کیا روحانیت سائنس سے متصل ہو سکتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کپتان نے القادر یونیورسٹی کے حالیہ افتتاح پر روحانیت اور سائنس کو ایک کر کے اس ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سائنس کو مذہب کے ہمیشہ خلاف تصور کیا گیا ہو اور جہاں سائنسی ایجادات کے خلاف با قاعدہ فتوے دیے گئے ہوں، اس ملک میں سائنس کے ساتھ مذہبی تعلیم کیا واقعی قابل عمل یا قابل قبول ہے؟

جدید دور میں اوشو وہ فلسفی ہے جس نے روحانیت اور سائنس کے ملاپ کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اوشو کے مطابق سائنس کے دو حصے ہیں، معلوم اور غیر معلوم۔ جب کہ روحانیت کے تین حصے ہیں، معلوم، غیر معلوم اور نا قابل معلوم۔ یعنی وہ علم جو نا قابل دست رس ہے۔ اسی طرح سائنس اور روحانیت کے اتصال کے بارے میں اوشو کہتا ہے کہ ”سائنس کا بلند ترین درجہ مذہب (روحانیت) ہے، جب کہ مذہب (روحانیت) کا بلند ترین درجہ سائنس ہے۔“

لیکن کیا مذہب اور سائنس کا اتصال صرف فلسفہ ہی میں ممکن ہے، یا یہ کوئی قابل عمل نظریہ بھی ہے؟ سائنس کا علم مادہ سے متعلق ہے یہی وجہ ہے کہ سائنس ہر اس نکتے پر خاموش ہے جہاں مادہ کی جگہ غیر مادہ لے لیتا ہے۔ مثال کے طور پر خدا کا وجود، بعد از زندگی کا تصور اور جنت یا دوزخ کے تصورات پر سائنس خاموش ہے لیکن مذہب کی اساس یہی تصورات ہیں۔

سائنس اصول فراہم کرتی ہے اور یہ اصول پوری دنیا میں ریاضی کے اصولوں کے مطابق ایک طرح کام کرتے ہیں۔ جس طرح دو جمع دو کا نتیجہ دنیا کے ہر کونے میں اور ہر شخص کے لئے چار ہی ہو گا، اسی طرح ہر سائنسی اصول کا نتیجہ دنیا کے ہر کونے اور ہر شخص کے لئے بھی یک ساں ہو گا۔ H 2 O پانی کا سائنسی فارمولا ہے جس کا مطلب ہے کہ دنیا میں جہاں پر بھی ہائیڈروجن کے دو اور آکسیجن کا ایک ایٹم ہو گا، پانی بنے گا یا پانی بننے کے لئے دنیا میں ہر جگہ ہائیڈروجن کے دو اور آکسیجن کا ایک ایٹم درکار ہو گا۔

لیکن کیا مذاہب کی بنیاد بھی ایسے مستقل اصولوں پر قائم ہے؟ شاید ایسا نہیں ہے، بلکہ مذہب ایک خالص ذاتی تجربہ ہے اور کسی ایک شخص کا ذاتی تجربہ دوسرے کے لئے غالباً پوری طرح قابل عمل یا قابل تقلید نہی ہو سکتا۔ مذہب کی بنیاد سائنسی اصولوں کے بر عکس نا معلوم اور غیر موجود پر یقین پر ہوتی ہے۔ چوں کہ مذہب کی بنیاد کسی سائنسی اصول کی طرح مستقل نہیں، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص مذہب کی تشریح اپنی سمجھ اور استعداد کے مطابق کرنے میں آزاد ہے۔ اور یہی آزادی مذاہب کے اندر گروہی تقسیم پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ میں مذہب اور سائنس ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نظر آئے ہیں۔ گو کہ طاقت زیادہ تر مذہبی لوگوں کے پاس رہی۔ اسی لئے کیمیا دان پیٹر ایٹ‌کنز جیسے چند سائنسدانوں پر مشتمل ایک گروہ یہ سمجھتا ہے کہ مذہب اور سائنس کے مابین مصالحت ”نا ممکن‏ ہے۔ ‏

ایک دوسرا گروہ جو مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے سائنس کو ایمان کی تباہی کا ذمہ‌ دار ٹھہراتا ہے۔ ‏ایسے اشخاص کا خیال ہے کہ جس طرح آج کل سائنس پر عمل کِیا جا رہا ہے وہ سب محض دھوکا ہے۔‏ شاید حقائق میں کچھ صداقت ہو مگر اِن حقائق کی غلط ترجمانی ایمانداروں کے اعتقادات کو کم زور کرتی ہے۔ ‏ مثال کے طور پر، ‏ماہرِحیاتیات ولیم پرووِن بیان کرتا ہے کہ ڈارون‌ ازم کا مطلب یہ ہے کہ ”‏اخلاقی قدروں کے لئے نہ کوئی حتمی بنیاد ہے اور نا ہی زندگی کا کوئی حقیقی مقصد۔‏“ ‏

تاہم، ‏بعض اختلافات دونوں طرف سے کیے جانے والے جھوٹے اور غیر مصدقہ دعوؤں سے پیدا ہوتے ہیں۔ ‏ صدیوں سے، ‏ مذہبی راہنما ایسی فرضی داستانیں اور غلط عقائد سکھاتے رہے ہیں جو کہ جدید سائنسی دریافتوں اور الہامی صحائف سے متفق نہیں تھے۔ ‏مثال کے طور پر، ‏ رومن کیتھولک چرچ نے اسی وجہ سے گلیلیو کو صحیح نتیجہ اخذ کرنے پر سزا سنا دی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ ‏گلیلیو کا نظریہ کسی بھی لحاظ سے بائبل سے نہیں ٹکراتا تھا مگر یہ اُس وقت کی چرچ تعلیمات کے بالکل بر عکس تھا۔ ‏

کچھ حضرات ما بعد الطبیعات یعنی Metaphysics کو سائنس ہی کا کوئی علم سمجھتے ہیں حالاں کہ یہ فلسفہ کی ایک شاخ ہے جو وجود کے داخلی اور غیر مادی حصے پر بحث کرتی ہے۔ مذہب اور سائنس کی یہ بحث جتنی پرانی ہے اتنی ہی لاینحل بھی۔ اب دیکھتے ہیں کہ ملک عزیز میں بننے والی یونیورسٹی ان دونوں متضاد نظریات کو کیسے لے کر چلتی ہے۔ ابھی تک کا مشاہدہ تو یہی بتاتا ہے کہ وطن عزیز میں سائنس اور مذہب کے ٹکراؤ کے نتیجے میں سائنس ہی کو مذہبی ہونا پڑا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •