بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کبھی فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر اور دیگر ویب سائٹس سے فرصت ملے اور بڑوں کے پاس بیٹھ کر وقت گزارا جائے، تو ایسے بہت سے واقعات سننے کو ملتے ہیں جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے بچپن میں محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ پورا محلہ ایک ہی گھر سمجھا جاتا تھا۔

جبکہ آج کل کے دور میں ماں باپ اپنے بچوں کو اکیلے کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دیتے۔

پچھلے کچھ سالوں کی خبروں پہ غور کیا جائے تو ہمیں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بہت سے واقعات دیکھنے کو ملیں گے۔

جیسا کہ اگر اعداد و شمار پر تھوڑی روشنی ڈالی جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ 2017 میں ایک این۔ جی۔ او (ساحل) کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد 1746 تھی۔ جو کہ 2018 میں اتنی بڑھ گئی کہ جنوری سے جون تک ہی 2322 سے زائد واقعات سامنے آئے۔

پاکستان کی تاریخ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سب سے بڑا واقعہ 2015 میں قصور میں پیش آیا جس میں 20، 25 افراد نے 10 سے 14 سال کی عمر کے 280 سے زائد بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ بعدازاں ان بچوں کی سینکڑوں تصاویر اور ویڈیوز کو غیر اخلاقی ویس سائٹس پہ بیچ دیا گیا۔

اس ہی طرح ہم سب اس چھ سالہ زینب کے واقعے سے بھی آشنا ہیں جس کو اس ہی کے محلے دار عمران علی نے زیادتی کا نشانہ بنا کر، قتل کر کے کچرے کی نظر کر دیا۔

جبکہ ماضی میں ایسے واقعات کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اس زمانے میں والدین کو محلے داروں پہ مکمل اعتبار ہوتا تھا۔ اور محلے دار بھی دوسروں کے بچوں کو بالکل اپنے بچوں کی طرح ہی سمجھتے تھے۔

اگر اس بات کا موازنہ موجودہ دور سے کیا جائے تو دیکھا جائے گا کہ والدین اپنے بچوں کو قریبی رشتہ داروں کے پاس بھی اکیلا چھوڑنے سے جھجکتے ہیں۔ کیونکہ جس پر بھروسا کرو وہ ہی آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے لوگوں نے ایک دوسرے پہ اعتبار کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو ایک طرح سے یہ امر ٹھیک بھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بچوں کی ساتھ زیادتی کے نصف سے زائد واقعات میں مجرم کوئی عزیز، رشتہ دار یا پھر کوئی جاننے والا ہی ہوتا ہے۔

جن لوگوں سے بچہ واقف ہوتا ہے، ان لوگوں کے لیے سب سے آسان ہوتا ہے کہ وہ اس کو بہلا پھسلا کر کسی ویران جگہ لے جائیں۔

ماضی میں والدین کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ اپنے بچے کو فرق سمجھائیں کہ کس طرح کا رویہ رکھنے والا شخص ٹھیک ہے اور کون سا شخص ان کے لیے خطرہ ہے۔ جبکہ اب آپ کے بچے کی تربیت میں اس بات کا شامل ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ زیادتی کا شکار نہ ہو تو آپ پہ لازم ہے کہ آپ اس کو یہ بات سمجھا دیں کہ اگر کوئی شخص، خواہ وہ کوئی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، انھیں ہراساں کرتا ہے تو انھیں خاموش نہیں رہنا۔ اور اگر آپ کا بچہ کسی شخص کے ایسے عمل کی نشاندہی کرتا ہے جس سے وہ آرام دہ محسوس نہیں کرتا، تو بجائے بچے کو جھوٹا کہنے کے، اس کی بات توجہ سے سنیں اور پھر مشاہدہ کریں کہ جو کچھ آپ کا بچہ کہہ رہا ہے وہ واقعی سچ ہے یا نہیں۔

یہ نہ ہو کہ رشتہ داری کے بھرم میں آپ اپنے بچے کی بات پہ توجہ نہ دیں اور پھر یہ غفلت خدانخواستہ آپ کو کسی بڑے نقصان سے دوچار کر دے۔ کیونکہ اب کے دور میں وہ گھڑی آن پہنچی ہے کہ یہ بات ضروری ہو گئی ہے کہ آپ اپنے بچے سے واضح الفاظ میں اس حساس موضوع پہ کھل کے بات کریں۔

اگر ہم معاشرے میں موجود گندگی کو قالین کے نیچے جمع کیے جائیں گے تو کسی نہ کسی دن یہ مٹی ہماری اپنی ہی آنکھوں کو دھندلا دے گی۔ لہذا اب ہمیں اس کچرے کو صاف کرنا ہے چھپانا نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •