چین سے واپس لائی جانے والی پاکستانی لڑکیوں کی کہانیاں

سحر بلوچ & محمد زبیر خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئے دن پاکستانی خواتین کی چینی مردوں کے ساتھ شادیاں کروا کر انھیں چین لے جانے اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والے تشدد، جسم فروشی اور انسانی اعضا نکالنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے مطابق ان کے پاس ایسے سیکڑوں کیس آ چکے ہیں۔ بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں اس حوالے سے روزانہ دو، تین متاثرہ خواتین یا ان کے عزیزواقارب کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور اب تک تقریباً 20 خواتین کو پاکستان واپس بھجوایا جا چکا ہے۔

بی بی سی نے چند ایسی خواتین سے رابطہ کیا جو چینی مردوں سے شادی کر کے چین گئیں اور پھر پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان خواتین پر جو بیتی، ان ہی کی زبانی سنیں۔

ثمینہ مسیح (فرضی نام)

میری عمر 20 سال ہے اور میرا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔

ہمار ے پڑوسی روبنسن کے ذریعے ہمارے گھر چینی لڑکے کا رشتہ آیا تھا۔ روبنسن نے میرے گھر والوں کو تصویریں دکھائیں اور کہا کہ اگر چینی لڑکوں کو آپ کی لڑکی پسند آ گئی تو آپ کی بیٹی کی زندگی بدل جائے گی۔

میری زندگی سچ میں بدل گئی۔ میری شادی 24 ستمبر کو لی تاؤ کے ساتھ کی گئی۔ پہلے مجھے ایک ماہ کے لیے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں رکھا گیا۔ یہاں میرے علاوہ تین اور لڑکیاں تھیں۔

میرا وی چیٹ پر اکاؤنٹ بھی بنایا گیا لیکن وہ میرے شوہر کے استعمال میں تھا۔ کاغذات بنتے ہی ہم چین چلے گئے۔ تین دن کے جہاز، ٹرین اور گاڑی کے سفر کے بعد ہم دونوں شنگہائی کے پاس واقع شہر جیانگ سُو پہنچے۔ لی تاؤ کے گھر میں ایک کمرہ اور لاؤنج تھا۔ پورے گھر میں ایک واش روم تھا۔ لی تاؤ نے مجھے ایک عورت سے ملوایا جن کا تعارف انھوں نے اپنی والدہ کے طور پر کروایا۔ وہ ہمارے ساتھ ہی رہ رہی تھی لیکن زیادہ بات نہیں کرتی تھی۔

وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی جانتا تھا اور مجھے بھی تھوڑی سی انگریزی آتی تھی، تو مختصر بات ہو جاتی تھی۔ شادی کے کچھ ہی دنوں بعد میرا شوہر شام کو نشے میں دُھت گھر آ کر مجھ سے زور زبردستی سے جنسی تعلق کا مطالبہ کرنے لگ گیا۔ مجھے لگا جیسے میں اس کی خریدی ہوئی چیز ہوں جس کو وہ جیسے چاہے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ میں اس کو منع کرتی تو مجھے مارتا پیٹتا تھا۔

میرے والدین سے کہا گیا تھا کہ لڑکا سی پیک میں ملازمت کرتا ہے۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ وہ ایک کمپیوٹر انجینئیر ہے۔ کہاں کمپیوٹر انجینئیر ہے، یہ نہیں پتا چل سکا۔

میں دن میں چین میں رہنے والی باقی لڑکیوں سے بات کرنے لگ گئی۔ میں نانچنگ میں رہنے والی ایک لڑکی کو پہلے سے جانتی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ کچھ بھی ہو، اس کے ساتھ کہیں باہر مت جانا۔ اس کے شوہر نے اس کو ایک ڈانس بار لے جا کر اپنے دوستوں کے پاس چھوڑ دیا تھا اور لاکھ چیخ و پکار پر بھی کوئی اس کو بچانے نہیں آیا۔

مجھے یہ باتیں سن کر ڈر ضرور لگا، لیکن اب تک مجھے میرے شوہر نے اپنے کسی دوست سے نہیں ملوایا تھا، تو میں خود کو تسلی دیتی رہی۔ پھر ایک روز لی تاؤ مجھے کچھ لوگوں سے ملوانے باہر لے گیا۔ وہ فیکٹری جیسی جگہ تھی جہاں صرف مرد تھے۔ سب مجھے گھور رہے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں، لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اس سے گاڑی کی چابی چھین کر خود کو گاڑی میں بند کر لیا۔ تماشا تو بنا اور بہت وقت ضائع ہوا، لیکن وہ مجھے وہاں سے لے گیا۔

گھر آ کر اس نے مجھے خوب مارا پیٹا اور مجھ سے میرا فون چھین لیا۔ اس نے میرا وی چیٹ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ میرا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، شادی کا سرٹیفیکیٹ سب اس کے پاس تھا۔ اسی رات میں نے اپنی نس کاٹنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکی۔ میرے جسم میں اتنا خون ہی نہیں تھا کیونکہ میں تین تین دن کھانا نہیں کھاتی تھی۔

اس واقعے کے دوسرے دن میرا شوہر میرے لیے کورن اور مشروُم سوپ لے کر آیا۔ لیکن اس کو پینے کے بعد میں رات میں کسی وقت اٹھی اور میرے سر میں شدید درد تھا۔ شاید میری چیخ و پکار کی وجہ سے مجھے نیند کی گولیاں کھلائی گئیں۔ میرا دماغ کئی دنوں تک ماؤف رہا۔

ایک روز ہمت کر کے میں نے مقامی پولیس کو فون کیا۔ پولیس نے مجھے کہا کہ اب چین آپ کا گھر ہے، جو بھی مسئلہ ہے ہمیں بتائیں، ہم حل کریں گے۔

میں نے ان کو کہا کہ میرے شوہر نے میرا فون اور سارے کاغذات چھین لیے ہیں، وہ مجھے دلا دیں۔ اگر آپ لوگ میری مدد نہیں کریں گے تو میں آپ کی شکایت کروں گی یا پھر آپ کے سامنے اپنی جان لے لوں گی۔ پولیس والوں نے میرے شوہر کو پابند کیا کہ وہ میرے سارے کاغذات واپس دے۔ میں نے کاغذات اور باقی چیزیں ملتے ہی اپنے والدین کو فون کیا اور انھوں نے پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا۔ پھر میرے والد نے شاہ محمود قریشی تک کو خط لکھ دیا۔

اس پورے عمل میں پانچ ماہ لگ گئے اور مجھے واپس بھیج دیا گیا۔ میں ایک ماہ پہلے اپنے گھر واپس آئی ہوں۔ میرے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ میں نے اب بتانے کی ہمت اس لیے کی کیونکہ اب لڑکیاں سامنے آرہی ہیں اور درخواستیں بھی جمع کروا رہی ہیں۔اس سے یہ ہو گا کہ اور لڑکیاں وہاں نہیں جائیں گی۔‘

نمازی
’جب میں نماز پڑھنے کی کوشش کرتی تو میرے میاں میرا مذاق اڑاتے‘

مونا گل (فرضی نام)

میں پاکستان کے شہر لاہور کی رہائشی ہوں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے ہاں مذہب کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔

اسی لیے جب ہمارے علاقے کے مقامی مدرسے کے مہتمم نے میرے رشتے کے لیے والد صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں نے رشتہ دے دیا کیونکہ مدرسے کے مہتمم نے کہا تھا کہ انھوں نے بہت سی لڑکیوں کی چین کے باشندوں سے شادیاں کروائی ہیں اور سب بہت مطمئن اور خوش ہیں۔

مجھے ایک ماہ تک پاکستان میں ہی رکھا گیا جہاں پر اور بھی بہت سی پاکستانی خواتین موجود تھیں۔ سب میری طرح غریب خاندانوں سے تھیں۔ کچھ خواتین مسلمان جبکہ زیادہ تر مسیحی تھیں۔ سب ہی اچھے مستقبل کی آس لگائے بیٹھی تھیں۔

پاکستان میں تو بہت سبز باغ دکھائے گئے، مگر جب ایک ماہ بعد چین پہنچی تو حالات یک دم تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔

مجھے بیجنگ کے قریب سانچا نامی ایک گاؤں میں لے جایا گیا۔ جس جگہ پر رکھا گیا وہ ایک غار تھا جس کے اندر ایک کمرہ تھا۔ وہاں کوئی کچن، باتھ روم وغیرہ نہیں تھا۔

لیکن جب میں نے شور مچایا تو مجھے میرے نام نہاد خاوند نے منہ پر ایک زوردار تھپڑ مارا اور کہا ’ہم تمھیں خرید کر لائے ہیں، تم کوئی مطالبہ نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کا حق رکھتی ہو۔‘

یہاں مجھے پتا چلا کہ میرے خاوند کا تو کوئی مذہب ہی نہیں ہے۔ جب میں نماز پڑھنے کی کوشش کرتی تو وہ میرا مذاق اڑاتا تھا۔ میں نے ایک دفعہ ہمت کر کے اس سے پوچھ لیا کہ مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ کیسے ملا تو اس نے بتایا کہ پیسے دے کر خریدا تھا۔

وہاں پہنچنے کے تیسرے روز شام کو شراب کے نشے میں دھت لوگ آئے اور میرے خاوند نے مجھ سے ان کے ساتھ جانے کا کہا۔

میں نے انکار کیا تو اس نے وہیں ان کے سامنے مجھے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ وہ لوگ تو چلے گئے مگر وہ مجھ پر تشدد کرتا رہا۔ بے ہوش ہو گئی اور بھر پتا نہیں کتنی دیر بعد ہوش آیا۔

اس کے بعد تو یہ روز کا معمول بن گیا تھا کہ وہاں پر لوگ آتے اور وہ مجھے ان کے ساتھ جانے کا کہتا۔ میں انکار کرتی تو مجھ پر تشدد کیا جاتا۔

مارنے کے بعد وہ میرا میک اپ کرتا اور پھر میری ایسی ویڈیو بناتا جس میں کچھ اس طرح کے پیغامات ریکارڈ کرنا پڑتے تھے کہ میں بہت خوش ہوں، بہت بڑے گھر میں رہتی ہوں اور یہ کہ دیگر پاکستانی لڑکیاں بھی بہت خوش ہیں۔

مجھے اس سے یہ سمجھ آیا کہ میرے ذریعے وہ مزید لڑکیوں کو شکار بنانا چاہتا ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میرے رشتے کی بات چل رہی تھی تو چین میں موجود پاکستانی لڑکی سے میری بات کروائی گئی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں یہاں پر بہت خوش ہوں۔

مگر حقیقت یہ تھی کہ جب مجھے ایک مرتبہ اس کے پاس لے کر گئے تو وہ لڑکی آٹھ ماہ کے حمل سے تھی اور اس کی حالت بہت خراب تھی۔

مجھے میرے نام نہاد خاوند نے اس کے پاس زیادہ دیر تو نہیں چھوڑا، مگر جو بھی وقت ملا میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے فون پر تو کچھ اور بتایا تھا۔

اس پر وہ کہنے لگی ’میں مجبور تھی۔ مجھے جو کہا گیا وہی کہنا تھا، چین میں پاکستانی لڑکیوں کے حالات بہت زیادہ خراب ہیں جو میں بتا بھی نہیں سکتی۔‘

جسم فروشی سے مسلسل انکار کے بعد اس نے مجھے دھمکی دینا شروع کردی تھی کہ اپنے پیسے پورے کرنے کے لیے وہ میرے جسمانی اعضا نکال کر فروخت کرسکتا ہے اور اس سے پہلے وہ چار پانچ لڑکیوں کے ساتھ یہ کام کر چکا ہے۔

مجھے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں میرے گھر والے بھی محفوظ نہیں ہیں۔

اس نے مجھے مختلف ویڈیوز بھی دکھائیں جن میں لوگوں کو قتل کیا جا رہا جا تھا یا ہسپتال کا بستر تھا جس میں بے ہوش کیا جا رہا تھا اور ان کے اعضا نکالے جا رہے تھے۔

میں واضح طور پر پھنس چکی تھی۔

ایک رات میں نے سوچا کہ اس طرح تو گزارا نہیں ہو گا، جس کے بعد میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ میں اس کے ساتھ تعاون کروں گی، مگر مجھے چیزوں کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔

اس نے میرا امتحان لینے کے لیے مجھے حرام اشیا کھانے کو پیش کیں، میں نے کئی دن سے کچھ کھایا بھی نہیں تھا اس لیے وہ اشیا کھا لیں تو اس کا مجھ پر کچھ اعتماد بڑھا۔

اگلے دن میرے خاوند نے کہا کہ گاہک آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ کچھ دن اور دے دو اور کچھ ایکٹنگ وغیرہ بھی کی۔

اس نے میری بات پر یقین کر لیا اور مجھے موبائل استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔ اس کا میں نے فائدہ اٹھایا اور اپنی بہن کو فون کیا اور اس کو سارے حالات بتائے۔

پھر میری بہن نے پاکستان اور بیجنگ میں سفارت خانے کے ساتھ رابطے کیے۔

بہن سے رابطے کو چھ، سات روز ہو چکے تھے۔ میں اپنی زندگی سے مایوس ہو چکی تھی کہ اچانک چین کی پولیس اور سماجی بہبود کے ادارے کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا۔ ان کے ساتھ پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار بھی موجود تھے جنھوں نے فی الفور مجھے اپنی تحویل میں لیا۔

مجھے بتایا گیا کہ میری بہن کی درخواست پر پاکستانی سفارت خانے نے کارروائی کی تھی۔

جب مجھے پاکستانی سفارت خانے نے اپنی تحویل میں لیا تو اس وقت میری حالت دیکھ کر پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار بھی رو پڑے تھے۔ وہ مجھے وہاں سے لے کر بیجنگ آئے اور دوسرے ہی روز مجھے واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔

حمیرا خان (فرضی نام)

جوڑا
میرے خاوند نے کہا ’یہ پاکستان میں میری پہلی شادی ہے، مگر جلد ہی دوسری بھی کر لوں گا کیونکہ پاکستانی لڑکیاں بہت خوبصورت ہیں اور ان کی بہت مانگ ہے‘

میرا آبائی تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور مذہب عیسائیت ہے۔ ملازمت کے سلسلے میں میرے والد اسلام آباد میں مقیم ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ رہتی ہوں۔

ہماری زندگیوں میں چرچ کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور میرا خاندان ہر اتوار کو چرچ لازمی جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب مقامی چرچ سے منسلک شخصیت نے والد صاحب کو چین کا رشتہ بتایا اور یہ بھی بتایا کہ لڑکا مسیحی ہے اور سی پیک میں ملازمت کرتا تھا تو میں نے بھی ہاں کر دی۔ میری شادی گذشتہ سال جولائی میں ہوئی تھی اور میں ستمبر میں چین پہنچ گئی۔

شادی کے بعد ہم صرف 15 دن تک پاکستان میں رہے تھے۔ چین میں مجھے ٹیکٹسر نامی گاؤں میں لے جایا گیا تھا۔

اس جگہ کے بارے میں یہ تو کہا جا رہا تھا کہ گھر ہے مگر مجھے وہ کبھی بھی گھر نہیں لگا۔ وہ کوئی کلب کی طرح کی چیز ہو سکتی ہے۔

اس بارے میں بات کرنے پر میرے خاوند نے پہلی مرتبہ مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ تمھارے گھر والوں، شادی کروانے والوں، سب کو پیسے دے کر لایا ہوں، تمھیں وہی کرنا ہو گا جو میں کہوں گا۔

پاکستان میں میرا خاوند شراب نہیں پیتا تھا، مگر چین پہنچتے ہی اس نے سب سے پہلا کام شراب نوشی اور مجھ پر بلا وجہ تشدد کیا تھا۔ جب میں نے اس کو یسوع مسیح کا واسطہ دیا تو وہ ہنسا اور کہنے لگا کہ ’کون سا مذہب اور کس کا مذہب؟‘ یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔

وہ گاہک لاتا، میں انکار کرتی تو مجھے مار پڑتی تھی۔ ایک روز تو اس نے مجھے الٹا لٹکا کر مجھے برہنہ کیا اور تصاویر اور ویڈیو بناتا رہا۔

ایک روز جب میں نے کہا کہ میں تمھاری بیوی ہوں تم مجھے شادی کرکے لائے ہو تو وہ ہنستا اور کہنے لگا کہ اس سے پہلے وہ فلپائن، بھارت سے بھی ایسی شادیاں کر چکا ہے اور یہ کہ پاکستان میں پہلی شادی ہے مگر جلد ہی دوسری بھی کرے گا کیونکہ پاکستانی لڑکیاں بہت خوبصورت ہیں اور ان کی بہت مانگ ہے۔

جب میرا انکار بہت زیادہ ہو گیا تو ایک روز ایک ڈاکٹر آیا اور اس نے میرے جسم کا ناپ وغیرہ لیا۔ جس کے بعد مجھے شک ہوا کہ شاید یہ میرے جسمانی اعضا فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ میں کئی روز سو بھی نہیں سکی تھی۔ اس ساری صورتحال کا تجزیہ کیا اور پھر اپنے خاوند سے کہا کہ میں جسم فروشی کے لیے تیار ہوں مگر کچھ وقت چاہیے۔ میرا بدلا ہوا رویہ دیکھ کر اس نے مجھ پر اعتماد کرنا شروع کردیا۔

اس دوران ایک روز مجھے تنہائی میں موبائل استعمال کرنے کا موقع مل گیا۔ حالانکہ اس سے پہلے گھر والوں سے وہ اپنے موجودگی میں بات کرواتا تھا۔ میں نے اپنے والد صاحب کو ساری صورتحال بتا دی تھی۔ انھوں نے فوراً بیجنگ میں سفارت خانے سے رابطے کیے۔

مجھے امید تھی کہ والد صاحب کچھ نہ کچھ کریں گے مگر دو، تین دن تک کچھ نہ ہوا۔ میں امید اور ناامیدی کے درمیان میں تھی کہ اچانک پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار چین کی پولیس کے ہمراہ وہاں پر پہنچ گئے۔ انھوں نے مجھے فی الفور پاکستان پہنچا دیا اور اب میں پاکستان میں ان کے خلاف مقدمہ درج کروا چکی ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8243 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp