ایم آر ڈی تحریک اور سندھ کی سورما بیٹیاں: زندانوں کی خیر نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1980 کی دہائی کا زمانہ تھا۔ مارشل لا کا کالا قانون اپنے آب و تاب سے ملک پر حکمرانی کر رہا تھا۔ بیچارے عوام سہمے اور خوفزدہ سے اپنے گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے تھے۔ سیاسی سرگرمیاں تو کجا سیاست پر بات کرنے پر بھی کوڑے لگنے کا ڈر رہتا۔ پاکستان کا مطلب تو اب پھانسی، کوڑے اور سزا ہی رہ گیا تھا۔ یہ اسی دور کی باقیات ہے کہ اب بھی کچھ ہوٹلوں پر لکھا ملتا ہے کہ یہاں سیاسی گفگتگو کرنا منع ہے۔ ملک بھر کی جمہوریت پسند قوتوں نے تحریک بحالی جمہوریت کی بنیاد ڈال دیے تھے اور 14 اگست 1983 سے پورے ملک میں ایم آر ڈی کی جدوجہد کا آٰغاز ہو چکا تھا۔

سندھ دوسرے صوبوں کے برعکس زیادہ جمہوریت پسند ہونے کی وجہ سے زیادہ عتاب میں تھا۔ ایم آر ڈی کی جدوجہد تھی تو پورے ملک کی جدوجہد مگر سندھ میں پیپلز پارٹی اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تاریخ رقم کی۔ اگلے ہی دن یعنی 15 اگست کو عوامی تحریک اور کسانوں کے مشھور رہنما محترم فاضل راھو کو گرفتار کیا گیا۔ فقط نو ماہ پہلے 26 نومبر 1982 کو فاضل راھو کے گاؤں راھوکی میں سندھیانی تحریک کی بنیاد ڈالی گئی تھت جس میں اکثریت دیہات کی انپڑھ کسان اور مزدور خواتین کی تھی۔

گو سندھیانی تحریک سے پہلے بھی سندھ میں خواتین کی کچھ تنظیمیں کام کررہی تھیں مگر وہ سندھ کی عورتوں کی نمائندہ تنظیمیں بن کر نہ ابھر سکیں۔ ان میں سے اکثر سرمایہ دارانہ، اعلا اور متوسط طبقہ کی پڑھی لکھی خواتین پر مبنی مرد دشمن سوچ کو لے کر چلنے والی تنظیمیں تھیں۔ جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہمارے معاشرے میں عورت جو کہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے وہ اپنے بیٹے، بھائی، باپ اور شوہر کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مل کر عورتوں کے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کے حل کے لئے کوشش کرے اور جب دھرتی ماں پر کڑا وقت آئے تو مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرے۔

سندھیانی تحریک کی پہلی مرکزی کنوینر شھید فاضل راھو کی بیٹی شھناز راھو کو چنا گیا جبکہ جنرل سیریٹری خدیجہ کیڑانو بنیں۔ ابھی سندھیانی تحریک گویا ماں کے پیٹ میں نو مہینے پلنے والے بچہ کی مانند ہی تھی جو کہ ابھی اس طرح منظم نہ ہو پائی تھی مگر اس نو زائدہ بچہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جن کے خوف سے نذرل اسلام اور ٹیگور کی بیٹیاں بانس کے لکڑوں میں لٹک کر خودکشیاں کرتی تھیں اس قوت سے جب لڑنے کا موسم آیا ہے تو وہ بھی جمہوریت کے لئے اپنے مجاھد بھائیوں کے ساتھ کسی بھی طرح پیچھے نہ ہٹیں گی اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ سخت سرکاری رکاوٹوں کے باوجود بھی سندھیانی تحریک کی دیہاتی خواتین نے حیدرآباد میں شاندار مظاہرے کرکے اھم شاھراہوں اور چوکوں سے 30 سے زائد عورتوں نے گرفتاریاں پیش کیں جس میں 12 سال کی بچیوں سے لے کر 50 سال کی خواتین بھی شامل تھیں۔

عوامی تحریک کے رہنما رسول بخش پلیجو اور فاضل راھو سمیت دوسرے کارکنان کی مائیں، بیٹیاں، بہنیں، بیویاں، بھتیجیاں، بھانجیاں شامل تھیں اور یہی طرز عمل تو اس سندھیانی تحریک کی طاقت رہا ہے۔ ان عام انپڑھ دیہاتی عورتوں نے بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے ساتھ اسی دور میں اسی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

شھید فاضل راھو کی بہن مریم راھو، ان کی بیٹی شیربانو اور ان کی بیوی لالبائی نے بھی گرفتاریاں پیش کی تھیں۔ مریم راھو نے جیل میں اپنی ڈائری ”زندانوں کی خیر نہیں“ لکھی ہے جوکہ اس جدوجھد کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے تو ایک تاریخ بھی۔ گو اس ڈائری کا کافی حصہ تو ان سے کہیں گم ہوگیا پر جو کچھ بچا اور چھپا ہے وہ زبان کی ہمہ جہیت کی وجہ سے ایک ادبی فن پارہ کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی دستاویز کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ڈائری کا اھم حصہ وہ منظر ہے جس میں سندھیانی تحریک کی بہنوں نے گرفتاریاں پیش کی ہیں۔

کوئی عبدالقادر جونیجو یا نورالہدیٰ شاہ جیسے لکھاری ہوتے تو اس منظر کی ڈرامائی تشکیل ہی کر ڈالتے۔ مریم لکھتی ہیں ”اسماعیل بینر لے آیا جس پر یہ نعرے لکھے تھے مارشل لا مردہ باد، جمہوریت زندہ باد، ایم آر ڈی زندہ باد، سیاسی قیدی رہا کرو، جمہوریت بحال کرو۔ ہم سب نے اجرکیں پہنیں اور بینر ان کے اندر چھپا لیے۔ اسماعیل نے اچھا مشورہ دیا کہ ہجوم کی صورت میں نہ جاؤ ورنہ مقررہ جگہ پر پہنچنے سے پہلے ہی پولیس انتظامیہ خبردار ہو جائے گی۔

آج کے جلوس میں گرفتاری ادی غلام فاطمہ اور کلثوم کو پیش کرنی تھی۔ جلوس کا وقت 11 بجے  مقرر تھا۔ ہم ساڑھے دس، پونے گیارہ شفٹوں کی صورت میں گھر سے نکل پڑیں۔ پہلی شفٹ میں دو چار بہنیں اور پھر دوسری میں میں، حسنہ اور شھربانو گئے۔ بہت ساری بہنیں پہنچ چکی تھیں۔ سب شاپنگ کے بہانے بازار کے چکر کاٹ رہی تھیں۔ جو ایک دوسرے کو پہچان رہی تھیں وہ گزرتے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا بھی ملا رہی تھیں مگر آپس میں بات کوئی بھی نہیں کر رہا تھا۔

بازار میں پولیس عملدار بھی رائفلیں گلے میں ڈالے چکر کاٹ رہے تھے۔ بس وقت مقررہ پر تقریباً کوئی دو سو کے لگ بھگ عورتیں آکر ایک جگہ اکٹھا ہوئیں۔ پولیس عملداروں میں کھلبلی سی مچ گئی۔ ادی غلام فاطمہ اور کلثوم کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ادی غلام فاطمہ نے اپنی تقریر شروع کی۔ ہر طرف نعرے گونج رہے تھے اور اتنی بلند آواز میں تھے کہ کوئی بھی کسی کی آواز صحیح طرح نہ سن پارہا تھا نہ سمجھ۔ اسی طرح نعرے لگاتے ہم نے جا کے رستہ بلاک کر دیا۔

دوسری طرف پولیس انتظامیہ ادی غلام فاطمہ کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے منتیں کرنے لگی مگر انھوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کی وہ تب جائیں گی جب لیڈیز پولیس انہیں لینے آئے گی۔ لیڈیز پولیس کو بلایا گیا اور تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد انہوں نے آکر انہیں گرفتار کرکے گاڑی میں بٹھایا۔ ہم سب ادی غلام فاطمہ اور کلثوم کو خدا حافظ کہنے کے لئے چیونٹیوں کی طرح ان سے چمٹ گئے۔ ”آگے وہ اپنی گرفتاری کا بھی منظر پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں“ 8 ستمبر 1983 کا سورج اپنے آب و تاب سے چمک رہا ہے۔

آج 11 بھے مدرست البنات اسکول کے چوک پر اکٹھا ہونا ہے جہاں مجھے اور شبانہ کو گرفتاری دینی ہے۔ ہم اسی طرح مقررہ جگہ پر پہنچ کر چکر کاٹنے لگے۔ بس اشارے کی دیر تھی۔ سامنے سے ایک بھائی نے سب بہنوں کو چوک پر اکٹھا ہونے کا اشارہ دیا۔ مجھے اور شبانہ کو ہار پہنائے گئے۔ میں نے بڑی پرجوش تقریر کی۔ شھر کے سب لوگ دکانیں بند کرکے یہ منظر دیکھنے کے لئے اکٹھا ہوگئے تھے۔ اخباری نمائندے فوٹو نکال رہے تھے۔ پولیس نے ایک دم ہمیں گھیر لیا۔ میں نے ابھی تقریر ختم ہی کی تھی کہ لیڈیز پولیس نے آکر مجھے اور شبانہ کو گرفتار کرلیا۔ ”

تھانے پر ان سے جو پوچھ گچھ کی گئی اس کا اہم نکتا یہ تھا کی کس کے اکسانے پر یہ گرفتاریاں پیش کی جا رہی ہیں۔ مریم کی اس ڈائری میں گلشن پولیس والی اور نرگس پولیس والی کے آپس کے جھگڑے اور قصے پڑھ کے جہاں مزہ آیا وہاں جیل کی سختیاں اور مختلف کرمنل قیدی عورتوں کے ساتھ وقت گذارنے کے لمحے بھی محسوس کیے۔ سندھیانی تحریک نے جہاں جیل سے باہر ہر ظلم کو للکارنے کی قسم اٹھا رکھی تھی وہاں وہ جیل کے اندر کوئی زیادتی یا ناانصافی کیسے برداشت کرتی۔

مریم لکھتی ہیں ”ادی نورجھان نے کہا کہ یہ کھولی تو بہت چھوٹی ہے۔ ہم سب کو سونے میں بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ آو آج جلوس نکال کر یہ مطالبہ کریں کہ یا تو ہمیں کوئی دوسری بڑی کھولی دے دیں یا پھر اس کھولی کا دروازہ رات کو کھول کر سونے کی اجازت دیں تاکہ آدھی عورتیں اندر اور آدھی باہر سو سکیں۔ ادی کی اس بات کی ہم سب نے تائید کی۔ پروگرام کا وقت دس گیارہ بجے مقرر کیا گیا۔ ہر کوئی اپنی تقریر کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ ساری بہنیں وقت مقررہ پر پہنچ گئیں۔

شاہ جی سپاہی کا چہرہ یہ سب دیکھ کر غصہ سے لال ہوگیا تھا۔ شاہ جی کو آگے پیچھے ہوتا دیکھ کر سب بہنوں نے آپس میں طے کیا کہ اگر شاہ جی اور قمر شاہ نے کوئی گڑبڑ کی تو ان دونوں کو باتھ روم میں بند کردیں گی۔ جلوس شروع ہوگیا۔ سب نے باری باری تقریریں کیں۔ عام قیدی عورتیں تقریریں سن کر بہت خوش ہوئیں۔ جیل کے سپاہی ہاتھ جوڑ کے منتیں کرنے لگے کہ آپ کے جو بھی مطالبات ہیں پورے کیے جائیں گے بس خاموش ہو جاؤ۔ جلوس تقریباً ڈہائی تین گھنٹے چلا۔ سیاسی قیدی بہنوں کی کھولیوں کے دروازے کھلنے کی خوشی میں سب کے چہرے چمک اٹھے تھے۔ ”

شھناز راھو نے جو جیل کے خطوط مرتب کیے ہیں اس میں فاضل کی بیٹی شھربانو جیل سے ایک خط میں اپنے بابا کو لکھتی ہیں کہ ”یہاں سب سندھیانی تحریک کی عورتوں سے بہت متاثر ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مرد اور عورتیں حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ جیل کے اندر جہاں اتنی تکالیف ہیں ہم کبھی بھی آپس میں لڑتے کیوں نہیں۔ “ فاضل کی بیوی لال بائی جیل سے اپنی بیٹی کو خط میں لکھتی ہیں ”جب ہم جیل سے رہا ہوں تو دوسروں کو باشعور کریں اور جیل سے اتنے ہوشیار ہوکر نکلیں کہ دنیا کہے کہ کیا کہنے، جیل تو بھلے یہ شیرنیاں جائیں۔ “

مریم کو یہ کتاب لکھنے اور چھپانے پر مبارک اور امید ہے کہ اس تاریخی جدوجھد میں جن لوگوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا وہ اپنے اپنے حصہ کی تاریخ ضرور رقم کریں گے کیونکہ تاریخ رقم کرنا بھی اسی جدوجھد کا ایک حصہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •