مسلسل تفریح پر مائے گارڈ، مائے لارڈ اور مائے ہینڈسم کا شکریہ
دنیا سے بانوے کو پیارے ہو جانے والے اک عظیم روحانی دانشور کے بقول، پاکستانی دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم ہیں۔ ذہانت کے نالہ لئی چونکہ ہر طرف اور ہر روز ہی بکھرے دیکھنے کو مل جاتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ یہی قوم تیسرے نمبر پر ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر متمکن کیوں نہیں ہے۔ شاید کہ بانوے والوں کے تیل کے سرور میں، یہی عظیم روحانی دانشور یہ کام بھی کر گزریں۔
ہماری تیسری ذہین ترین قوم کو پاکستان کے سیٹھ۔ میڈیا پر روز شام چھ بجے سے لے کر رات بارہ بجے تک موصول شدہ ہدایات کے مطابق بیانیہ کی جگالی کرنے والے بقراطوں نے پالش کی سحر انگیز خوشبو کی محبت میں 2011 سے یہ مسلسل باور کروایا کہ عمران نیازی صاحب پاکستان کی آخری امید ہیں۔ ان کے پاس 200 بندوں کی اک ایسی ٹیم ہے جو پاکستان کے ٹائی ٹینک کو پلک جھپکتے ہی بدحالی کے دوزخ سے خوشحالی کی جنت میں لے جائے گی۔
تحریک انصاف میں قابلیت کے ایورسٹ اور عمران نیازی صاحب کے پوسٹر بوائے کی اوقات کیا رہی، وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ محترمی آج کل شمالی پاکستان کے پہاڑوں میں گم، جنید جمشید مرحوم کے گانے سن سن کر اپنے آپ کو ”سائیک اپ“ کر رہے ہیں اور جیسے ہی وہ واپس آئیں گے، پاکستان میں بلبلیں چہچہانے لگیں گی اور فاختائیں گنگنانے لگیں گی۔ تحریک انصاف کے کارکنان نغمے گاتے ہوئے سڑکوں پر اک بار پھر سے اپنے اصل ٹیلنٹ کے مطابق رقص کر رہے ہوں گے اور راولپنڈی میں میرے وطن کے والی وارث بھی بے اختیار جھوم رہے ہوں گے۔ بقول سرتاج عزیز، جنہیں کسی زمانے میں سرچارج عزیز بھی کہا جاتا تھا، کہ پاکستان اب ٹیک آف کرنے کو ہی ہے۔
اس ذہین ترین قوم کو بتاتا چلوں کہ ایک کروڑ نوکریوں کو تو چھوڑیں، تقریبا بیس لاکھ نوکریوں کے لیے ہی ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کو 7 سے 8 ٪ سالانہ کی رفتار سے ترقی کرنا ہو گی۔ یہ ترقی، ڈان لیکس کے وارثین کی برکات کے طفیل، 5.8 ٪ سے پہلے ہی 3 ٪ پر آ چکی ہے اور ابھی 2.7 ٪تک مزید ”اوپر“ جائے گی۔ الحمدللہ!
سٹیٹ بنک آف پاکستان (جولائی 2018 ) کے مطابق، پاکستان کو تقریبا تیرہ لاکھ نوکریاں تخلیق کرنے کے لیے 6.6 ٪ کی شرح سے ترقی کرنا لازم ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی اک رپورٹ کے مطابق، آنے والے دنوں میں بیروزگاری میں اضافہ ہو گا جو عظیم دماغوں کی بدولت پہلے سے ہی فارغ بیٹھے 35 لاکھ ذہین ترین لوگوں کی تعداد میں بڑھوتری کرے گا۔ چلیں شکر ہے کہ کہیں تو کچھ بڑھوتری ہو گی۔ اس پر بھی الحمدللہ!
6.6 ٪ سے ترقی کرنے کے تو صاحبو، دور دور تک کوئی چانسز نظر نہیں آ رہے۔ باقی اب عمران نیازی صاحب کے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں پہنے پیلے پتھر کی روحانیت پر ہے ہے وہاں سے بہتری کی شعاعیں پھوٹیں اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔ اور اگر کچھ بھی نہ بن پڑے تو بنی گالہ کے ٹیرس پر کچا گوشت کھانے والے جن ہی کچھ کھائے جانے والے گوشت کی حیا کر لیں۔
پچاس لاکھ گھروں کو لے لیجیے۔ جناب شیخ رشید، فیاض چوہان اور فردوس عاشق جیسے عظیم نظریاتی اور ذہین ترین کارکنان پر مبنی اس حکومت کو آئے ہوئے یہ نواں مہینہ مکمل ہونے کو ہے۔ مفت میں مسلسل تفریح مہیا کرنے والی اس حکومت کو لازما رہنا چاہیے تو اس کے پاس چمتکار کے لیے چار سال اور تین ماہ موجود ہیں۔ یہ تقریبا 1550 دن بنتے ہیں۔ اور باقی ماندہ ان دنوں میں عمران نیازی صاحب کی حکومت کو ہر دن 3226 گھر بنانے ہیں۔
زمین کی قیمت کے بغیر اگر ہر اک گھر کی اوسط قیمت 25 لاکھ رکھی جائے تو روزانہ کی بنیاد پر 8065000000 روپے چاہئیں۔ آپ اس کو 1550 دنوں سے ضرب دیں تو میرے وطن عزیز کو 12500750000000 روپے چاہئیں۔ یعنی 138 روپے فی ڈالر کے حساب سے صرف 90585144928 ڈالر۔ مدینہ ثانی اور دنیا میں اسلام کے واحد قلعے کی لگامیں تھامے تمام عظیم و با اختیار لوگ یقینا 25 لاکھ والے گھروں میں ہی رہتے ہیں۔ خود خلیفہ مدینہ ثانی کا بنی گالہ میں موجود گھر بھی 2499999 روپوں کا ہے، پورے 25 لاکھ کا بھی نہیں۔ اللہ اکبر۔
25 ارب ڈالر کے آس پاس کی ایکسپورٹس اور 305 ارب ڈالر سے گر کر 277 ارب ڈالر پر آنے والے سالانہ جی ڈی پی کے ساتھ ایسے خواب کو ممکن ہوتے دیکھنا صرف تحریک انصاف کے ذہین کارکنان، چھ سے بارہ جگالی کرنے والے عظیم اینکران اور بالآخر پینشن پر چلے جانے والے ذہین و عظیم ترین فیصلہ سازوں کے ہی بس کی بات ہے۔
آخر میں بات پھر پیلے پتھر، گوشت کھانے والے جِنوں، جنید جمشید کے گانوں پر ہی آن گرنی ہے۔ پاکستان کا عظیم روشن خواب بس اب دور نہیں۔ آیا کہ آیا۔


