مسلم لیگ ن کی تنظیم نو: شاہد خاقان عباسی سینئر نائب صدر، احسن اقبال سیکریٹری جنرل


اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے تنظیم نو کا اعلان کر دیا ہے۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز 16 نائب صدور میں شامل ہو گئے۔ صدر ن لیگ شہباز شریف نے پارٹی قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت پارٹی رہنمائوں سے مشاورت کے بعد تنظیم نو کا اعلان کیا۔

تنظیم نو کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سینئر نائب صدر،احسن اقبال سیکریٹری جنرل اورمریم اورنگزیب سیکریٹری اطلاعات ہوں گی۔

ن لیگ کے 16 نائب صدور ہوں گے، جن کے نام مریم نواز، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، ایاز صادق، عابد شیر علی، مشاہد اللہ، برجیس طاہر، پرویز رشید، رانا تنویر، سردار مہتاب، محمد زبیر، خرم دستگیر، میاں جاوید لطیف، راحیلہ درانی، نیلسن عظیم اور ڈاکٹر درشن لعل ہیں۔

بلیغ الرحمٰن اور عطا اللہ تارڑ ڈپٹی جنرل سیکریٹری،بلال اظہر کیانی، فرحان ظفر جھگڑا اور صورت تھیبو کو اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل جبکہ عباس آفریدی اور طلال چوہدری کو پارٹی کا جوائنٹ سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

پرویز رشید ن لیگ کے سیکریٹری فنانس، طارق فاطمی سیکریٹری پالیسی اینڈ ریسرچ،شذہ فاطمہ خواجہ سیکریٹری پارلیمانی امور، عائشہ رضا فاروق سیکریٹری ممبر شپ اینڈ ٹریننگ اور رومینہ خورشید عالم سیکریٹری انسانی حقوق مقرر کی گئیں۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے پارٹی کی 13 رکنی ایڈوائزری کونسل بھی تشکیل دی ہے، جس میں شہباز شریف،شاہد خاقان عباسی، اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ محمد آصف،قیصر شیخ، محمد زبیر، مفتاح اسماعیل، عائشہ غوث پاشا، مشاہد حسین سید ، مصدق ملک، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل ہیں۔

پارٹی قیادت نے رانا ثنا اللہ کو مسلم لیگ پنجاب کا صدر، اویس لغاری کو جنرل سیکریٹری اور عظمیٰ بخاری کو سیکریٹری اطلاعات تعینات کیا ہے جبکہ حنیف عباسی ن لیگ پنجاب کے سینئر نائب صدر، راجہ عتیق سرور، حافظ نعمان، خواجہ سلمان رفیق اور قمر الاسلام نائب صدر مقرر کئے ہیں۔

ن لیگ کی قیادت نے مفتاح اسماعیل ن لیگ سندھ کے جنرل سیکریٹری، علی اکبر گجر سینئر نائب صدر جبکہ سلمان علی خان صدر ن لیگ کراچی اور ناصر الدین محمود جنرل سیکریٹری کراچی لگائے گئے ہیں۔

پارٹی اعلان کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ن لیگ کے صدر انٹرنیشنل افیئرز، نور الحسن تنویر جنرل سیکریٹری انٹرنیشنل افیئرز مقرر کر دیے گئے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود تنظیموں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS