بنام عمران خان: ہمارے جذبات سے كیوں كھیلا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانہ طالبِ علمی اور نوجوانی میں شاید ہر انسان ہی بہت جذباتی اور آئیڈیلسٹ ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ہماری مٹھی میں ہے اور کیا ہے جو ممکن نہیں ہے۔ کون سا ایسا خواب ہے جس میں رنگ نہ بھرا جا سکتا ہو۔ جذباتی نعرے اور دنیا بدلنے کی باتیں اس عمر میں بہت متوجہ اور متاثر کرتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا۔ سیاست سے پہلی آگاہی عمران خان کے ذریعے ہوئی۔ عمران خان کی شخصیت اور ان کی تبدیلی کی باتوں نے بہت سوں کی طرح ہمیں بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا۔

آپ کی نظر میں ہمیں ایک مسیحا نظر آیا۔ ایسا مسیحا کہ جب وہ آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ملک ترقی کی راہ پہ گام زن ہو جائے گا۔ عدل وانصاف کا بول بالا ہو گا۔ یکساں نظامِ تعلیم نافذ ہو جائے گا۔ غریب کے مسائل کم ہوتے ہوئے بالآخر ختم ہو جائیں گے۔ نظام میں سے بد عنوانیاں ختم ہو جائیں گی۔ آپ کی تبدیلی کی بات سے ہم تو یہی سمجھے تھے، ہو سکتا ہے آپ کا مطلب کچھ اور ہو، ہم ہی کم فہم ہوں۔ آپ جب کہتے تھے کہ میں موروثی سیاست ختم کر دوں گا۔ قابل لوگ آگے لاٶں گا تو یقین کیجیے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی اور ساتھ ہی اپنے روشن مستقبل کا یقین بھی پختہ ہو جاتا تھا۔

پھر الیکشن آ گیا اور ہمارے جوش میں اضافہ ہو گیا۔ وہ دن بھی کیا خوب تھے۔ یوں لگتا تھا کہ بس وعدے پورے ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ آپ کو اقتدار کے ایوان میں پہنچا کہ لگا کہ پاکستان کو درست ہاتھوں میں سونپ دیا ہے۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے خوابوں کا خون ہی ہوا۔ مخالفین کو باتیں کرنے کے موقع بھی خوب دیے۔ پھر خبر آئی اسد عمر کے استعفے کی، یقین مانیے دکھ ہوا۔ آپ کے ارد گرد سب پرانے چہرے دیکھ کے خیال آتا ہے کہ وہ تبدیلی کا خواب کیا ہوا۔ اگر 23 سال کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلنا تھا تو ہمیں ایسے خواب کیوں دکھائے۔ اب اگر ہمارا اس نظام سے بالکل ہی اعتماد أٹھ گیا تو ذمہ دار کون ہو گا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •