ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے بجٹ میں تقریبا 50 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس کمی کا اعلان متوقع ہے۔ حکومت کی طرف سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طالبعلموں میں انتہائی اضطراب پایا جاتا ہے۔ تعلیمی بجٹ میں کمی کا فیصلہ واقعتا قابل تشویش ہے۔ پاکستان یوں بھی خطے کے دیگر ممالک سے بہت کم شعبہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔

انڈیا تو رہا ایک طرف۔ افغانستان، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ جیسے ممالک بھی تعلیم پر ہم سے کہیں زیادہ خرچ کررہے ہیں۔ اب اگر اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں یکمشت 50 فیصد کٹوتی کیجاتی ہے تو صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔ جامعات کا بجٹ کم ہو گا تو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے لا محالہ انہیں فیسیں بڑھانا پڑیں گی۔ فیسیں بڑھیں گی تو داخلہ لینے والوں کی تعداد میں مزید کمی واقع ہو گی۔ مطلب یہ کہ اعلیٰ تعلیم کی شرح میں مزید کمی۔

یوں تو ہم اس پہلو پر بہت فخر کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کی آبادی کا بڑا حصہ ) تقریبا دس کروڑ) 25 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان افرادی قوت واقعتا ایک سرمایہ تصور ہوتی ہے۔ تاہم تعلیم اور ہنر کے بغیر یہ افرادی قوت سرما یہ کے بجائے ایک بوجھ ہے۔ تو کیا خدا نخواستہ ہم اپنے بوجھ میں مزید اضافہ کرنے جا رہے ہیں؟

تعلیمی بجٹ میں پچاس فیصدکٹوتی کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں پچاس فیصد کمی۔ معیار میں بھی۔ اورتعلیمی سرگرمیوں کی تعداد میں۔ یہ بات تو طے ہے کہ بجٹ میں کمی کے بعد کوئی نیا پروگرام شروع نہیں ہو سکے گا۔ بلکہ پہلے سے جاری پروگراموں کو بند کرنا پڑے گا۔ کوئی نئی یونیورسٹی یا یونیورسٹی کا سب کمپس کھولنا تو دور کی بات، پہلے سے جاری بہت سے منصوبے روکنا پڑیں گی۔ تحقیقی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔

نئی بھرتیاں بھی مشکل نظر آتی ہیں۔ ہم نے یونیورسٹی کے استاد پر لیکچر کے ساتھ ساتھ تحقیقی مقالے لکھنے، ایم۔ فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی کروانے اور انتظامی امور کا اس قدر بوجھ لاد رکھا ہے۔ ایسے میں استاد اچھی تنخواہ اور سہولیات کی توقع کرتا ہے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ بجٹ میں کمی کے باعث اسے پہلے سے میسر سہولیات پر بھی زد پڑے گی۔ بیرون ملک کانفرنسوں اور ورکشاپس کے لئے دی جانے والی سفری گرانٹس تو وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز پہلے ہی بند کر چکے ہیں۔

نامعلوم فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرامز کا مستقبل کیا ہو گا۔ اساتذہ اور طالبعلموں کو ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لئے بیرون ملک بھجوایا جاتا تھا۔ نجانے یہ سلسلہ کیسے جاری رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں کمی کی گئی تھی توبیرون ملک زیر تعلیم طلباؤ طالبات خوار ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ بہت سے طلباء بیرون ملک بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ کیا ہم اب بھی یہی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ بجٹ کٹوتی کی خبروں کے ساتھ یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ”چندہ“ اکٹھا کر کے اپنے اخراجات پورے کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔ اب کیا ہماری سرکاری یونیورسٹیاں این جی اوز کی طرح فنڈز اور چندے اکٹھے کیا کریں گیں؟ ۔

ہم سب بخوبی آگاہ ہیں کہ تعلیم پر خرچ کرنا ایک محفوظ سرمایہ کاری ہے جو منافع سمیت واپس ملتی ہے۔ معلوم نہیں ہم کیوں اس سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ ایک طرف تو تعلیم کی اہمیت بتانے کے لئے وزیر اعظم ہاوس ( رہائشی حصے ) کوریسرچ یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اس قدر کمی کا فیصلہ کہ یونیورسٹیوں کا گزارہ انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے معیشت کو درست سمت میں ڈال دیا ہے۔

اگر ایسا ہے تو تعلیمی بجٹ میں کمی کی کیا ضرورت ہے؟ گزشتہ چند ماہ میں مہنگائی جس تیزی سے بڑھی ہے اور روپے کی قدر میں جس تیزی سے کمی ہوئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے تو تعلیمی بجٹ میں کم از کم پچاس فیصد اضافہ کرنا چاہیے تھا۔ مگر پہلے سے موجود بجٹ میں کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ برسوں سے ہم حکومتی اور صحافتی سطح پر یہ واویلا سنا کرتے تھے کہ ہماری یونیورسٹیاں عالمی درجہ بندی میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتیں۔ ابھی چند ماہ پہلے جامعہ پنجاب سمیت سات یونیورسٹیوں نے بین الاقوامی درجہ بندی میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان جامعات اور ان کے سربراہان کی اعلیٰ ترین سطح پر پذیرائی کی جاتی۔ انہیں انعامات سے نوازا جاتا۔ اس کامیابی کی خوشی میں انہیں تعلیمی بجٹ میں اضافے کی نوید سنائی جاتی۔ مگر حکومت نے بجٹ میں پچاس فیصد کمی کا عندیہ دیا ہے اور یہ پیغام بھی کہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے۔ ”چندہ“ مہم چلانے کی تیاری کریں۔ ایسے حالات میں کسے پڑی ہے کہ معیار تعلیم میں بہتری اور عالمی درجہ بندی میں جگہ پانے کے لئے کوششیں کرتا رہے۔

بر سراقتدار آنے سے قبل عمران خان اپنے ہر جلسے میں تعلیم کی اہمیت بیان کیا کرتے تھے۔ تعلیم کے لئے کم بجٹ مختص کرنے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگْْ (ن) کی حکومتوں پر ہدف تنقید بنایا کرتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ تعلیم جیسا اہم شعبہ ان حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ برسر اقتدار آنے کی صورت تعلیمی بجٹ بڑھانے کے وعدے کیا کرتے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو ایک سال کا عرصہ ہونے والا ہے، تاہم ابھی تک کوئی تعلیمی پالیسی وضع نہیں ہو سکی۔

جہاں دیکھیں انتہائی بے سمتی کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر کئی ماہ سے پنجاب کی درجن بھر جامعات مستقل سربراہان کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سربراہ بھی مقرر نہیں ہو سکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں شروع ہونے والے وزیر اعظم فیس reimbursement پروگرام رکنے کی خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت بلوچستان، فاٹا اور دیگر دور دراز علاقوں کے طالب علموں کی فیس ادا کی جاتی تھی۔

عمران خان ہمیشہ سے ملائشیاء کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ ملائشیا کی ترقی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ انہیں یقینا معلوم ہوگا کہ ملائشیا کی ترقی میں مہاتیر کی تعلیمی پالیسیوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ تیس برس قبل، جب مہاتیر محمد پہلی بار بر سراقتدار آئے تو انہوں نے ملکی بجٹ کا 30 فیصد تعلیم کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ابھی چند ماہ پہلے مہاتیر حکومت نے اپنا بجٹ پیش کیا ہے جس میں تعلیم کے لئے کثیر بجٹ شامل ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ ”60 ارب رنگیٹ) 2040 ارب روپیہ) کا بجٹ تعلیم کے لئے مختص کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو پہلے سے زیادہ علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے“۔ ہمارے لئے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ملائشیا جیسی ترقی کرنی ہے تو مہاتیر محمد جیسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سارے قضیے میں اپوزیشن کی احتجاجی آواز سننے کو نہیں ملی۔ نہایت ضروری ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ کوئی بھی حکومتی فیصلہ یا اقدام جو تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے، اسے رکوانے کے لئے حکومت کو دبا و میں لائے۔ بالکل ویسے ہی جیسے شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا سربراہ بنانے کے لئے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ فروری کے آغاز میں میڈیا پر خبریں تھیں کہ حکومت دفاعی بجٹ میں کمی کے متعلق سوچ رہی ہے۔

انہی دنوں ایک کابینہ اجلاس کے بعد اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ”کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ دفاعی بجٹ میں کسی قسم کی کمی نہیں ہو گی۔ ہمارا دفاعی بجٹ انڈیا سمیت خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے اور اس میں اضافے کی ضرورت ہے“۔ تعلیم بھی قوموں کی بقا اور دفاع کا معاملہ ہوا کرتا ہے۔ کاش موجودہ حکومت تعلیمی بجٹ کو بھی اتنی ہی اہمیت دے اور کوئی حکومتی ترجمان قوم اعلان کرئے کہ ”کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیمی بجٹ میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوگی۔ ہمارا تعلیمی بجٹ انڈیا سمیت خطے کے دیگر ممالک کے بجٹ سے کم ہے اور اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •