کیا عمران خان نے نواز شریف اور آصف زرداری کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے دو موضوعات پر شدت اور تواتر سے بات کی۔ چیئرمین عمران خان سے لے کر سوشل میڈیا پر سرگرم پارٹی کارکنوں اور حامیوں تک ہر ایک نے 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی اور دو جماعتوں کی مبینہ کرپشن پر ہر جگہ اور ہر موقع پر بات کی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم اعلی سطحی عدالتی کمیشن کی تحقیقات کے فیصلے سے کہ 2013 کے انتخابات عمومی طور پر شفاف تھے مبینہ دھاندلی کے خلاف مہم کافی حد تک غیر مؤثر ہو گئی۔ اگرچہ تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کے ردعمل سے ہمیشہ یہ لگا کہ انہوں نے خوش دلی سے یہ فیصلہ تسلیم نہیں کیا۔

کرپشن کے خلاف پارٹی کی مہم البتہ مزید زور پکڑ گئی۔ یہ مہم اتنی جاندار تھی اور اس میں میڈیا بالخصوص چند نجی چینلز نے تحریک انصاف کا اتنا ساتھ دیا کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اس سے متاثر ضرور ہوئی۔ ووٹرز نے عمران خان کی حمایت کا فیصلہ کیا یا نہیں لیکن گزشتہ ادوار میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کو کسی نہ کسی درجے میں بدعنوان سمجھنا شروع کر دیا۔

تحریک انصاف کی ٹوٹل سیاسی جد وجہد ان دو نکات سے شروع ہوئی، انہی پر آگے بڑھی اور انجام کار 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں سوائے سندھ کے وفاق اور تین صوبوں میں عمران خان حکومت بنانے میں کامںاب ہو گئے۔ سابق چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی والے کمیشن کے فیصلے کے بعد دھاندلی والا نکتہ غیر مؤثر ہونے کے بعد صرف کرپشن کا اشو بچا تھا۔ کرپشن کے خلاف عمران خان نے بلاشبہ ایک کامیاب مہم چلائی اور اس طرح قابل ذکر عوامی حمایت سمیٹنے میں کامیاب ہوئے۔

رہی بات تحریک انصاف کے دیگر نعروں مثلاً تعلیم، صحت, روزگار، انصاف اور دیار غیر میں سبز پاسپورٹ کی عزت کی بحالی وغیرہ کی تو ان سب دعووں اور وعدوں کو اس بنیادی شرط سے نتھی کر دیا گیا کہ پہلے بدعنوان جماعتوں سے جان چھڑاؤ، اپنے وسائل کا ضیاع رکواؤ اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں حقیقی قیادت لاؤ۔ یہ کر لو تو پھر تعلیم بھی ملے گی، صحت کی سہولیات بھی وافر ہوں گی، انصاف گھر گھر دستک دیتا پھرے گا، روزگار زیادہ اور امیدوار کم ہوں گے، بے روزگار تو دور کی بات صدقہ خیرات کا مستحق تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا، سبز پاسپورٹ کی نہ صرف عزت ہو گی بلکہ دساور سے خوشحالی کی تلاش میں لوگ دوڑے دوڑے پاک سر زمین کا رخ کریں گے۔

ان باتوں کو روایتی انتخابی وعدے کہہ کر فراموش کرنا بوجوہ آسان نہیں۔ اولاً تو ان پر اتنا زیادہ زور دیا گیا کہ عمران خان کا ووٹر بہت حد تک ابھی تک ان پر یقین رکھتا ہے۔ اپوزیشن اگر مراد سعید کی عمران خان کے حلف لینے کے اگلے روز غیر ملکی بنکوں میں پڑے کرپٹ افراد کے 200 ارب ڈالر واپس لانے، 100 ارب ڈالر قرض بیرونی قرض خواہوں کے منہ پر مارنے اور 100 ارب پاکستانیوں پر وارنے کی بات کا روز ٹھٹھا اڑاتی ہے تو حکومت کے بہت سے حامی اس پر یقین بھی رکھتے ہیں۔

ثانیاً حکومت کے پہلے نو ماہ میں ہر معاشی سرگرمی تعطل کا شکار ہے۔ معاشی اشاریے پریشان کن اور اس پر بجٹ سے قبل وزیر خزانہ کی برخاستگی عام لوگوں کے لئے مایوس کن پیغامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں کوئی فوری بہتری کسی بھی دوربین سے دیکھنی مشکل ہے۔ ایسے میں عمران خان کو بھلے احساس ہو کہ ان کے دعوے اور وعدے کم از کم اس حکومتی جنم میں تو پورے کرنا ناممکن ہیں لیکن ان سے توقعات وابستہ کرنے والوں کے لئے یہ حقیقت تسلیم کرنا اتنا سہل نہیں۔ وہ “خوشخبری” کے طلبگار ہیں۔

افراط زر، معیشت کی سست روی اور نتیجتاً روز افزوں بے روزگاری اور مہنگائی کیا اثرات مرتب کرے گی؟ ان سوالوں کے جوابات پریشان کن ہیں۔ اثرات صرف معاشی نہیں، سماجی اور نفسیاتی بھی ہوں گے۔ سیاسی حوالے سے بھی یہ مایوسی عوامی سیاسی تحرک بالخصوص متوسط شہری طبقے کی سیاسی عمل میں شمولیت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ یہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ایک سیاسی طور پر لاتعلق سماج جمہوری روایات کے لئے ضرر رساں اور آمرانہ رجحانات کے لئے موزوں ماحول ثابت ہوتا ہے۔

یہ یقینی بنانا کہ ایسا نہ ہو بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ حکومت اور حکومتی جماعت کے سربراہ کے طور پر اگر کوئی ایک فرد اس کا ذمہ دار ہے تو وہ وزیراعظم عمران خان ہیں۔ اگر حکومت میں آنے سے پہلے کرپشن کا یک نکاتی ایجنڈہ عمران خان کی حکمت عملی، مجبوری یا دیانت دارانہ مؤقف بھی تھا جس سے ان کے سیاسی اور نظریاتی خوابوں کی تعبیر وابستہ تھی تو حکومت میں آنے کے بعد اس وقت معیشت کی بحالی ہی وہ واحد ایجنڈا آئیٹم ہے جو نہ صرف حکومت کی بقا بلکہ قوم کی جمہوری امنگوں اور سیاسی سماج کے تحفظ اور آمرانہ رجحانات کی بیخ کنی کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ معیشت کی بحالی کا یہ کام وزیر اعظم عمران خان کو کرنا ہوگا۔

عمران خان جو کرپشن کے خلاف غیظ و غضب کی علمبردار عوامی تحریک کے سرخیل بن چکے، اس کام کے لئے ناموزوں ہیں۔ چیئرمین اپنے دعوؤں کے یرغمال بن چکے ہیں۔ اپنے مداحین کی توقعات کے جس رتھ پر وہ سوار ہیں وہ زرا سی دیر دم لینے کو تیار نہیں کہ عمران اپنی پوزیشن درست کر سکیں اور متبادل حکمت عملی پر غور کر سکیں۔ پیٹ پھاڑ کر قومی دولت نکالنے کا نعرہ بھلے مجمعے کو چارج کر دیتا ہو اس پر عمل ناممکن ہے۔

وزیراعظم کی زیر قیادت حکومت کو فوری طور پر مالی جرائم کے حوالے سے قانون سازی اور مروجہ قوانین میں درکار ترامیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ہی نواز شریف اور زرداری ملکی دولت لوٹنے کے مجرم ہیں تو پھر یہ بات طے ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لی جا سکتی۔ نواز شریف سے شدید نفرت کرنے والا اور ہر طرح کے اختیار کا حامل فوجی آمر مشرف اگر نواز شریف کو بدعنوانی کا مجرم ثابت نہیں کر سکا اور زمین پر بیٹھے شخص کو جہاز ہائی جیک کرنے کا مجرم ثابت کر کے اسے کینگرو کورٹس سے سزا دلوانے پر مجبور ہوا تو مان لیجیئے کہ یا تو نواز شریف کرپٹ نہیں یا آپ کے قوانین کے منہ میں دانت نہیں۔ سابق صدر زرداری اتنی جیل کاٹ چکے کہ شاید ان پر کرپشن ثابت ہو جاتی تو انہیں اتنی سزا نہ ہوتی۔ کیا کچھ برآمد ہوا؟

 وزیراعظم عمران خان کو سمجھنا چاہئے کہ عدالتوں میں سیاسی مخالفین اور کرپشن کے مبینہ ملزمان کے آئے روز کے پھیروں سے ان کے چاہنے والے جو آج خوش ہوتے ہیں کل انہی مقدمات کے بے نتیجہ ختم ہونے پر یہی چاہنے والے مایوس اور ناخوش ہو جائیں گے۔ تو اگر وزیراعظم نے نواز شریف اور آصف زرداری کو چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تو انہیں فوراً مالی جرائم کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کی طرف پیش رفت کرنی چاہئے۔ جس کے نتیجے میں لوٹی ہوئی دولت ملے۔ دس کرپٹ افراد کو جیل میں ڈال کر رکھنے کی نسبت ایک کرپٹ سے پیسہ نکلوانا فائدے کا سودا ہو گا۔ ہماری بات سمجھ نہیں آتی تو جہانگیر ترین سے پوچھ لیں جو جانے مانے کامیاب کاروباری اور عدالت عظمی سے سند یافتہ بدعنوان بھی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •