شرافت یا جنسی بزدلی

ڈاکٹر خالد سہیل نے میرے ناول اے تحیر عشق کے کرداروں کاجنسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ خالد سہیل اور میری دوستی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہمارے نظریات میں 180 درجے کا تضاد ہونے کے باوجود نہ کبھی لڑائی ہوتی ہے اور نہ کبھی ایک دوسرے کو تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ ہم دونوں لکم دینکم ولی دین پر ایمان رکھتے ہیں، مگر چونکہ یکم مئی کے ہم سب میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے مجھے خلعت پارسائی سے نوازا ہے اور خود کو عاصی و پاپی قرار دیا ہے لہٰذا چارو ناچار تبلیغ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اگلی بار جب ان سے ملوں گا تو کہوں گا کہ ”اے میرے بھائی، جب تم نے اپنی بیماری کی تشخیص کر ہی لی ہے تو اس کا سیدھا سادھا علاج یہ ہے کہ توبہ کرلو کیونکہ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ “

یہ تو خیر جملہ معترضہ تھا اور چونکہ میں اس تحریر میں ایموجی استعمال نہیں کرسکا لہٰذا آپ کو میری مسکراہٹ نظر نہیں آئی۔ بات صرف اتنی تھی کہ میں نے خالد سے فرمائش کی تھی کہ وہ اے تحیر عشق کے دوکرداروں، بلال اور مومنہ کا نفسیاتی تجزیہ کریں کیونکہ ان دونوں کا رشتہ بڑا پیچیدہ ہے۔ بلال کالج کا طالب علم ہے اور پڑوس کے بچوں کو شام کے وقت ہوم ورک کرانے کے لئے جمع کرلیتا ہے۔ محلے کے بچے اسے بھائی جان کہتے ہیں اور وہ ان کے لئے ایک مثالی شخصیت بن جاتا ہے۔

بلال اپنے اس رول پر فخر کرتا ہے۔ جب مومنہ پڑوس میں آتی ہے تو بچوں کو مقناطیس کی طرح کھینچ لیتی ہے اور وہ بلال کو چھوڑ چھاڑ کر مومنہ کے گرد جمع ہونے لگتے ہیں۔ اس وقت تک بلال کی مومنہ سے ملاقات نہیں ہوئی ہوتی مگر اسے مومنہ کے تذکرے سے چڑ ہونے لگتی ہے۔ جب اس کا مومنہ سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ مومنہ ایک برقعہ پوش لڑکی ہے۔ وہ صرف مومنہ کا برقعے سے نکلا ہوا ہاتھ دیکھتا ہے جس میں ایک کتاب دبی ہوئی ہے جو اس کی بھی پسندیدہ کتاب ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا ہے مومنہ بلال کے اعصاب پر سوار ہوجاتی ہے۔ کبھی وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے مومنہ سے عشق ہو گیا ہے، کبھی اسے اپنا دیوانہ پن سمجھتا ہے۔ جب دونوں اگلے سال یونی ورسٹی میں پہنچتے ہیں اور بلال اور مومنہ کی ملاقات ہوتی ہے تب بلال کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے حد منہ پھٹ، بدتمیز اور لڑاکا لڑکی ہے اور بات بات میں بحث کرتی ہے۔ بلال کبھی مومنہ سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی اس کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔ کبھی وہ سوچتاہے کہ مومنہ اس کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہے اور کبھی فلرٹ کررہی ہے۔

میرا اور خالد کا اختلاف اس بات پر ہوا کہ میرے نزدیک بلال کو مومنہ سے عشق ہوگیا تھا اور خالد یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ بغیر دیکھے بھالے عشق ہوسکتا ہے۔ ان کے نزدیک عشق کے لئے ضروری ہے کہ نظریں ملیں، راز ونیاز کی باتیں ہوں اور اگر نوبت بوس و کنار تک پہنچ جائے تو سونے پر سہاگا، مگر میرے نزدیک جب شہزادہ جان عالم کے طوطے نے شہزادی انجمن آرا کے حسن کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے تو شہزادہ ہزار جان سے فریفتہ ہو کر جنگل جنگل صحرا صحرا خوار ہوتا پھرا۔ اگر یہ عشق نہیں تھا تو کیا تھا؟ بھئی ہمارے زمانے میں تو عشق ایسے ہی ہوتا تھا۔

ممکن ہے کہ کچھ قارئین کو اندازہ ہوجائے کہ مومنہ کا کردار ذرا الجھا ہوا ہے، کیونکہ وہ برقعہ پہنتی ہے اور یونی ورسٹی میں بھی نقاب ڈالے رہتی ہے مگر کیا وہ واقعی مذہبی اور قدامت پسند ہے یا پھر پارسائی کا لبادہ اوڑھے پھرتی ہے؟ اس کے والدین بھی کچھ ایسے مذہبی نہیں ہیں۔ بلال اور مومنہ کی بحثوں میں کبھی مذہب پر بات نہیں ہوتی۔ ایک بار بلال اس کے برقعے کا حوالہ دیتا ہے تو وہ بھڑک جاتی ہے۔ کیا مومنہ کسی مجبوری کی بنا پر اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور ہے؟ ان سوالوں کا جواب تو ایک قاری ہی دے سکتا ہے۔

بلال جب پہلی بارمومنہ کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ ایک طرف ہٹ کر اسے راستہ دیتا ہے اور جب وہ برابر سے گزرتی ہے تو وہ نظریں نیچی کرلیتا ہے تاکہ بقول اس کے مومنہ یہ نہ سمجھے کہ وہ کوئی غنڈہ ہے جو لڑکیوں کو گھورتا ہے۔ خالد کے نزدیک یہ بلال کی بزدلی اور جنسی کمزوری ہے حالانکہ اس زمانے کے لحاظ سے یہ شرافت اور آداب میں شمار ہوتا تھا۔ خالد کے مضمون سے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید انہیں اس ثقافت اور ان آداب کا زیادہ ادراک نہیں یا اس ثقافت سے دلچسپی نہیں جو اس کہانی میں پیش کی گئی ہے اور اس کا احاطہ سنہ 40 کی دہائی سے سنہ 60 کی دہائی تک ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی دنیا میں جو ثقافتی انقلاب آیا اس سے پہلے مغرب میں بھی کم و بیش وہی قدریں تھیں۔ جب خواتین سامنے آتی تھٰیں تو مرد ہیٹ اتار کر انہیں سلام کرنے کے لئے سر جھکاتے تھے۔

خالد نے بلال اور مومنہ کے تعلق کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے بجائے سارے کرداروں کا جنسیاتی تجزیہ کرڈالا۔ ان کے نزدیک سارے کردار جنسی بزدلی کا شکار ہیں۔ خالد ماہر نفسیات ہیں اور اس تجزیے سے ایسا لگتا ہے کہ فرائڈ کے پیرو ہیں۔ بقول شخصے فرائڈ کے نزدیک تو اس کائنات کی واحد حقیقت اندام نہانی ہے اور تمام بنی نوع انسان فقط اس کا ایک ضمیمہ ہے۔ ان کے نزدیک اے تحیر عشق کے کردار شریف نہیں بلکہ اپنی جنسی بزدلی کو چھپانے کے لئے شرافت کی چادر تانے رہتے ہیں۔

شکر ہے کہ معاشرے کی تشکیل میں کچھ پابندیں شامل رہی ہیں۔ اگر ان پابندیوں کی کوئی ضرورت نہ محسوس کی جاتی جوتہذیب، ثقافت، اخلاقی اقدار، ادب و آداب اور مذہب نے عائد کی ہیں اور اگر معاشرے کو مادر پدر آزاد چھوڑ دیا جاتا توآج بھی انسان ہاتھ میں ڈنڈا لئے اپنے غار سے نکلتا اور اپنی پسندیدہ مادہ کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹتا ہوا غار میں لے جاتا۔

راسپوٹینوں نے انسانی ارتقاء اور ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ہمارا معاشرہ ان لوگوں کا مرہون منت ہے جنہوں نے ہماری بھاگتی دوڑتی زندگی کے لئے وسائل ایجاد کیے اور جن کے لئے: راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words