کانا شہنشاہ اور لنگڑی حکومت

شہنشاہ کے روبرو اسے ”کانا“ کہنا بیشک اپنی موت کودعوت دینا ہے مگر سب جانتے ہیں کہ ایک ماہر بھانڈ نے کس طرح شہنشاہ کے روبرو اسے بار بار کانا کہا اور شہنشاہ سے انعام بھی وصول کر لیا۔ میں وثوق سے کہتا ہوں وزیراعظم عمران خان نے دانستہ بلاول صاحبہ نہیں کہا اورنہ اس وقت…

Read more

دہائی اور رہائی

دنیا کے مہذب معاشروں کے سیاستدان تعمیر ریاست کے لئے سیاست کرتے اوراپنے ہم وطنوں کے لئے نجات دہندہ بن جاتے ہیں مگرہمارے ہاں سیاستدانوں کے روپ میں سرمایہ دار طبقہ ریاست کے ساتھ سیاست جبکہ قومی وقاراور مفادکوبلڈوز کرتاہے۔ بدقسمتی سے اقتدارپرست اہل سیاست کوریاست پر رحم آتاہے اورنہ رعایا کے ساتھ انہیں کوئی ہمدردی ہے۔ ہمارے ہاں ضیائی آمریت کے بعدسے نظریاتی سیاست اورنظریاتی صحافت ناپیدہوگئی، مالیاتی سیاست اورمالیاتی صحافت نے ریاست اورنظام کونیم مردہ کردیا۔سیاستدان اپنے بچاؤکے لئے ایک گہری سازش کے تحت ریاست کونہایت کمزورکر تے رہے، آج ریاست قومی چوروں کوچھوڑنے کامژداسناتے ہوئے ان سے اپنے پیسوں کی واپسی کے لئے بھیک مانگنے پرمجبور ہے کیونکہ اب ریاست میں چوروں کوزیادہ دیرتک حراست میں رکھنے کی سکت نہیں رہی۔ ہمارے نام نہادرہبرو ں نے ایساآئین بنایاجوان کے لئے موم کی ناک جبکہ عام آدمی کے لئے لوہے کاچنا ہے۔ مٹھی بھربدعنوان، بدزبان اوربے لگام سیاستدان پاکستان سمیت اس کے ریاستی نظام کوتختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔

Read more

سانحات پر سیاست

قیام پاکستان سے اب تک پاکستانیوں نے مختلف دل خراش سانحات، اندوہناک حادثات اور تلخ تجربات کا سامنا کیا، سانحہ ساہیوال بھی ان میں سے ایک ہے۔ سات دہائیوں میں متعدد قومی سانحات سیاست کی نذر ہو گئے کیونکہ ہمارے سیاستدان اپنے معمولی مفادات کے لئے قوم کے ساتھ سیاست کر جاتے ہیں۔ پاکستان میں…

Read more

بنام منصف اعلیٰ

انسان فضاؤں اور خلاؤں میں، شاہراہوں پر یا چاردیواری کے اندر جہاں بھی ہٹ دھرمی، ڈھٹائی، بے احتیاطی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرے گا وہاں اس کے ساتھ حادثہ ہونا اٹل ہے۔ حادثات اور آفات کو انسان کی قسمت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ جاپان کے خلاف امریکہ کی ایٹمی جارحیت غفلت نہیں…

Read more

یوٹرن، بچپن اور پچپن

غلطی یاگناہ کی صورت میں ”رجوع“ کرنے کادروازہ کبھی بندنہیں ہوتا، عمران خان نے بھی دین کی طرف رجوع کیا لہٰذاء ان کا اپنے ماضی سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔ قومی اخبارات کے بچوں والے ایڈیشن میں ”راستہ تلاش کریں“ ضرورچھپتا ہے، کچھ بچپن اور کچھ پچپن میں بھی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ راستہ تلاش کرتے ہوئے کئی بندگلیاں آتی ہیں، اس گیم میں رکنایاہارماننا نہیں بلکہ کامیابی سے راستہ تلاش کرنا اور ہدف تک پہنچنا اہم ہے۔

انسانوں کی زندگی میں کئی موڑ اور یوٹرن آتے ہیں مگر کامیابی کے لئے طویل صبر اور سفر کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ انسان اور اس کی منزل کے درمیان حائل فاصلے یایوٹرن نہیں بلکہ فیصلے اور ان کے نتائج یادرکھتی ہے۔ اپنی اور اپنوں کی غلطیاں معاف کرنابھی یوٹرن ہے، یقینا ایک دوسرے کو درگزرکئے بغیرکوئی رشتہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگراسلامی تعلیمات اور قرآن مجید فرقان حمید کی آیات پراجتہادہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گاتوپھر ہماری گندی مندی سیاست کی کیا اوقات ہے۔

Read more
––>