کمسن بچی کی شادی؟ خدا کا خوف کرو علی محمد!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے علی محمد!

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس اونچی کرسی پر شان سے بیٹھے ہو، اس کرسی کی جڑوں میں رینگتے سماج پر کبھی جھک کر نگاہ ڈالی ہے؟
تم اور میں جس جاگیردارانہ سماج سے تعلق رکھتے ہیں علی محمد! وہاں جرگے کے نام پر بچیوں کا لین دین ہوتا ہے، کیا تم اس سے بے خبر ہو؟
خدا کو حاضر ناظر جان کر سچ کہو کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بڑی بڑی کلف لگی اونچی پگڑیوں والے جب محکوم رعایا کے فیصلے کرنے کے لیے جرگے لگاتے ہیں تو خون کے بدلے قاتل کی قریبی رشتے کی کم عمر بچی مقتول کے خاندان کے مرد کے حوالے کر دیتے ہیں!

صرف قتل کا فیصلہ ہی نہیں بلکہ ریپ، اغوا، بھاگ کر یا بھگا کر شادی کرنے کے فیصلے میں بھی مجرم قرار دیے گئے خاندان کی بچی پیش کر دی جاتی ہے!

جرمانے کے طور پر ادا کی گئی یہ کم عمر بچیاں نکاح کے ذریعے حلال کی جاتی ہیں اور انہیں چیلنج کرنے کا کفر کوئی مائی کا لال نہیں کرسکتا۔
کیا تم یہ نہیں جانتے علی محمد؟

کیا تمہیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے رینگتے سماج میں نشئی اور سگے سوتیلے باپ اکثر آٹھ دس سال کی بچیوں کو دو تین لاکھ کے عوض عمر رسیدہ مردوں کے ہاتھ نکاح کے نام پر بیچ دیتے ہیں؟

خریدار کسی کارِ ثواب کے لیے نہیں خرید کرتا، بلکہ محض کم عمر لڑکی کی کم عمری کی لذت لینے کے لیے بچی کو خرید کرتا ہے۔ اس لذت کی نفسیات کو مجھ سے زیادہ تم سمجھ سکتے ہو علی محمد!

اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ جو مرد نکاح کرکے لے جاتا ہے وہ اس بچی کا حقِ زوجیت صرف اپنی شہوت کی صورت ادا کرتا ہے۔ مزید حقوق کا کوئی تصوّر ہی موجود نہیں۔ ہاں اسے بیماریوں کے دلدل میں ضرور دھکیل دیتا ہے۔
لاتعداد اسقاطِ حمل اور پے در پے بچے۔ کسی ایک بچے پر بالآخر وہ مر بھی جاتی ہے ورنہ خون تھوکتی رہتی ہے۔

کیا تمہیں نہیں خبر علی محمد! کہ بہت سی بچیاں نکاح کے نام پر خرید کر آگے بیچ دی جاتی ہیں اور کئی ہاتھوں سے گزرتی کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہیں۔ جس کے نکاح میں ہوتی ہیں وہ اس کا مالک ہوتا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی اسے چیلنج کرنے کا کفر نہیں کرسکتا۔

کیا تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کیچڑ زدہ سماج میں نکاح کے لیبل کے ساتھ کم عمر بچیاں فقط جسم فروشی کے کاروبار میں ہی استعمال نہیں ہوتیں، بلکہ وہ جہاں نکاح کرکے لے جائی جاتی ہیں وہاں کے محرم مرد بھی ان پر ہاتھ صاف کر رہے ہوتے ہیں۔

وہ بچیاں اپنی کم عمری اور کم علمی کے باعث اس سب کو یا تو زندگی کا حصہ سمجھتی ہیں یا پھر لمبے، چوڑے، تگڑے مردوں کے سامنے سہم جاتی ہیں، جن کی کہنیوں تک کا قد ہوتا ہے ان بچیوں کا کہ گردن میں بازو ڈال کر دبوچو تو چڑیا کی پھڑپھڑاہٹ جتنی بھی سکت نہیں ہوتی ان میں۔

اس گندے سماج میں بچیوں کو سگے اور رشتے کے سسر اور دیور تک نوچ کھاتے ہیں۔ چچا، ماموں اور باپ کا تو نام لیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

بچی بیچاری نے ابھی جینا سیکھا ہی نہیں ہوتا کہ مردوں کی ٹانگوں تلے آجاتی ہے!

ارے میاں علی محمد! جس شان سے سینہ تان کر بچی کی کم عمری کی شادی کو عین اسلامی فریضہ قرار دیتے ہو نا، اسی طرح سینہ تان کر زرا مسجدوں اور مدرسوں میں ریپ ہوتے اور مرتے کم عمر بچوں اور بچیوں کے لیے آواز بلند کرکے تو دکھاؤ۔

خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ بھی سچ سچ کہو کہ اپنی کسی قریبی کم عمر بچی کا نکاح کسی مسٹنڈے کے ساتھ کرو گے؟

کبھی نہیں کرو گے۔

تو پھر تم دوسروں کی بچیوں اور بالخصوص غریبوں اور ان پڑھ لوگوں کی بچیوں کے لیے بے دردی کے ساتھ فتوے کیسے جاری کرسکتے ہو کہ ان کی جسمانی عمر مرد کی شہوانی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہوچکی ہو تو ان کی شادیاں کروانا عین مذہبی فریضہ ہے!

خدا کا خوف کرو میاں!

دیکھ رہے ہونا کہ چھوٹے چھوٹے بچے اور خاص طور پر کمسن بچیاں کس بڑی تعداد میں ریپ کرکے، نوچ نوچ کر زخمی کرکے مردہ حالت میں پھینک دی جاتی ہیں!

اس نفسیاتی مرض کو ہوا مت دو میاں!

یہ وہ نفسیات ہے جو تم جیسوں کی بلند آواز میں کم عمر بچی کی شادی کو جائز قرار دیتے فتوے سے مزید وحشی ہوجاتی ہے۔

تمہیں اندازہ ہے اس طرح کی باتیں شہوت کے مریض وحشیوں پر کیا نفسیاتی اثر چھوڑتی ہیں؟

ان الفاظ کے اثر پر غور کرو علی محمد!

کم عمر بچی!

جسمانی بلوغت (پیوبرٹی)!

شادی کے قابل!

وغیرہ وغیرہ

اوپر سے تمہاری دیکھا دیکھی ایک اور بچی کی وڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے آجکل۔ جس میں وہ پیوبرٹی پیوبرٹی پیوبرٹی کی مسلسل گردان کے ساتھ زنا سے بچاؤ کے طریقے کے طور پر کم عمر بچی کی شادی کے بارے میں دلائل دے رہی ہے اور نہ صرف یہ ثابت کررہی ہے کہ جسمانی بلوغت کے ساتھ ہی لڑکی نکاح کے قابل ہوجاتی ہے، بلکہ جنسی تعلق کو سمجھ بھی سکتی ہے اور اس کا علم بھی رکھتی ہے!

ساتھ ہی وہ بھی اس معاملے کو عین اسلامی قرار دے رہی ہے۔

وڈیو میں فتوے دیتی اس بیچاری بچی کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ کم عمر بچی کے لیے معاشرے میں دندناتے پھرتے درندوں کے کن وحشی جذبات کو ہوا دے رہی ہے!

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 89 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah