کمسن تتلیوں کے رنگ، لہو اور یوم حساب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امرتا پریتم کہتی تھیں “ہمارے خطے کے مرد نے عورت کے ساتھ سونا سیکھا ہے، جاگنا نہیں”

اور ظاہر ہے سونے کے لیئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی، بس ایک بچی یا لڑکی یا عورت نما مخلوق ہونی چاہیے

قومی اسمبلی میں تین پرجوش مردوں کو کم عمری کی شادی کے خلاف کھڑا دیکھ کے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی ہے بقول ان مرد حضرات کے، کم عمری کی شادی اسلام کے عین مطابق ہے۔

اسلام کی آڑ میں نفسانی خواہشات پہ جان دینے والوں کو میرا سلام۔

بلوغت بلوغت کی رٹ لگانے والے ان پھسڈی کم علموں کو معلوم ہے کہ بلوغت آخر ہے کیا ؟

میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے کہ بلوغت (puberty ) کا قطعی یہ معنی نہیں کہ جسم میں کچھ ظاہری تبدیلیاں اس فرد کو جسمانی، دماغی، جنسی اور جذباتی طور پہ بھی پختہ کر دیں۔

بلوغت نام ہے ایک ایسے دور کا جو محیط ہے کم وبیش آٹھ سے دس سال پہ، جو اس فرد کوتعلیم و آگہی کا زیور دے کر تیار کرتا ہے آنے والے سالوں کے سرد و گرم سہنے کو، ذمہ داریاں نبھانے کو، اور اگلی نسل کو پروان چڑھانے کے قابل ہونے کو.

ان سالوں میں نئے نئے ہارمون پیدا ہوتے ہیں، انسانی اعضا مضبوطی پکڑ رہے ہوتے ہیں، ذہن بچپن اور سمجھداری کے سنگم پہ کھڑا ہوتا ہے، جذباتی کشمکش عروج پہ ہوتی ہے.

فرد اپنی پہچان کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کب ہنسنا اور کب رونا ہے، اس کی سمجھ نہیں ہوتی۔ کس کو دوست ماننا ہے اور کس کو دشمن، پہچان نہیں ہوتی۔ فرد کے اپنی ذات پر کیا حقوق ہیں، اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ کونسا لمس شفقت بھرا ہے اور کونسا نفسانی، جاننا ناممکن۔

جسم اور دماغ کی تکمیل تقریباً عمر کے چوبیسویں برس مکمل ہوتی ہے۔ جسم اپنی بڑھوتری مکمل کر لیتا ہے، ذات میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ دماغ میں ایک سوچ بن جاتی ہے۔

اس وقت فرد قابل ہوتا ہے اپنی فکر سے، آئیڈیالوجی قائم کرنے، معاشرے میں مثبت اور فعال کردار ادا کرنے، ازدواجی زندگی کے مشکل مراحل سے ہوتے ہوئے، زچگی میں موت کی سرحد کو پار کر کے نئی نسل کو پروان چڑھانے کا۔

یہ وہ وقت ہے جب لوگ زندگی کے سفر میں واقعی ہم سفر بنتے ہیں

ٹین ایج یعنی بیس سال سے پہلے کی عمر انتہائی خطر ناک عمر گنی جاتی ہے۔ اسے بچپن اور نوجوانی کے سنگم پہ کھڑے بچوں کے لئے کیسے سہل بنایا جا سکتا ہے، دنیا بھر کے سائیکالوجیسٹ اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس عمر کے عذاب سے گزرنے والا بچہ / والی بچی ماں باپ کی ذمہ داری بھی ہے اور ماں باپ کی غیر مشروط سپورٹ کا امیدوار بھی، چاہے لڑکا ہو یا لڑکی۔

ہمارے معاشرے میں لڑکی کی بلوغت کا صرف ایک مطلب سمجھا جاتا ہے کہ لڑکی کے جسم میں ماہانہ نظام چالو ہو گیا، سو اب وہ جنسی عمل کرنے کے قابل ہے۔ اس قابلیت کو کافی سمجھتے ہوئے جاتی جوانی کو روکنے کے چاؤ میں عمر رسیدہ و بوسیدہ، دیو قامت، گرانڈیل، گھناؤنے مرد اپنی ہتھیلی پہ رکھی ہوئی چڑیا نما بچی سے تعلق قائم کرتے ہیں اور اس تعلق کے نتیجے میں وہ بچی کیسے زخم زخم ہوتی ہے، یہ ہمارے معاشرے کے وہ سمجھ دار مرد کیا سمجھیں جو اسمبلی میں چھاتی پھلا کے، مونچھوں پہ تاؤ دے کے اپنے آپ کو اسلام کے سپاہی گردانتے ہوۓاسے عین اسلام قرار دیتے ہیں۔

ان عاقبت نااندیشوں نے اپنی فروعی تشریحات میں اسلام جیسے خوبصورت اور آفاقی مذہب کو ایک ایسی بدصورتی میں بدل ڈالا ہے جہاں ہر راستے پہ عورت کا استحصال ہونے والے فتوے نظر آتے ہیں۔

زمانہ جاہلیت میں زندہ رہنے والوں کی لن ترانیاں سن کے محسوس یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام سے پہلے کی عورت کو، اسلام کی روشنی سے گڈمڈ کر کے ایک ایسی بھدی تصویر بنائی ہے جو خلقت دنیا کو حیران سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔

 اس تصویر میں عورت آج بھی مصلوب ہے۔ چودہ سو سال پہلے پیدا ہوتے ہی زمین میں گاڑی جاتی تھی اور آج بھی دفن کی جاتی ہے جانور نما مرد کی بے حدود وقیود نفسانی خواہشات کی چادر تلے۔

میرے پاس جتنی بھی ٹین ایج کی حاملہ بچیاں آتی ہیں ان سب میں ایک بات مشترک ہوتی ہے۔ چہرے پہ بےچارگی، پیلی رنگت، پھٹی پھٹی آنکھیں، روبوٹ جیسی حرکات، گم آواز، چڑیا سا کمزور جسم اور بڑھا ہوا پیٹ، جواب دیتے ہوئے آواز میں لرزش، مدد کے لیئے ساس یا ماں کی طرف اٹھتی ملتجیہ نظریں۔

وہ سمجھ ہی نہیں پاتیں کہ گھر کے آنگن میں کھیلتے کھیلتے، خوابوں کے ہنڈولے میں جھولتے جھولتے وہ کس دنیا میں آ گئی ہیں۔ ان کی عمر کا تقاضا ماں کے کندھے سے لگ کے کپڑے کی بنی ہوئی گڑیاں کھیلنا ہے پر سماج نے مذہب کے نام پہ جیتی جاگتی گڑیا گود میں ڈالنے کا بندوبست کر دیا ہے۔

ابھی تو اپنی ذات ہی کی آگہی نہ ہوئی تھی کہ پیٹ میں زندگی آ ٹھہری اور اس زندگی کو دنیا میں لاتے لاتے ان کا جسم کیسے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے، اور بول وبراز پہ اپنا اختیار کھو کے وہ کیسے زندہ درگور ہو جاتی ہیں، کیسے لاچاری کی زندگی جیتی ہیں، یہ روز کی کہانی ہے۔

ان لڑکیوں میں کتنی دماغی مریض بن جاتی ہیں، ان کے بچے کیسی کیسی اینگزائٹی لے کے زندگی کی شاہراہ پہ چلتے ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا۔

ہماری ایک دوست جو بہت مذہبی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں، بتا رہی تھیں کہ ان کی برادری میں بیس سال کی عمر تک ہر لڑکی دو تین بچوں کی ماں بن چکی ہوتی ہے اور ریفرنس وہی ہے، مطہرات مقدسہ کی کم عمری کی شادیوں کی مثال۔ سوائے اس مثال (جو کہ ہرگز غیرمتنازع نہیں)، ان بے مثال ہستیوں کی علمی قابلیت اور آزادی اظہار راۓ کی کوئی تقلید نہیں کرنا چاہتا۔

ہماری اماں کی شادی سولہ سال میں ہوئی۔ ہمارے ابا بہت قدردان تھے۔ پہلا بچہ بھی جب اماں بائیس برس کی ہوئیں تو پیدا ہوا۔ ساس نند کی پخ بھی نہ تھی۔ ہماری اماں نے بہت آزاد اور مرضی کی زندگی گزاری۔ اس کے باوجود ساری عمر انہوں نے اپنی سولہ سال کی شادی کے متعلق بات کی، ہمیشہ بتایا کہ وہ کتنی خوفزدہ تھیں، کتنی اداس تھیں۔ انہیں ساری عمر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ نہ رہنے کا افسوس رہا۔ انہوں نے مرتے دم تک اپنے ابا کے گھر کو یاد کیا اگر چہ وہ میرے ابا کےگھر کی بلاشرکت و غیرے مالک تھیں۔

ایک تقریب میں ایک پینتیس سالہ سمارٹ، دل کش خاتون سے ملاقات ہوئی، ساتھ میں اٹھارہ انیس سال کی دو بیٹیاں۔ معلوم ہوا کہ پندرہ سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ وہ بتانے لگیں کہ ان کے شوہر نے ان کا بہت خیال رکھا مگر وہ کبھی اپنی بیٹیوں کو کم عمری میں نہیں بیاہیں گی۔ ان کے مطابق یہ انتہائی خوفزدہ کرنے والاتجربہ تھا۔

ہم اپنے معاشرے کے تمام مردوں سے جو اسی قسم کی ہوس کے پجاری ہیں، التجا کرتے ہیں کہ ان پھولوں کو مت مسلیے، ان تتلیوں کے پر مت توڑیے، ان کے رنگ آپ کے قاتل ہاتھوں پہ رہ جائیں گے اور چھوٹیں گے نہیں۔

ڈریے اس دن سے جب خالق کے حضور یہ رنگ باتیں کریں اور ان باتوں سے لہو کی خوشبو آئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •