بخدمت جناب ڈی جی، آئی ایس پی آر صاحب !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادارے اور ان کی حدود کار کا تعین برسوں کی انسانی کاوشوں کا ثمر ہے اور اس کا مطمح نظر یہی تھا کہ معاشرے کی دانش اجتماعی بروئے کار لاتے ہوئے فلاحی ریاست قائم کی جاسکے۔ ہمارے گردوپیش کی دنیا اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جہاں جہاں جمہوریت اور اس کے زیر سایہ عدلیہ، مقننہ، ایگزیکٹو میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر ادارے اپنی معین حدود میں مصروف کار ہیں وہاں وہاں خوشی اور خوشحالی ہے۔ اور ان ممالک و اقوام کی اقوام عالم میں قدرومنزلت ہے۔ جبکہ شخصی اور ادارہ جاتی مطلق العنانیت کے زیر سایہ رہنے والی ریاستیں دولت کی فراوانی کے باوجود بھی دنیا میں وہ مقام نہیں رکھتیں جو اتنے ہی وسائل کی حامل ایک حقیقی جمہوری ریاست کو حاصل ہوتا ہے۔

وطن عزیز بھی جمہوریت، بنیادی جمہوریت، مارشل لاء کے تجربات کرتا ہوا سلیکٹیڈ یا کنٹرولڈ جمہوریت کے ساتھ ساتھ اب کنٹرولڈ میڈیا کے دور زریں سے بصد شان و شوکت گزر رہا ہے۔ یوں تو پردے کے پیچھے تمام عالم میں جمہوریت اور میڈیا مینجمنٹ ہوتی ہے۔ لیکن وہاں ”پردے“ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ جانفزا عمل اس نفاست اور رازداری سے کیا جاتا ہے کہ صرف اہل نظر ہی اس کو جان پاتے ہیں۔ عامتہ الناس اس سے واقف نہیں ہو پاتے۔ اور اگر ان کو خبر ہو بھی جائے تو وہ فرشتوں کے نشان پا کو نہیں پہنچ پاتے۔

لیکن خداجانے کیا افتاد آ پڑی یا کس کو کیا سوجھی کہ ہم نے اس رسم پردہ داری کو تیاگتے ہوئے سر بازار می رقصم کا نعرہ مستانہ لگایا اور اکھاڑے میں اتر گئے۔ حالانکہ کہ استاذی سہیل وڑائچ صاحب دھائی دیتے رہے کہ بھلے مانسو Deep state should remain deep۔ لیکن ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور قبل از انتخاب وفاداریاں تبدیل کرنے کے عمل میں محکمہ زراعت تک کا نام نامی اسم گرامی لوگوں کی نوک زباں پر آگیا۔ تمام مراحل شوق طے کرتے ہوئے ہماری ممدوح پی ٹی آئی سریر آرائے مسند اقتدار ہو گئی اور اپنے دعووں کے علی الرغم عوامی توقعات کا محل زمیں بوس کر دیا۔

تو اس کی کابینہ میں مدد بہم پہنچائی گئی۔ اور اب حکمران جماعت کو پی پی کی طرف سے یہ طعنہ مل رہا ہے کہ وزیراعظم بھی ہمارا لے آئیں، کابینہ تو آچکی ہے۔ کیونکہ کابینہ میں غیر منتخب نورتنوں کی بھرمار ہو چکی ہے۔ اور یہ سب نورتن الیکشن ہارنے کے باوجود اقتدار کی غلام گردشوں میں پہنچ چکے ہیں۔ اس سے ان کے سیاسی رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اور منتخب لوگوں کو پیچھے دھکیلنے ہوئے اقتدار کی فرنٹ سیٹ پر قابض کروا دیے گئے ہیں۔ اور اپنے فرائض منصبی ”بطریق احسن“ ادا کر رہے ہیں۔

اک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری جانب تمام پاکستان مخالف قوتیں بھی یکجا ہوکر چہار جانب سے وطن عزیز پر مائل بہ یورش ہیں۔ کوئی اپنی عشروں کی ناکامیوں کو ہمارے سر منڈھنا چاہتا ہے تو کسی کو کشمیر میں فروغ پا چکی تحریک آزادی کے پیچھے ہمارا ہاتھ نظر آرہا ہے۔ حالانکہ اس امر کا ماضی قریب میں کوئی ثبوت بھارت کے پاس نہیں۔ ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر بھی غیر ریاستی عناصر کی پاکستانی حدود میں چاند ماری کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

ابھی کل ہی پاک۔ افغان سرحد پر باڑ لگاتے ہمارے جوانوں پر سرحد پار سے درجنوں افراد نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ جس میں 3 جوان شہید ہوئے۔ بھارت بھی الیکشن مہم میں ہمیں گھسیٹ رہا ہے اور دو ایٹمی ممالک میں معاملات فضائی حملوں تک گئے۔ اور ایک رات بھارت نے 9 ایٹمی وار ہیڈ والے میزائل لگا دیے تو جوابا ہم نے 12 میزائل کھلے آسمان تلے کر دیے تاکہ دشمن کسی بھول میں نہ رہے۔

سرحدوں کے اندر معاشی صورتحال کم از کم تسلی بخش قرار نہیں دی جا سکتی اور حکومتی ناکردہ کاری کا ملبہ ان کو لانے والوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسی لیے پوچھا کہ عمران بتائیں، ان کو ایمپائر کی انگلی کیسی لگی اور لانے والوں کو کیسی لگی تبدیلی؟

اندریں حالات ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب نے ایک دھواں دار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا کو آفر دی کہ وہ ہر ہفتے ان کو کسی بھی موضوع پر ٹاک شو میں بلوایا کریں۔ ان کی یہ فراخدلانہ پیشکش اپنی جگہ قابل ستائش ہے لیکن سوال یہ ہے کہ معیشت کی بحالی، مدارس کو قومی دھارے میں لانا اور از قسم سیاسی معاملات کب سے ان کے فرائض منصبی میں شامل ہوگئے؟ کمترین کی ناقص فہم کے مطابق تو آئی ایس پی آر کا کام افواج پاکستان سے متعلق معلومات لوگوں تک پہنچانا ہے۔

اب اگر محترم ڈی جی صاحب میڈیا ٹاک شوز میں جلوہ افروز ہوں گے تو کیا ون آن ون شوز ہوں گے؟ اگر ہاں تو یہ کام تو پریس کانفرنس کرکے کیا جا رہا ہے۔ اگر دوسرے لوگوں کو بھی شریک گفتگو کیا جائے گا تو بحث مباحثے میں کون جیتے گا؟ کون ہارے گا؟ اگر آپ کے دلائل مضبوط رہے تو وہ آپ کی ذاتی لیاقت تصور ہوگی۔ لیکن اگر آپ بحث میں کھیت رہے تو ہمارے قومی ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھے گا۔ جو کہ خوشگوار بات نہیں ہوگی۔ دریں وجوہ احقر کی گزارش ہوگی کہ ڈی جی صاحب کے ذہن رسا میں معیشت، سیاست اور سماج سدھار کے جو بھی نادر و نایاب منصوبے ہیں ان کو وہ اپنی ممدوح حکومت اور کابینہ میں شامل نابغوں کے ذریعے ہی کر عملی جامہ پہنا لیں اور بہ نفس نفیس اس دشت خار زار کی سیاحی کو نہ نکلیں تو اچھا ہوگا۔ کیونکہ ہم۔ کسی بھی میدان میں اپنی آخری دفاعی لائن کو ہزیمت اٹھاتے نہیں دیکھ سکتے، چاہے وہ سیاسی میدان ہی کیوں نہ ہو۔ !

حضور کی عین نوازش ہوگی۔

العارض۔

اک پاکستانی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •