ہم نے کسی اورسے نہیں، اپنے آپ سے جھوٹ بولا اور دھوکہ کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت دیسی وزیر خزانہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسے وزیر خزانہ کی ضرورت ہے جس کے پیچھے مقبول سیاسی جماعت موجود ہو۔ حکومت کو صرف عوام کی نہیں، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کی بھر پور حمایت بھی حاصل ہو۔ جعل سازی سے جو تبدیلی لائی گئی، اس کے نتایج سامنے آ گئے ہیں۔ جھوٹ دھوکہ اور فراڈ سے عوام کو جو سبز باغ دکھائے گئے، ان کا پھل کھانے کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔ سب نے مل کر آپریشن رد نواز شریف کیا تھا۔ عدالتوں میں اسے سسلین مافیا کہا گیا۔

چیدہ صحافیوں کو بتایا گیا کہ وزیر خزانہ معیشت کے لئے تباہ کن ہے۔ میڈیا پر کرپشن کی کہانیاں سنائیں گئیں۔ اینکرز کو پالتو بنا کر لوگوں کو روز بتایا جاتا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی اربوں ڈالر بھجیں گے۔ قوم کے کانوں میں زہر ڈالا گیا، روز پانچ سو ارب روپیہ کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، ایف بی آر میں سالانہ ایک ہزار ارب روپیہ کی ٹیکس چوری ہوتی ہے، سوئیٹزرلینڈ میں پاکستانیوں کے دو سو ارب ڈالر موجود ہیں۔ قوم کو ورغلایا گیا کہ ہم پاکستان کو آسمان کی بلندیوں پر لے جائیں گے۔ کسی ایک کا قصور نہیں، سب قومی مجرم ہیں۔ جس نے بھی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کی اور خودساختہ حب الوطنی کے نام پر تبدیلی کو ممکن بنایا، وہ سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جو فصل بوئی، اب اس کا پھل کاٹنے کا وقت ہے۔

اگر اس ملک کے ساتھ محبت ہے اور معاشی استحکام درکار ہے تو غلطی تسلیم کریں اور جن لوگوں نے دو سو ماہرین معیشت کی ٹیم اپنے پاس موجود ہونے کا دھوکہ دیا، انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہیے۔ جو لوگ انیل مسرت کو لئے پھرتے تھے پچاس لاکھ گھروں میں سرمایہ کاری کرے گا اور چالیس صنعتیں چلنے لگیں گی، ان سے انیل مسرت کی سرمایہ کاری کے متعلق سوالات ہونا چاہیں۔

آئی ایم ایف والوں سے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس دوران وزیر خزانہ تبدیل، گورنر اسٹییٹ بینک بھی تبدیل اور چیرمین ایف بی آر بھی تبدیل۔ مارکیٹ میں پہلے ہی بہت مثبت ردعمل ہے۔ ان تبدیلیوں سے مزید مثبت اشارے ملیں گے۔ جن لوگوں کو تبدیل کیا، یہ کیا کر سکتے تھے؟ وزیر خزانہ خبریں لیک کرتا تھا، ڈالر کی قیمت اتنے ماہ میں اتنی ہو جائے گی۔ منی ڈیلروں کو تمام خبریں مل جاتی تھیں۔ جب بڑے بڑے صاحب لوگ ڈالر خریدتے تھے، مارکیٹ میں پتہ چل جاتا تھا اور پھرجب مارکیٹ میں افراتفری پیدا ہوتی تھی اسٹیٹ بینک کو مداخلت کرنا پڑتی تھی، زرمبادلہ کے ذخائر استمال ہوتے تھے۔

لیکن پھر دوبارہ خبریں آتی تھیں، ڈالر اتنے کا ہونے جا رہا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے استعفی دے دیا ہے لیکن میڈیا میں اف دی ریکارڈ پتہ چل گیا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے معاملہ پر نوکری گئی ہے۔ یعنی اب سرمایہ کار پھر ڈالر خریدیں گے اور زرمبادلہ کے ذخائر پھر استعمال ہوں گے، مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے نام پر۔ رضا باقر نامی آئی ایم ایف ملازم کی گورنر اسٹیٹ بینک بننے کی خبریں چل رہی ہیں، اگر سچ ہیں تو کامیابی مبارک۔ پاکستانی معیشت عالمی مالیاتی ادارے ٹیک اوور کر رہے ہیں۔ دشمن قوتوں کو تو شکست مل گئی ووٹ کی طاقت سے۔

جو بھی فیصلے کیے جا رہے ہیں ان کا کوئی سر پیر نہیں، کوئی سمت نظر نہیں آرہی۔ نواز شریف کو ضمانت نہیں ملی اور آصف علی زرداری جعلی اکاوئنٹس کے نام پر پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ پی ٹی ایم کے بعض لوگ گمراہ ہیں اور مولانا فضل الرحمن لاکھوں لوگوں کے جلسے کر رہے ہیں۔ سیاسی بے یقینی اور افراتفری کے اس ماحول میں کون ٹیکس دے گا، کون سرمایہ کاری کرے گا۔ اسلام آباد ایسے شہر میں منی ڈیلر اور ہوٹل والے ٹیکس ریڈ کی وجہ سے ہڑتال کر چکے ہیں۔ جس بینک کے مینجر کے پاس چلے جائیں، بتائے گا کہ ڈیپازٹ کم ہو رہے ہیں۔

مارکیٹ سے پیسے نکل چکے ہیں۔ پیسے بینک لاکروں میں جا رہے ہیں۔ لوگوں نے گھروں کے کمروں میں پیسے رکھنا شروع کر دیے ہیں۔ جو زیادہ دلیر ہیں وہ سونے کے بسکٹ اور ڈالر خرید رہے ہیں۔ اس طرح معیشت نہیں چلتی بلکہ تباہ ہو جاتی ہے۔ لوگوں نے کاروبار کرنے کی بجائے قومی بچت میں پیسے رکھ کر سود کھانا شروع کر دیا ہے۔

معیشت چلانا ہے تو نیب کو کنٹرول کریں۔ ایف بی آر کے چھاپے بند کریں۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی شرح سود کم کریں۔ ملک میں سایسی مفاہمت کے لیے درکار تمام اقدامات کریں، ملکی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ جو زکوٹے جن مسلط کیے ہیں، وہ اب بھی گمراہ کرتے ہیں اور مغربی ملکوں کی بھاگ بھاگ کر مثالیں دیتے ہیں، انہیں بتایا جائے۔ دنیا کے سب سے بڑے چور اور بدعنوان یہ مغربی ملک خود ہیں کیونکہ انہیں ملکوں میں جب علیمہ خان نے پراپرٹی خریدی تھی انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا تھا ’پیسے کہاں سے آئے‘۔ جن ملکوں کی مثالیں دیتے زبان نہیں تھکتی، انہیں ملکوں میں ایک آف شور کمپنی خود بھی قائم کی تھی اور انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا تھا کہ یہ پیسے کہیں چندے کے یا ٹیکس چوری کے تو نہیں؟

ترقی یافتہ اور مہذب مغربی ملکوں نے چوری اور کرپشن کے پیسوں کی محفوظ جنت بنا رکھی ہے۔ پیسے لاتے جاؤ، جمع کراتے جاو، کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔ علیمہ بہن نے دوبئی میں فلیٹ خریدے تھے، دوبئی والوں نے سوالات نہیں کیے تھے تو پھر جب شریف فیملی نے لندن میں فلیٹ خریدے تو وہ سوال کیوں کرتے؟

ملک کا ماحول ایسا بنائیں کہ لوگ پیسے یہاں سے لے کر باہر نہ جائیں بلکہ یہاں لے کر آئیں۔ یہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے محفوظ جنت بنائیں جیسے دوبئی والوں نے بنائی ہے۔ جیسے نیو جرسی امریکہ میں چندے یا چوری یا سلائی مشینوں کے کاروبار سے پراپرٹی خرید لیں تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ پیسے آئے ہیں۔ جیسے کینیڈا اور آسٹریلیا، جیسے ہالینڈ جس کا وزیراعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے، وہ سرمایہ کاری پر شہریت بھی دیتے ہیں۔ وہاں کوئی پورا جزیرہ خرید لے، بھول کر بھی نہیں پوچھیں گے میاں پیسے کسی ہاوسنگ اسکیم فراڈ سے تو نہیں کمائے۔

آپ نے شور مچانا شروع کیا ہے، دو سال سے چیخیں مار رہے ہیں، زرداری چور ہے، نواز شریف چور ہے اور مغربی ملکوں کے بینکوں میں خوشیاں منائی جاتی ہیں، پیسے آنے والے ہیں۔ شور شرابے سے عام سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ مغربی ملکوں کے بینکوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ آپ کے ان پیسوں سے مزید پیسے بناتے ہیں۔ برامد کنندگان اپنی برامدی ترسیلات پاکستان میں لاتے ہی نہیں باہر ہی جمع رہنے دیتے ہیں۔ یہاں چور کا شور مچانے والے خود سب سے بڑے چور ہیں۔ بتا کر ڈالر کی قیمت بڑھاتے ہیں اور گورنر اسٹیٹ بینک کو روپیہ کی قدر میں کمی کے معاملہ پر فارغ کرتے ہیں۔ اور سرمایہ کاروں کو پیغام دیتے ہیں ’خبردار کوئی ڈالر ملک میں لے کر آیا ابھی قیمت مزید بڑھے گی‘ ۔ مغربی ملکوں کی مثالیں صرف دھوکہ ہے۔ دنیا بھر کی چوری اور کرپشن کی رقم مغربی ملکوں میں جاتی ہے اور وہ سوال نہیں کرتے اور آئی ایم ایف میں اپنے ووٹ کی وویٹج کے برتے پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ ٹیکس چوری روکو۔

یہ ملک مزید فراڈ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پراپرٹی کی خریداری پر فائلر کی شرط ختم کریں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے نام پر اکاوئنٹس ہولڈر کو رسوا نہ کریں۔ وہ پیسے گھروں میں رکھنے لگے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کرنا ہے تو بھارت اور فلپائین ایسے ملکوں کے بینک قوانین متعارف کرائیں۔ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بن کر ملکی معیشت تباہ نہ کریں۔ نیب قوانین کو تبدیل کریں، کسی کاروباری آدمی کو ہراساں نہ کریں۔ کسی بزنس اوٹ لیٹ پر چھاپہ نہ ماریں۔ معیشت مستحکم کرنا ہے تو پالتو اینکرز کو لگام دیں۔ اچھی عدالتوں کو سیاسی مقدمات سے مکمل روک دیں۔ ملک میں سیاسی مفاہمت پیدا کریں اور جعل سازوں سے ملک کو نجات دلائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •