ہم مذہب کے خانے میں ہندو اور قومیت میں فخر سے پاکستانی لکھتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا مطلب کہ “آپ بھارت سے ہو”، میں نے اپنے نام کے ساتھ کمار کیا بتایا آپ نے تو میری شناخت ہی بدل دی۔ سُجاتا جی!

چند روز قبل میں آمریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین فرانسکو میں ایک دیسی ریسٹورینٹ پر کھانا کھانے گیا تو میری میز پر میں نے جب اپنا موبائیل فون اور ڈائری رکھی تو ایک مغربی پوشاک میں دیسی انداز سے ایک خاتون میرے پاس آئی اور پوچھنے لگی؛ کیا تم انڈیا سے ہو؟ او سنجے کیا تم بھارت سے ہو؟ مین نے سوچا شاید یہ گوروں کی طرح بھارتی فلمیں دیکھ کر نام پڑھ کر سوچ رہی ہو کہ میں وہاں سے ہوں جہاں سے سنجے دت، سنجے لیلا بنسالی، انیل کپور، اجئی دیوگن، امیتاب بچن اور ایسے ڈھیر سارے نام والے اداکار، فنکار اور گلوکار تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ پہلے اس سے بات کریں کہ یہ محترمہ خود کہاں سے تعلق رکھتی ہیں اور اس طرح کا سوال پوچھنے کا من کیسا بنا۔

اُس نے کہا؛ میرا نام سُجاتا ہے اور میں کینیڈا سے ہوں میں بچپن سے سنتی آ رہی ہوں کہ انڈیا میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور وہاں ہندو ہی رہتے ہیں، میرے والدین کے جو ابا اجداد تھے وہ بھی انڈیا سے تھے تو سوچا پوچھ لیں آپ سے۔

اس محترمہ نے فقط ڈائری سے نام پڑھا اور سوال کر ڈالا گر اس محترمہ نے میرے سینے سے لگی اجرک کو دیکھا ہوتا تو شاید یہ سوال کرنے کی نوبت نہ آتی۔

خیر، میں نے اپنی پہچان کا جواب کچھ یوں دِیا کہ

نہ بھارت نہ کوئی ہِند ہے
پہچان میری بس سندھ ہے
ہے لِپٹی جُوں تَن سے اجرک
ویسے ہی روح سے سندھ ہے

کافی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایکسچینج سیمسٹر کے دوران آمریکی دورے میں مختلف ممالک کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا تو اُن کا پہلا سوال بھی یہ ہوتا تھا ”آر یو فرام انڈیا“ پھر تو بس باتیں اور بحث مباحثوں کے مشغلے جاری۔

مجھے یاد ہے پاکستان کے سرگرم سماجی کارکن اور اقلیتی حقوق پر بات کرنے والے ہمارے ساتھی دوست کپیل دیو کی ٹویٹس پر بھی ہمارے لوگوں کے کمینٹس بھی اسی طرح ہوتے ہیں جیسا سوال مجھ سے سجاتا نے آج پوچھا!

پاکستان میں کُل 40 لاکھ سے زائد ہندوؤں کی آبادی بستی ہے۔

کپیل دیو کی ٹویٹس پر ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے کمینٹس تو عجیب اور حیران کُن لگتے ہیں کیونکہ لوگ وہ سب کچھ جان کر بھی ہمارے حب الوطنی کے جذبے پر شک کرتے ہیں اور جب بھی کوئی ہندو سماجی کارکن کسی مسئلے پر آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے جواب میں اکثر یہ سُننے کو ملتا ہے ”آپ واپس چلے جائیں جہاں سے آئے ہیں“۔

تو سجاتا جی، میں ایک پاکستانی ہوں اور پاکستان میں میرا تعلق سندھو ماتا سے ہے! ماتا کا نام لیا تو اب یہ تو مت کہنا کہ ”سنجے ماتا جیسے الفاظ بھی صرف انڈیا میں رہنے والے ہندو ہی استعمال کر سکتے ہیں“۔

جب میں آمریکا کے سماجی اور ثقافتی اداروں کی مختلف تقریبات میں بحیثیت ایک مہمان اسپیکر طور بلایا جاتا ہوں تو جو بھی وہاں شرکت کرتا تھا اُن کا پہلا سوال تقریباً یہ ہوتا تھا ”پاکستان میں آپ ہندوؤں کے ساتھ کیسا سلوک ہے؟ “ میرا جواب نہایتی شائستگی سے ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ویسا ہی جیسا آپ کے ساتھ یہاں ہوتا ہے۔

کچھ روز پہلے میرا ”یوٹا“ جانا ہوا، اپنے کلچرل ایکسچینج کے حوالے سے جو تجربات ہوے اُن پر سب دوستوں کو کچھ نہ کچھ بات کرنی تھی یا اپنے تجربات بتانے تھے۔ مجھے جب موقع ملا تو میں نے اپنے احباب سے شکایت بھی کی تو داد بھی دی، مختصراً جس کی کے لیے جو بات تھی وہ کی۔

”آپ سب میرے دوست، بھائی، عزیز و محترم ہو سمجھ لو میرے جگر کے ٹُکڑے ہو۔ میری بہت سے احباب سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن آپ سب پڑھے لکھے لوگ مجھے یوں کیوں کہتے ہو کہ“ آپ نان مسلم ہو؟ ”

میرے ہم وطنوں، آپ تو ثقافتی سفیر ہو آپ تو یوں نہ بولو۔

مجھے کوئی مسئلہ نہیں کہ لوگ مجھے ہندو کہیں یا نہ کہیں۔ بات یوں ہے کہ جب آپ کے پاس اپنی شناخت موجود ہے تو کیوں کسی دوسری شناخت سے خود کو جوڑا جائے، کیوں گھر میں رہ کر بے گھر ہوا جائے، کیوں وطن میں رہ کر بے وطن محسوس کیا جائے؟

جب کوئی میرا بھائی میرے تن پے لِپٹی اجرک دیکھ کر جھٹ سے سندھی بولتا ہے تو مجھے فخر ہوتا ہے جب کو میرا بھائی اردو بولنے پر مجھے پاکستانی بولتا ہے تو میں خوشی سے نہال ہو جاتا ہوں پر شناخت مِٹانا تو غلط ہے نہ! مثلاً اگر کوئی آپ کو اپنی شناخت ہوتے ہوئے یوں پوچھے کہ ”آپ نان ہندو یا نان عیسائی تو نہیں“ اک پل کے لیے تصور کریں اور آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔

مجھے یہ بھی پتا ہے کہ کافی دوست اس بات پہ اتفاق کرتے ہوئے کہیں گے کہ اور مسائل ختم ہو چکے ہیں کیا جو تم اس پہ بات کر رہے ہو۔ اصل میں دوسرے مسائل پہ بات کرنے کے لیے اور بھی لوگ بیٹھے ہیں۔ جن کا جو کام ہے اگر بندہ وہ ہی کرے تو کافی حد تک مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ یہاں ہر تیسرہ بندہ ہر دوسرے کے مسئلے کے بیچ پڑ جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی باتون پہ غور نہ کرنے سے کافی مسائل پیش آتے ہیں۔

پتا سب کو ہے کہ مسائل کیا ہیں اور کون ذمے دار ہے۔ ہر کسی کی قلم اپنے علم کے اور دائروں کے حساب سے چلتی ہے، میں کسی بھرچونڈے کی یا طوطے شریف کی بات نہیں کرنا چاہتا۔ آپ سنا ہوگا نہ کہ وقت بادشاہ ہے، جب وقت کا چرخہ چلتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ بس ہم اسی آس میں ہیں کہ ہم نراش نہیں ہوں گے اور بس انصاف، انصاف اور انصاف ہوگا!

مجھے بہت خوشی ہے ک یہاں امریکا میں جو میری ہوسٹ فیملی ہے وہ بھی مسلم ہے اور مجھے نہایت ہی عزیز ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ یہاں میری فیملی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے وہی خلوص، پیار، عزت اور احساسات رکھتے ہیں۔ چیزیں وہی ہیں مگر ہر کسی کی اپنی شناخت ہے۔

ریگستان تو سرحد کے اُس پار بھی ہے پر اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہم اپنے تھر پہ فخر کرتے ہیں، دریا تو وہاں بھی ہے پر ہم سندھو کے کنارے جیون جیتے ہیں، روایات تو وہاں بھی ہیں پر ہم یہاں بھی سبز حلالی پرچم لیے آزاد فضا میں آزادی سے لہرانے کی روایات کو نہیں بھولے، پانی وہاں بھی پر سندھو کی موج بھری لہریں ہمیشہ ذہن پہ تاری ہیں۔ بات وہی ہے کہ شناخت سب کی الگ ہے۔

جب کوئی بھی درخواست بھرتے ہیں تو ہم مذہب کے خانے میں ہندو اور قومیت میں فخر سے پاکستانی لکھتے ہیں اور اس پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے اور رہے گا۔

ہم سب کی آن، ہم سب کی شان
ہم سب کا پیارا پاکستان۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سنجئہ متھرانی کی دیگر تحریریں
سنجئہ متھرانی کی دیگر تحریریں