہ ایک عورت تھیں، آپ کی بہنیں اور اہلیہ ایک عورت ہیں اور وہ بہت قابل احترام ہیں، آپ عورت ہونے کو کم تر کیسے بیان کر سکتے ہیں۔

شیخ رشید، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے، بلاول بھٹو کو بلو رانی کا خطاب دینے والے منہ پھٹ اور بدلحاظ شخص نے کہہ دیا کہ اسے بلاول میں پروین نظر آتی ہے۔ یہ بلاول سے کہیں زیادہ خواتین کی توہین ہے اور سینئر سیاستدان ہونے کے دعوے داروں کی اخلاقی تربیت کے سامنے ایک سوالیہ نشان بھی، یہی سوال بنتا ہے کہ کیا ان لوگوں کی تربیت کسی عورت نے نہیں کی؟

سوال یہ نہیں کہ بلاول مرد ہے یا نہیں کہ جنہیں اس کا جواب چاہیے، وہی اس کے لئے اہتمام بھی کریں بلکہ سوال ہماری اجتماعی اخلاقیات کا ہے جس میں جمعے کے مبارک روز ٹوئیٹر پر پاکستان کے لئے جو ٹرینڈ تھے وہ ہماری بدترین اخلاقی حالت کی عکاسی کر رہے تھے، صحافیوں کے سوالوں، خبروں اور تجزیوں سے اختلاف کرنے والے ان کے ناموں کے ساتھ غلیط ترین گالیوں کے ٹرینڈ چلا رہے تھے اور رمضان المبارک کے دروازے پر کھڑے پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل چہرہ تھا۔

 ایک مرتبہ ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ پورن فلمیں دیکھنے والے پاکستانی تھے۔ مجھے اس تحقیق نے بہت دکھ دیا اور میرا خیال تھا کہ ریسرچ کے یہ نتائج پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اخذ کیے گئے ہیں کہ اس دوڑ میں بھارتی ہم سے بلاشبہ آگے ہو سکتے ہیں مگر ہمارے سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور ٹوئیٹر کے ٹرینڈز نے ثابت کیا کہ وہ اعداد وشمار درست تھے۔ ہم ایسے منافق ہیں کہ گالیوں کے ساتھ ساتھ جمعہ مبارک کا ٹرینڈ بھی چلا رہے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے خود کو ”صاحبہ“ کہے جانے پر پہلا جواب یہ دیا، وہ آپ کیا کہتے تھے بڑے عہدے پر چھوٹا آدمی، یہ بہت حد تک ادبی اور سیاسی جواب تھا مگر پیپلزپارٹی والوں کو بھی شاید بلاول کی مردانگی پر شک ہو گیا اور ہمارے معاشرے میں مردانگی ثابت کرنے کے دو ہی طریقے ہیں، اس میں دوسرا طریقہ فحش کلامی اور یاوہ گوئی ہے۔ بلاول بھٹو کا دوسرا جواب جو مبینہ طور پر ایک پلانٹڈ سوال کے ذریعے سامنے لایا گیا وہ عمران خان کی ایمپائر کی انگلی کے مشہور زمانہ بیان سے جڑا ہوا تھا، انہوں نے کہا، سلیکٹڈ سے پوچھوں گا آپ کو ایمپائر کی انگلی پسند آئی، مزا آیا، سلیکٹرز سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کو تبدیلی پسند آئی۔

 مجھے اس بیان نے بہت بدمزہ کیا، اس لئے نہیں کہ میں جناب عمران خان کی بہت زیادہ عزت و احترام کا قائل ہوں کہ بنیادی طور پرعزت و احترام خود آپ کی شخصیت، گفتگو اور کردار کا ردعمل ہوتا ہے اور ہم نے اعلیٰ ترین سیاست میں عمران خان کو اوئے اوئے کہہ کر مخاطب اور خطاب کرتی ہوئی ایک مستقل حالت کی صورت میں دیکھا ہے۔

پیپلزپارٹی والے جہاں آف دی ریکارڈ کچھ ویڈیوز امپورٹ اور وائرل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں آن دی ریکارڈ بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا دفا ع بھی کر رہے ہیں بالکل اسی طرح جیسے پی ٹی آئی والے بلاول کو ’صاحبہ‘ ثابت کرنے میں جُتے ہوئے ہیں۔ میں دہراؤں گا کہ ہمارے لئے اہم نہیں کہ بلاول مرد ہے یا نہیں، جن کے لئے اہم ہے، وہ اس کا اہتمام بھی کرتے پھریں مگر اہم یہ ہے کہ ہم دھڑے بندی میں اخلاقیات سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔

 پی پی پی کے دوستوں کا کہنا تھا کہ اصل غلط بیان عمران خا ن کے تھے، سب سے پہلے انگلی کا لفظ خود عمران خان نے استعمال کیا، کیا انہیں یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے شرم آئی، اگر نہیں تو پھر پی ٹی آئی والے انہیں کیوں شرم دلا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا تھا کہ بات سلیکٹڈ سے شروع ہوئی اوراگر وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہا جائے گا اور مراد سعید کے لئے بے بی، بے بی کے نعرے لگیں گے تو پھر اس کا جواب بھی ملے گا۔ یہاں بھی ایک سوال ہے کہ پرائم منسٹر کو سلیکٹڈ مہینوں سے کہا جا رہا ہے مگر جواب اس وقت کیوں آیا ہے جب مراد سعید کو قومی اسمبلی میں نشانہ بنایا گیا۔

 پی ٹی آئی والے دور کی کوڑی لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سیاست میں اس کلچر کا آغاز اس وقت ہوا جب نواز لیگ نے اسی کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کو ٹارگٹ کیا اور پھر نوے کی دہائی میں انہیں پیلی ٹیکسی کہا گیا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کو پیلی ٹیکسی کہنے والا سیاستدان ان کا اس وقت شکوہ کرنے والوں کا سیاسی چاچا ہے اور اس وقت بھی بدگوئی کی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے۔ مسلم لیگ نون والے کہتے ہیں کہ میثاق جمہوریت میں یہ سب کچھ دفن ہو چکا، موجودہ دور میں بدکلامی کی ثقافت کے بانی عمران خان ہیں اور یہ وہ دور تھا جب انہوں نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف دھرنے کے لئے سفر کا آغاز کیا۔

پیپلزپارٹی والے بلاول بھٹو کا دفاع کرتے ہوئے قائل ہیں کہ عوام میں ایسی زبان مقبول ہوتی ہے اور دلیل دیتے ہیں کہ کنٹینر پر کھڑے عمران خان اور ان سے پہلے پنجابی کے مشہور سٹیج ڈرامے بھی تو مقبول ہوئے۔ اس نکتہ نظرکو ٹویٹر کے غیر اخلاقی ٹرینڈز کے بعد اس وقت تقویت ملتی ہے جب ہمارے کچھ سیینئر تجزیہ کار قرار دیتے ہیں کہ بلاول کے ”ان“ ہونے سے مسلم لیگ نون ”آوٹ“ ہو گئی یعنی وہ یہاں بھی اس امر کو نہیں سراہتے کہ دل اور گردوں کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض نواز شریف نے بھی عدالتی فیصلوں اور جیل کی ناروا اذیت کے باوجود ایسی زبان استعمال نہیں کی جو قابل اعتراض ہوتی۔ جواب ملتا ہے کہ انہوں نے نیچے رانا ثناءاللہ اور طلال چودھری جیسے لوگ رکھے ہوئے ہیں تو جواب الجواب یہی ہے کہ کم از کم عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری جیسی سطح کی قیادت تو خود کومحفوظ رکھے، پاؤں کے کیچڑ اور چہرے کے کیچڑ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

میں یہاں ’بادشاہ گنجا ہے‘ والی مشہور روایت نہیں دہراؤں گا اور پیپلزپارٹی والوں کو ’مبارک باد‘ دوں گاکہ بلاول بھٹو زرداری نے عوامی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی مردانگی ثابت کر دی کہ ہمار ے ہاں عوامی سطح پرفحش کلامی اور یاوہ گوئی ہی مردانگی کے اظہار کا آزمودہ طریقہ سمجھی جاتی ہے، دوسرے سلیکٹرز کو مخاطب کر کے پیغام دے دیا کہ اگر یہ کام بڑھا تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں کیونکہ وزیراعظم انہی کا سیاسی چہرہ ہیں مگر بلاول بھٹو زرداری نے یہ سب کچھ کس قیمت پر کیا، وہ قیمت سیاسی تہذیب، قائدانہ اخلاقیات کے ساتھ ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تربیت کی بھی ہے۔ بلاول نے یہ جواب دے کر ایک چھلانگ لگائی ہے جس میں وہ ایک پڑھے لکھے، وضع دار، با اخلاق اور اچھے جملے باز سیاستدان سے سیدھے اپنے مخالفین کی نچلی اخلاقی سطح پر آ گرے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •