امریکہ-ایرن کشیدگی: B-52’ بمبار طیارے قطر پہنچ گئے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ ایران B-52 طیارہ

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشدگی کے دوران اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کے چار بمباری کرنے والے B-52 طاقت ور طیارے قطر میں امریکی فوجی اڈّے پر اُتر گئے ہیں۔

اس سے قبل ایک طیارہ بردار امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln (CVN-72 کو بھی خطے میں پہنچنے کا حکم دیا جا چکا ہے۔ اس وقت یہ بحری جہاز بحیرہِ احمر میں داخل چکا ہے۔

اس خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی میں تیزی آنے کے وجہ امریکہ کا وہ دعویٰ ہے جس میں اُس نے ایران پر خطے میں امریکی تنصیبات پر حملے کرنے کی تیاریاں کرنے کا الزام لگایا ہے۔

ایران نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے امریکی دعویٰ اُسی طرح کی ایک جعلی انٹیلی جینس پر مبنی ہے جو امریکہ نے عراق پر حملے سے قبل دنیا کے سامنے پیش کی تھی۔

اس دوران یورپی طاقتوں نے ایران کے اُس الٹی میٹم کو مسترد کردیا ہے جس میں اس نے یورپ سے کہا تھا کہ وہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی عائد سرمایہ کاری اور تجارت کو بحال کروانے کی کوششیں کرے، بصورت دیگر ایران اس معاہدے کو درجہ بدرجہ معطل کرتا چلا جائے گا۔

امریکہ ایران B-52 طیارہ

ایرانی صدر حسن روحانی نے جوہری معاہدے کی شقوں کو بتدریج معطل کرنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

دور روز قبل ایران کے صدر حسن روحانی نے جے سے پی او اے کی دو شقوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر ساٹھ دنوں میں یورپی طاقتوں نے اس معاہدے کے مطابق ایران پر عائد پابندیاوں کو ہٹانے کے عملی اقدامات نے کیے تو ایران مزید شقیں معطل کردے گا۔

ایران کے اس اعلان کے بعد یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ، اور فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزارائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ‘جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے والوں کے لیے جے سے پی او اے ایک کلیدی کامیابی ہے جو سب کی سیکیورٹی کے مفاد میں ہے۔’

یورپی کے ان رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ‘ہم ایران سے پُر زور انداز میں کہتے ہیں کہ جے سی پی او اے کے تحت جو کچھ بھی طے پایا ہے اس پر اُسی طرح عملدرآمد جاری رکھے جسں طرح وہ اب تک عملدرآمد کرتا رہا ہے اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات لینے سے گریز کرے۔’

ایران اور امریکہ کے درمیان اُس وقت سے ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا

یہ معاہدہ جے سی پی او اے (یا منصوبہ برائے مشترکہ جامع عمل) کہلاتا ہے۔

امریکی صدر نے پچھلے برس اس معاہدے سے علیحدہ ہوتے وقت کہا تھا کہ یہ معاہدہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ بقول اُن کے ایران بدستور خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ تاہم اس معاہدے پر دستخط کرنے والی دیگر طاقتیں اس کو بچانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس معاہدے پر سنہ 2015 میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائے گا اور صرف 3 فیصد یورینیم افزودہ کرسکے گا۔

اس کے عوض ایران پر عائد اقتصادی پاپندیاں ہٹا لی جائیں گیں۔ لیکن گزشتہ برس باوجود اس کے کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے ایران کو اس معاہدے کی مکمل پابندی کی سند دی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اس سے یک طرفہ طور پر علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اب ایران پر مکمل اقتصادی، مالیاتی اور تجارتی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ تاہم یورپ اور دیگر ممالک امریکہ کی ان پابندیوں کی مخالفت کر رہے ہیں تاکہ اس معاہدے کو کسی طور قائم رکھا جائے۔

امریکی نیوی کی اطلاع کے مطابق، ابراہام لنکن نامی طیارہ بردار امریکی بحری جہاز صدر ٹرمپ کے حکم پر بحیرہ روم سے بحیرہ احمر میں داخل ہوگیا ہے۔ اب یہ مشرقِ وسطیٰ میں سینٹرل کمانڈ یا سینٹ کام کہلانے والی امریکی کمان کے تحت امریکی تنصیبات کی حفاظت کرے گا۔ ابراہم لنکن اب امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا حصہ بن جائے گا۔

امریکی افواج کی یہ تبدیلیاں امریکی قومی سلامتی کی کونسل کے اس بیان کے بعد کی جا رہی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے اشتعال انگیز رویے اور نئی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی افواج کی بحیرہ روم سے خلیج کی جانب از سرِ نو تعیناتیاں کر رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے B-52 بمبار طیارے بھی خطے میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پچھلی اتوار کو امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ان تعیناتیوں کو ’خطے میں پریشان کن کشیدگی کے اشاروں اور انتباہ‘ کا ردعمل قرار دیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8890 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp