اب خوابوں کے سوداگروں کو پہچاننا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے نصف صدی قبل مارٹن لوتھر کنگ نے امریکی سیاہ فاموں کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے اپنی شہرہ آفاق تقریر میں ایک نعرہ دیا تھا، ”میرا ایک خواب ہے“۔ کم و بیش چالیس سال بعد ایک افریقی امریکی کے صدر بننے کو اس خواب کی تعبیر گردانا گیا، مگر آج بھی آپ امریکی افریقی کمیونیٹی سے پوچھیں توزمینی حقائق مارٹن لوتھر کنگ کے خواب سے کوسوں دور ہیں، ۔ تو کیا خواب دیکھنا چھوڑ دیں؟ امریکی سیاہ فاموں کے لئے اس کا جواب چاہے منفی میں ہو، مگر ہم پاکستانیوں کے لئے میرا مشورہ یہی ہے کہ خواب دیکھنا بند کر دیں۔

ہمارے خوابوں کے سوداگر ہمیشہ سے ہمارے سچے اور جینوئن خوابوں کو اپنے مفادات کے ترازو میں تول کر ہمیں آس امید کے نخلستانوں میں بھٹکنے کے لئے بے یارومددگار چھوڑ جاتے رہے ہیں۔

ہم نے ہر زمانے میں زمانے کے چلن کے مطابق درست اور برمحل خواب دیکھے، چالیس کی دہائی میں آزادی کے خواب، پچاس کی دہائی میں فری ورلڈ کے خواب، ساٹھ کی دہائی میں ”صنعتی انقلاب“ کے خواب، ستر کی دہائی میں ”روٹی کپڑا اور مکان“ کے خواب، اسی کی دہائی میں ”نظامِ مصطفٰی“ کے خواب، نوے کی دہائی میں ”سب سے پہلے پاکستان“ کے خواب، اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں ”میثاقِ جمہوریت“ اور دوسرے عشرے میں ”نئے پاکستان“ کے خواب۔ یہ تمام خواب اپنے اپنے دور کے عصری تقاضوں کے عین مطابق اور ان کی بھر پور عکاسی کرتے تھے، مگر ہمیں ہمیشہ خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے والے رہنماؤں کی جگہ خوابوں کے بیوپاری ملے، اپنے ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات کے عوض یہ رنگین خوش نما اور مسحور کن خواب فروخت کرنے والے سوداگر!

ہم کیوں ان سوداگروں کے دام میں گرفتار ہو جاتے ہیں؟ پہچان کی کون سی کسوٹی ہمیں دھوکہ دے جاتی ہے کہ ہم بار بار انہی دکانداروں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں؟

اس لئے کہ ہم خواب تو دیکھتے ہیں مگر خوابوں سے تعبیر تک کے سفرسے ناواقف ہیں۔ یہ سفر جسے انقلاب کہا جاتا ہے، دنوں مہینوں یا سالوں کا نہیں، عشروں اور صدیوں کا ہوتا ہے۔ انقلاب کے لئے پہلا قدم اٹھانے والے کبھی اپنے انقلاب کو رونما ہوتا نہیں دیکھتے۔ آئندہ نسلیں ان کا ذکر کرکے بتاتی ہیں کہ انہوں نے انقلاب بپا کیا تھا۔ یہ ایک پراسس کا نام ہے، جبکہ ہماری ہسٹری کی تعلیم ہمیں انقلاب کوایک واقعہ کی طرح دکھاتی ہے، ایک دن، ایک تاریخ، ایک ہندسے کی طرح۔

ہمارا تخیل انقلابِ فرانس کچھ یوں دیکھتا ہے جیسے بس ایک دن ایک ہجومِ سرکشاں محلوں پر حملہ آور ہوا اور اگلے دن فرانس آج والے فرانس کے سانچے میں ڈھل گیا۔ ایک دن ماؤزے تنگ نے مارچ کی اور اگلے دن چین کے افیمی عوام آج کے محنت کش بن گئے۔ ہم تو اپنی برِصغیر کی تاریخ کا بھی یونہی تصور کرتے ہیں کہ پہلا ہندو مسلمان ہوا اور کلمہ پڑھتے ہی کہنے لگا ”چلو بھئی پاکستان بنائیں“۔

ہم پلک جھپکتے میں اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں۔ اسی لئے ان شعبدہ باز خوابوں کے سوداگروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے دعووں سے ہمیں سبز باغ دکھا کر، اپنے خواب بیچ کر ہمیں جھوٹی، بے صبری امیدوں کے سہارے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم ایک ٹولے کے فسوں سے نکلنے کے لئے اگلے ٹولے کی افیون کو اپنے زہر کا تریاق سمجھ کر چاٹ جاتے ہیں۔

جب تک ہم یہ نہیں جان لیتے کہ انقلاب کی سرسوں ہاتھوں پر نہیں جمائی جاتی، جب تک ہم خوابوں کے سوداگروں کو پہچان نہیں لیتے، خدارا خواب دیکھنا چھوڑ دیں، کیونکہ ٹوٹتے ہوئے خوابوں کی فرسٹریشن آگے بڑھنے کی لگن اور حوصلے کی سب سے بڑی قاتل ہے۔

میرا عمران خان صاحب سے بنیادی طور پر یہی اختلاف رہا ہے کہ انہوں نے خوابوں کی تعبیر از حد سہل اور سبک خرام بنا کر پیش کی۔ آج کے معروضی حالات میں سمت کی غیر موجودگی اور کمٹمنٹ کی کمی اپنی جگہ، لیکن یہ سب میسر بھی ہوتا، اور ایک انتھک، محنت کش، قابل اور کمٹڈ ٹیم کی موجودگی میں بھی دکھائے گئے خوابوں کی تعبیر دس مہینوں میں تو کیا دس سالوں میں بھی ممکن نہ تھی۔ یہی وہ غیر حقیقت پسندانہ دعوے ہیں جن کا خمیازہ آج رائے عامہ کے غیض و غضب، فرسٹریشن اور بیزاری کی شکل میں پوری قوم بھگت رہی ہے۔ کپتان صاحب کے پیشِ نظر کرکٹ میچ کی بصیرت کے مطابق میچ (الیکشن) جیتنے تک کی حکمتِ عملی ہی تھی، یہ سمجھے بغیر کہ سیاست اور کھیل میں یہی فرق ہے کہ سیاست میں امتحان جیتنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

پاکستانیوں کو سمجھنا ہوگا کہ پلک جھپکنے میں انقلاب نہیں آتے، صرف خواب دیکھے جاتے ہیں، خوابوں کے یوٹوپیئے میں رہنے کی بجائے، اپنے حصے کی شمع روشن کرتے جائیں۔ ایک قدم اٹھائیں، ایک ہاتھ بڑھائیں، آج صرف یہی کرلیں تو اگلی صدی کی ٹیکسٹ بکس میں ہمارے انقلاب کا ذکر ضرور ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •