اک ٹکڑا دھوپ کا اور دوسری کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اک ٹکڑا دھوپ کا اور دوسری کہانیاں“ اسد محمد خاں صاحب کی کہانیوں کا نیا مجموعہ ہے جسے ریڈنگز لاہور کے اشاعتی ادارے ”القا“ پبلی کیشنز نے چھاپا ہے۔ اس سے پہلے اسد صاحب کی پانچ کہانیوں کی کتابوں پر مشتمل مجموعہ ”جو کہانیاں لکھیں“ کے نام سے اکادمی بازیافت، کراچی کی طرف سے 2006ءمیں چھپ چکا ہے۔ کہانیوں کی ان پانچ کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:”کھڑکی بھر آسمان“، ”بُرجِ خموشاں“، ”غصے کی نئی فصل“، ”نربدا“اور ”ٹکڑوں میں کہی گئی کہانی“

”اک ٹکڑا دھوپ کا “پر بات کرتے ہوئے خیال آتا ہے کہ آخر کون سا طریقہ اختیار کیا جائے کہ ان ”اک ٹکڑا دھوپ کا“ میں شامل بارہ کہانیوں بالترتیب ”قافلے کے ساتھ ساتھ“، ”وارث“، ”کوکون“، ”چھوٹے بور کا پستول“، ”اک ٹکڑا دھوپ کا“، ”دارو کا اڈہ“،”دانی کی کہانی“، ”دھماکے میں چلا ہوا بزرگ“، ”ملنگنی کا قصہ“، ”بوب کا چائے خانہ“، ”مادھوری بائی کی ادھوری کہانی“،اور ”ہمسائے“ سے معاملہ ممکن ہو سکے۔ پہلا خیال تو یہ آتا ہے کہ ایک سبھاﺅ سے ان کہانیوں کا خلاصہ ایک ایک کر کے بیان کردوں۔ پھر ایک دم سوچتا ہوں کہ قاری پر اتنی بے اعتمادی بھی اچھی نہیں ہوتی۔

آخر کیا ضروری ہے کہ تبصرہ لکھنے والا ساری کی ساری ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھالے۔ ادب کا سارا کام یا کام کا بیشتر حصہ تو قاری کے دم قدم سے ہے۔ پھر اس پر اعتماد بھی کرنا چاہیے۔ خلاصہ بیان کرنے میں ایک ڈر یہ بھی ہے کہ میرے پاس تو بیان کا وہ جادو نہیں جو اسد محمد خاں صاحب کے پاس ہے تو کہیں اس چاتری میں ان معصوم اہلے گہلے کرداروں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے انہیں مضروب نہ کر بیٹھوں۔ ورنہ تبصرے کا رائج طریقہ یہی ہے کہ آپ کہانی کا خلاصہ بیان کریں اور ساتھ میں کہانی میں شامل کرداروں کے لیے چھوٹا چھوٹا ہدایت نامہ لکھتے جائیں۔ اس مجرب نسخے سے تبصرہ نگار کی دھونس اور فکشن کے بیان پر قادرالکلامی بھی ظاہر ہو جاتی ہے اور تبصرہ بھی مکمل ہو جاتا ہے۔

دوسرا راستہ یہ سوجھتا ہے کہ کہانی کے بارے میں نسبتاً کارگر حربوں، کہانی کی بنت میں استعمال ہونے والے لوازمات، راوی، زمانی سطح، مکانی سطح، حقیقت کی مختلف سطحوں اور اس کے بعد بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مکانی سطح میں راوی، بیانیہ اور بیانیہ کی داخلی وخارجی سطحوں یا پھر زمانی حوالوں میں ماضی، حال، مستقبل پھر ہئیت، اسلوب، وضعیات گنوانا شروع کر دیتا ہوں۔ مگر میرے لیے یہ چاتریاں مناسب نہیں۔ بھئی یہ ہاری ساری کا فکشن نہیں۔ اسد محمد خاں کی کہانیاں ہیں۔ ثابت گتھی ہوئیں۔ سچل لوگوں والی کہانیاں، دل اور دماغ کی ہم آہنگی سے لکھی ہوئیں۔

کیسا کھرا کہانی کار ہے اسد محمد خاں۔ مجال ہے کہانی کی کوئی پرت رواروی میں اُلیکی ہو۔ سوچ سوچ کر لکھتے ہیں۔ نک سک سے درست۔ رموزواوقاف سے مزین۔ تبھی تو ایسا رنگ چڑھتا ہے کہ کہانی دیر تک پڑھنے والے کو مشغول رکھتی ہے اور کہیں بیچ میں کسی وقت وہ کچھ عطا کر دیتی ہے جو قاری کی پڑھنے میں صرف کی گئی محنت سے زیادہ ہوتا ہے۔ ”اک ٹکڑا دھوپ کا“ میں شامل آخری کہانی ”ہمسائے“ میں لگتا ہے کہ اگر ناہر سنگھ کی بیٹی ممتاز خاں کے بھتیجے آصف خاں ہی نے نکالی ہے تو قیامت آجائے گی۔ اسی دبدھا میں اسد صاحب نے کیا کچھ نہیں بیان کر دیا۔ ایک تو ریاست بھوپال دوسرا اُس وقت اُس جگہ رہنے والوں کی زندگی کا احوال۔ حال یہ ہے کہ غلط فہمی اور چیز ہوتی ہے ایسی لُٹ نہیں مچی ہوئی تھی کہ آپ کسی کی بہن بیٹی پر اُنگلی اُٹھائیں۔ مراد یہ کہ وہ سماج زمین ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے مخاصمت تو رکھتا تھا مگر دلوں میں اتنی کدورت نہیں تھی۔

اس کے ساتھ ”مادھوری بائی کی ادھوری کہانی“ ہے۔ عجیب کہانی ہے۔ پتا نہیں چلتا حقیقت کہاں ختم ہوئی اور فینٹسی کہاں شروع ہوئی۔ مموں میاں برما جاتے ہوئے پہلے سرکس اور پھر ایک لڑکی کو بچانے کی غرض سے سردار کے بنگلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اسد صاحب نے اپنے خیال کی طاقت سے اُس بنگلے میں جانے کتنی کہانیاں بھر دی ہیں۔ ”مادھوری بائی“ خیال کی جیت ہے اور دو ٹوک بات اور دوستی میں آدمی کی حد سے نکل جانے کی کہانی ہے۔ وہ سردار سے کہتا ہے کہ تم میرے دوست ہو۔ تم نے کہا یہ گاڑی پھینکنی ہے تو پھر ضرور پھینکنی ہے۔ چاہے یہ کتنی بھی قیمتی ہو۔

لو میں بھی خلاصے بیان کرنا شروع ہو گیا۔ آخر ماضی اسد صاحب کا لوبھ خزانہ ہے۔ اسی سے طاقت پکڑتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو یاد رکھتے ہیں۔ ”اک ٹکڑا دھوپ کا“ یہ کہانی اپنے اختصار میں کتنی جامعیت لیے ہوئے ہے۔

ارشاد مصطفی، جون ایلیا اور سید سلیم احمد کو کتنے سلیقے سے یاد کیا ہے۔ کہیں بھی تو جذباتیت نہیں۔ ہر لفظ واقعی دھوپ کا ٹکڑا ہے۔ اپنے ان دوستوں کی تکون میں کتنی مٹھاس بھری ہے اسد محمد خاں نے۔

کاری گر کہانی کار ہیں اسد محمد خاں۔ ہر کہانی دوسری سے مختلف۔ کہیں بھی تو موضوعات کے اعتبار سے اُکتاہٹ نہیں۔ کتنی کھلی آنکھ سے دیکھتے ہیں اسد صاحب۔ اور کہانی کو جذبات نامہ بھی نہیں بننے دیتے۔ منظروں سے برابر مدد لیتے ہیں۔ تاریخ کو ساتھ رکھتے ہیں۔ یہ وہ کہانی کار کرتا ہے جس کا اپنے ہنر سے اخلاص کا رشتہ ہے۔ اپنے لوگوں کے ساتھ دکھاوے کا معاملہ نہیں۔

ہر کہانی اپنے باطن میں اپنی معاشرت کا گہرا احساس لیے ہوئے ہے۔ ”بوب کا چائے خانہ“ مغربی تہذیب کی اپنی تہذیب سے جڑت کی کتنی عجیب وغریب کہانی سنا رہی ہے کہ وہ چائے خانے والے کا مجسمہ بناتے ہیں اور ہماری معاشرت اپنی تہذیب کے پیچھے لٹھ لے کر لگی ہوئی ہے۔ ختم کر رہی ہے۔ جیسے کوئی معاشرہ تہذیبی اعتبار سے اپنا بستر گول کرنے جا رہا ہو۔ ”ملنگنی کا قصہ“ آرٹ دشمنی کا ایک اور رنگ لیے ہوئے ہے۔ ”دانی کی کہانی“ میں لڑکی کا آغاز کوٹھے سے ہوتا ہے اور انجام ایک مولوی کے گھر۔ ”دانی کی کہانی“ میں اپنے آپ کو پڑھانے کی بڑی صلاحیت ہے۔ ”دارو کا اڈہ“ بھوکے لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑنے کا کیسا عجیب عمل ہے۔

اسد صاحب کہانی کا نام رکھنے میں ایک سریت کا التزام کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ آپ چھوٹتے ہی کہانی کار کا اندر جان لیں۔ غلام عباس کے ہاں بھی یہ چیز ہے۔ غلام عباس اپنی کہانی کے نام میں اسرار رکھتے ہیں۔ ”سایہ“،” اوورکوٹ“،” کتبہ“، ”آنندی“ کچھ پتا نہیں کہ ان کہانیوں کے اور چھور کا کیا انداز ہو گا۔ ”چھوٹے بور کا پستول“ لاجی بائی اور اُمرا کی اولاد کی کیسی کہانی ہے۔ بائی کا انجام دولت اور رئیس کے بیٹے کا کام اور منزل عیاشی ہے۔ اور اشرافیہ کیسے اپنے لوگوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔

اب کچھ کہانیاں چھپا کر رکھتا ہوں۔ آپ ”اک ٹکڑا دھوپ کا“ پڑھیں۔ جتنا کچھ کہا گیا اس سے زیادہ اسرار اور انبساط کی نگری آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ اسد صاحب کا اپنے پڑھنے والے سے شاید یہ واحد تقاضا نظر آتا ہے کہ قاری اُن کی کہانیوں کو رواروی میں نہ پڑھے۔ جس صبر سے یہ لکھی گئی ہیں اُسی لگن سے پڑھی جائیں۔ حاضر دماغ ہو کر ، تھوڑی دیر کے لیے سب کچھ بھول بھال کر۔ پھر تو آپ کے لیے اسد محمد خاں صاحب کے پاس دینے کو بہت کچھ ہے۔ کچھ چھپائیں گے نہیں اپنے قاری سے۔

اسد صاحب نیر مسعود کو پسند کرتے ہیں۔ عزیز احمد اور منٹو کو بھی۔ مگر یہ خود اسد محمد خاں ہیں۔ اسد محمد خاں۔ ”مادھوری بائی کی ادھوری کہانی“ والے اسد محمد خاں۔ ”باسودے کی مریم والے“ اسد صاحب ”اک ٹکڑا دھوپ والے “ اسد محمد خاں ”رُکے ہوئے ساون“ والے ا م خ قسط وار ٹی وی ڈراموں والے ”پارٹیشن کا سفر“، ”الزام“،” دل دریا“، ”زبیدہ، منڈی“، ”سفر“، ”شاہیں“، ”شیر شاہ سوری“۔

لیجئے دھوپ کاٹکڑا اور آپ روبرو ہو جائیں۔ میں تیسرا آدمی ایک طرف ہو جاتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •