تحریک انصاف کے ضلعی صدر نے ملازم کے دہان زیریں میں سریا گھسیڑ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے نہیں معلوم کہ ڈرائیور اللہ رکھیو کا کیا قصور ہے؟ مگر میں اتنا جانتا ہوں قصور کتنا بھی سنگین ہو مگر اس سے سنگین تر جرم اس نوجوان وڈیرے کا ہے جس کا نام سردار افتخار لنڈ بتایا جا رہا ہے۔

گذشتہ رات سندھ کے میرپور ماتھیلو کے گاؤں علی آباد میں پی ٹی آئی گھوٹکی کے ضلعی صدر اور سردار افتخار لنڈ نے گاڑی خراب ہونے پر اپنے ڈرائیوراللہ رکھیو کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی مقعد میں لوھے کا سریا ڈال دیا۔ اللہ رکھیو اس کے پاس گذشتہ 30 سال سے کام کر رہا تھا۔ اللہ رکھیو کا کہنا ہے کہ گاڑی خراب ہونے پر پہلے سردار کے مینجر نے تشدد کا نشانہ بنایا، پھر سردار افتخار لنڈ نے لاھور سے واپس آنے پر اپنے بنگلے پر بلایا اور تشدد کرتے ہوئے اس کی مقعد میں سریا ڈالا۔ ڈرائیوراللہ رکھیو اسپتال پہنچا اور کیس ایسا تھا کہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اس ظلم کی وڈیو چند گھنٹوں میں  وائرل ہو گئی جس کے بعد آئی جی سندھ کلیم امام نے نوٹس لیا اور ایس ایس پی گھوٹکی نے اس جرم کی ایف آئی آر درج کی ہے۔

بظاہر یہ خوبصورت پڑھا لکھا نوجوان اندر سے وہی بدبودار سرداری ذہنیت رکھے ہوئے ہے جو جاگیرداری میں ان کو وراثت میں ملتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان سردارزادوں اور جاگیرداروں کے بیٹوں کے پاس جتنے وسائل ہوتے ہیں اس کی مدد سے یہ اچھے ڈاکٹر، انجنیئر، سائنسدان بنیں مگر پڑھنا تو دور کی بات اگر کوئی تھوڑا بہت پڑھ بھی جاتا ہے تو بھی اس کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی کہ ان کی تربیت ہی ایسے ماحول میں ہوتی ہے جس میں ان کو صرف ایک ہی تصویر دکھائی جاتی ہے کہ ہم سردار ہیں اور باقی سب ان کے غلام ہیں جو ان کی خدمت اور اطاعت کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔

ملک میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور افتخار لونڈ تحریک انصاف ضلع گھوٹکی کا صدر بتایا جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان صاحب اپنی پارٹی کے اس ضلعی صدر کو کیا کرتے ہیں جو لوگوں کے اندر سرا گھیڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور لوگ سوال کر رہے ہیں کہ دھرتی پر فرعون بن کر چلنے والے سرداروں کو سریا کون ڈالے گا؟

سردار افتخار لنڈ سمیت 4 ملزمان کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).