میرے صحافی دوست کا ایمان کمزور پڑ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا دوست صحافت سے وابستہ ہے، صحافت سے میری مراد ٹیلیویژن پر جلوہ بکھیرنا نہیں بلکہ پس پردہ فرائض انجام دینا ہے۔ صحافت آج کل مگر زوال کا شکار ہے۔ اور یوں صحافی شدید معاشی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ ہمارے دوست کو بھی کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔ یہاں تک تو صورتحال قابل برداشت تھی۔ ہوا مگر یہ کہ ہمارے صحافی دوست کا مالدار سیٹھ عمرے پر روانہ ہوگیا۔ اور یہاں ماہ رمضان نے ہماری زندگیوں میں دستک دے دی۔ اب بقول ہمارے دوست جانی!

اللہ اپنے گھر میں صرف اپنے پسندیدہ لوگوں کو ہی بلاتے ہیں، وہ جو بہت نیک ہوتے ہیں یا جن کو چن لیا جاتا ہے، جن پر عطا ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں نہ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ تو خود سوچ ہم زندگی بھر ایک سمت منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں، وہاں جانے کے لیے تڑپتے ہیں مگر سب ہی وہاں جا نہیں سکتے۔ جاتا صرف وہی ہے جسے بلاوا آجائے۔ اس قدر الجھی ہوئی گفتگو سن کر میں بھی جھلا گیا اور پوچھا کہ کہنا کیا چاہتے ہو؟

موصوف نے انکشاف کیا جانی! میرا سیٹھ دو نمبر کے دھندے کرتا ہے، بلیک میلنگ کرتا ہے، رشوت لیتا ہے، گالیاں بکتا ہے، جھوٹ نہ صرف بولتا ہے بلکہ بلواتا بھی ہے، زنا اس کا محبوب مشغلہ ہے اور بہت سے غریبوں کا حق بھی کھاتا ہے۔ اب خود ہی دیکھ لو مجھ سمیت سینکڑوں افراد کی تنخواہیں ادا نہیں کیں مگر عمرے پر روانہ ہوگیا ہے۔ اس کے پاس اپنی شاہانہ زندگی گزارنے کے لیے عمرے وغیرہ کرنے کے لیے مال ہے مگر ہمیں دینے کے لیے نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسا شخص اللہ کو محبوب کیوں ہے؟ ایسے شخص کو اللہ نے اپنے گھر کیوں بلایا؟ ایسے شخص کے ہاں مالی خوشحالی کیوں ہے؟ ایسے شخص کے دروزے پر میلہ کیوں لگا رہتا ہے؟ میری محنت کی تنخواہ ادا نہ کرنے والے کو اللہ نے کیوں اپنے گھر بلا لیا؟ جانی! یہ صرف میرے سیٹھ ہی کی بات نہیں ہے۔ شیخ رشید ہی کو دیکھ لو بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اس نے کعبے کے اندر نماز ادا کی ہے۔ عام آدمی جہاں جا نہیں سکتا۔ جانی! کیا خدا نے پاکستان کے تمام بڑے لوگوں کو چن لیا ہوا ہے؟ وہ سب نیک ہیں؟ اور ہم جو حق حلال کمانے کو خوار ہورہے ہیں، ہم جو دونمبر سے بچتے پھرتے ہیں ہمارا کیا قصور ہے؟

اس قدر جذباتی سوال پر میں تو خاموش ہوگیا مگر ہمارے مشترکہ دوست نے ہمت بندھانے کی ناکام سی کوشش کی۔ یار ہم خدا کے معاملوں میں سوال نہیں اٹھا سکتے۔ ویسے بھی اللہ کسی کو دے کر آزماتا ہے تو کسی سے لے کر۔ اب کی بار صحافی صاحب کے جذبات میں مزید ابال آگیا۔ ہاں اگر آزمانا ہی ہے تو دے کر آزما لے۔ مرسڈیز میں بیٹھ کر رونا سڑک پر رونے سے بہتر ہے۔ یا تو میرا سیٹھ درست ہے اور میں غلط ہوں یا پھر میرے مذہب میں کوئی خرابی ہے۔ سوالوں کے جواب تلاش کرو ورنہ میرا ایمان کمزور پڑرہا ہے۔

یقین کریں مجھے ابھی تک کوئی منطقی جواب نہیں مل پایا۔ آپ ہی بتائیں اپنے دوست سے کیا کہوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •