پی ٹی ایم اور ریاست کی سرخ لکیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج جناب آصف غفور صاحب نے پی ٹی ایم کو افغانستان اور انڈیا کی جانب سے فنڈنگ دینے کے حوالے سے واضح بات کر کے اک سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔ میں پی ٹی ایم کا کبھی بھی معترف نہیں رہا، اور شروع دن سے اس بات کا اک سیاسی اندازہ رکھتا تھا کہ یہ حقوق کے رستے سے بہت جلد نسل پرستی پر اتر آئیں گے۔ وہ اتر آئے، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ریاست کی آج کے دن کھینچی جانے والی لائن سے اتفاق ہے۔

آپ اپنے شوخے پن میں بھلے ان کا مذاق اڑاتے رہیں، مگر آصف غفور صاحب اک مضبوط اور منظم ریاستی ادارے کے سنجیدہ ترجمان کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اک دو Slips کے علاوہ، انہوں نے اپنی بات کا ”ٹورا“ پورا کیا ہے۔ اک سنجیدہ خیال ہے کہ آصف غفور صاحب اس معاملہ میں ہوائی فائرنگ نہیں کر رہے۔ تو لہذا، مجھے، آپ کو یا پی ٹی ایم کو ان کی کہی بات سے اتفاق نہ ہو تو بھی، سب سے پہلے پی ٹی ایم کو ان کی کہی ہوئی اس بات کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی شوریدگی سے انکار کرنا چاہیے، گو کہ یہ آسان کام نہیں ہوگا۔ اس لیے بھی کہ قبائلیت کا مزاج لیے تحاریک بنیادی طور پر اپنی نسل پرستی کے حوالہ جات میں شاونسٹ ہوتی ہیں، تو اک ”مردانہ“ ردعمل دینا چاہتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ سستا ہیرو۔ ازم ہوتا ہے جس کا منطقی نتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا۔

آج کے دن کھنچی ہوئی یہ وہ لائن ہے جس کی بنیاد سٹیج سے اور سڑکوں سے کئی گئی بے پرواہ اور غیرسنجیدہ نعرہ بازی نے رکھی۔ اس غیرسنجیدگی پر تنقید کرنے کے نتیجے میں، آپ کا یہ خادم، پاکستان اور پاکستان سے باہر بیٹھے فیشن ایبل ترقی پسندوں کے نشانے پر بھی رہا۔ وہ آج کے دن بھی خوب ”مچھرے“ ہوں گے۔ مگر منظور پشتین صاحب اور ان کے آس پاس دیگران کو جذباتی ردعمل دینے سے انکار کرنا چاہیے۔

مجھے اک پاکستانی کی حیثیت سے پچھلے 45 برسوں سے پاکستان کے پشتون علاقوں میں مسلسل بہتا ہوا خون پریشان کرتا ہے کہ یہ پشتونوں کی ڈھائی نسلیں کھا چکا ہے۔ پہلے قوم پرستی، پھر جہاد، اس کے بعد دہشتگردی اور اب حقوق کے نام پر اس جاری شدہ تشدد کا ایندھن بننے سے انکار کرنا ہو گا۔ یہ آسان کام نہیں۔ مگر کرنے والے اکثریتی کام، آسان نہیں ہوتے۔

ریاست نے آج جو کیا، وہ چند ٹھوس معاملات کے بعد ہی کیا ہو گا، مگر اک سیاسی انتظام میں، فہم یہ ہے کہ پی ٹی ایم اور ریاست کے مابین اک رستہ بہرحال لازما کھلا رہنا چاہیے۔ اس لیے بھی کہ ریاست افرادی اور گروہی رویوں سے الگ رویہ رکھے تو بہتر رہتا ہے۔

بہتر تو یہ تھا کہ بہت پہلے ہی سٹیج اور سڑک کی غیرسنجیدگی سے انکار کر دیا جاتا۔ ایسا نہ ہوا، اور منظور پشتین صاحب کی ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جس میں وہ ایک کے بدلے دس بندے مارنے کی بات بھی کر رہے تھے۔ اس رویے نے بھی ریاست کی مقتدرہ میں ان کی مخالفت کی اک فضا قائم کی اور اس سارے پراسیس میں بڑا نقصان پی ٹی ایم کا ہی ہوا۔

ذاتی حیثیت میں، میں رومانوی آدمی نہیں رہا۔ آپ جو سوچتے ہیں اور کہتے ہیں، اس کا آپ کو حق ہے، مگر مجھے پی ٹی ایم کا کوئی منطقی انجام نظر نہیں آتا۔ ماسوائے کہ ان کو ہلہ شیری دینے والے خود محفوظ رہ کر ان کا تماشا دیکھیں گے۔ پی ٹی ایم اب مردانہ شاونسٹ ردعمل کا شکار ہوتی ہے یا فہم و حکمت سے کام لیتی ہے، یہ اس ”تحریک“ کی اپنی مرضی ہے۔ یہ بہرحال تھوڑا واضح ہوا ہے کہ شطرنج کی اس بساط پر، پی ٹی ایم کے پاس چالوں کی آپشنز زیادہ موجود نہیں۔

چند ہزار لوگوں کے جلسے، سوشل میڈیا پر شور و غوغا، ہیرو ازم کا رویہ اور اک خلائی رومانویت میں حقوق کی جدوجہد کے پرتشدد یا پرامن حوالے، پی ٹی ایم کی یا کسی بھی تحریک و جماعت کی کامیابی کی کوئی دلیل نہیں ہوتے۔ اس خلائی رومانویت میں لطف تو بہت ہوتا ہے، مگر حتمی طور پر ہلہ شیری دینے والے تماشا دیکھ کر اکثر تالیاں اور کبھی سینہ بھی پیٹ لیتے ہیں۔ زمینی حقائق، حقائق ہوتے ہیں اور حال کی گھڑی میں تو یہ حقائق پی ٹی ایم کے حق میں  Mid۔ to۔ long۔ term جاتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔

دعا ہے کہ پشتون دوست اب کسی نئے بھنور میں نہ جا الجھیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>