کمرہ نمبر 29، قائد اعظم یونیورسٹی شعبہ ریاضی


کچھ مقامات، عمارتیں یا راستے ایسے ضرور ہوتے ہیں جن سے آپ کی زندگی کی گہری یادیں وابستہ ہوتی ہیں، اور جب بھی آپ دانستہ یا غیر دانستہ ان جگہوں سے گزرتے ہیں، وہاں وہ مجذوب یادیں ہیولے بن کر آنکھوں کے سامنے خود کو دہرانے لگتی ہیں۔ گزرا ہوا اچھا وقت اکثر ایک سرد اداسی ہی دیا کرتا ہے۔

میری ایسی بہت سی یادیں قائد اعظم یونیورسٹی، شعبہ ریاضی کے کمرہ نمبر 29 سے جڑی ہوئی ہیں۔

پہلی بار 2010 میں ایم۔ فل کے داخلہ انٹرویو کے سلسلے میں اس کمرے میں جانے کا اتفاق ہوا تھا، ایکا جانب ڈاکٹر طارق شاہ، ڈاکٹر اسلم موجود تھے اور دوسری جانب ڈاکٹر شبیر، تینوں کے چہروں پر سنجیدگی طاری تھی، میرا یہ کسی بھی جگہ پر انٹرویو دینے کا پہلا تجربہ تھا، دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ لگتا تھا آواز میرے کانوں سے بھی باہر جا رہی ہو گی، ایسے میں ڈاکٹر قیصر مشتاق کا مسکراتا چہرہ نظر آیا، جیسے ہی میں کرسی پر بیٹھی انھوں نے نہایت شفیق انداز میں چند غیر نصابی سوالات کیے، سر کے مطمئن چہرے سے مجھے حوصلہ ملا اور میں باقی سب اساتذہ کے سوالوں کے جواب بھی دیتی چلی گئی۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں داخلہ ملنے کو میں اپنی زندگی کی پہلی اہم کامیابی سمجھتی ہوں، اور دوسری اہم کامیابی ڈاکٹر قیصر مشتاق کی سربراہی میں ایم۔ فل کا مقالہ مکمل کرنا ہے۔

اس وقت یونیورسٹی کے ہر ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ کم وبیش ایک طرح سے تھی، سیمنٹ پر بنے مخصوص ڈیزائن، جن پر کوئی پینٹ نہیں تھا مگر پھر بھی سحر انگیز تھیں۔ بلڈنگ کی اندرونی دیواریں کھردری تھیں جن سے ایک دو بار دوپٹے گھسوانے کے بعد ذرا فاصلہ رکھنا بھی آگیا تھا۔

روم 29 ڈاکٹر قیصر کے لئے متعین تھا جہاں ڈیپارٹمنٹ کے تمام اسٹوڈنٹ، پیور اور ایپلائڈ کے فرق کے بغیر سر کے پاس آیا کرتے اور اپنے مسائل بیان کیا کرتے، ہر ممکن حد تک اپنے مسائل کا حل بھی پاتے۔ سر نے ہمیشہ مافیا کے خلاف حق کا ساتھ دیا، گروپ تھیوری کے پیانئیر پروفیسر گراہم ہگمین ( آکسفورڈ یونیورسٹی) کے پاکستان میں کانفرنس کے لیے جب سر کی طرف سے بلائے جانے پر اس وقت کے چئیرمین ڈاکٹر غوری نے مخالفت کی تو تب ہی آپ نے اکیلے سب مافیا کا مقابلہ کیا اور تب بھی جب آپ پر جھوٹے الزامات لگا کر کورٹ گردی کرنے کی کوشش کی گئی، حتی کہ بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے بھی وہاں کی منفی سیاست کا بھرپور مقابلہ کیا۔ سچ کا ساتھ دینے کے لئے حق پر ڈٹ جانے کا حوصلہ ہمیں آپ سے ہی ملا ہے۔

ہم چونکہ سر کے ریسرچ سٹوڈنٹ تھے لہذا بیشتر اسی روم میں ہمارا پڑاؤ رہتا تھا، سر سے مختلف موضوعات پر گفتگو رہتی اور میں نے پہلی بار سیکھا کہ زندگی کو پرکھنے کے بہت سے اور نظریات بھی ہیں۔ ہر ہفتے ہونے والے سیمینار میں نا صرف ریاضی پر بلکہ ریسرچ اور ریسرچرز پر بھی بحث رہتی، اسی روم میں سر نے نجانے کتنی IPMC (international Pure Maths Conference) کی منصوبہ بندی بھی کی۔ پاکستان میتھمیٹیکل سوسائٹی کی بنیاد بھی رکھی جو آج بھی سب سے متحرک سوسائٹی ہے۔

کمرہ نمبر 29 سر کے ذوق کا عکاس تھا، دیواروں پر نہایت قرینے سے لگی تصاویر، لکڑی کے شیلف، ایم۔ آئی۔ ٹی اور آکسفورڈ کی اعزازی شیلڈز حتی کہ فرنیچر کی ارینج مینٹ۔ وہ محض ایک کمرہ نہیں بلکہ ایک سٹینڈرڈ تھا۔

ایک ماہ پہلے وہی یادیں کھوجنے میں یونیورسٹی پہنچی، ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھتے ہی پہلا جھٹکا ایک جنگجو کی تصویر کو دیکھ کر لگا، لیکن یہ تو پہلا جھٹکا تھا، اس کے بعد آشکار ہوا کہ دیوار کا کوئی ایک بھی ایسا حصہ نہیں چھوڑا گیا جہاں کوئی رنگین تصویر آوازیں نا ہو، کہیں اقوال ہیں تو کہیں گوگل زدہ سلائڈز کے پینا فلیکس، کہیں برصغیر کے سورماؤں کی مغرور تصویریں، یہ سب کیا ہو گیا ہے؟ کیا میں کسی پلے گروپ اسکول میں آگئی تھی؟

ڈیپارٹمنٹ کا نقشہ اتنی بری طرح بگاڑا گیا ہے کہ میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ ایسا کیا تھا کہ یہ بچگانہ عمل لازم ہو گیا۔

یہی نہیں کمرہ نمبر 29 کا دروازہ کھولا تو اندر جا بجا کیبن بنے نظر آئے، کمرے کی ہیت یکسر تبدیل کر دی گئی ہے، ایسا لگتا تھا میری یادوں کی انار کلی کو زبردستی ان کیبنز کے پیچھے دفنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ سب یقیناً بہت سے سٹوڈنٹس کے لیے تکلیف دہ ہے۔

پر مجھے فخر رہے گا کہ میرا تعلق ڈیپارٹمنٹ کے اس دور سے ہے جس نے کمرہ نمبر 29 کو آباد دیکھا تھا!

Facebook Comments HS