ہوسٹل کی زندگی اور رمضان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2019 کا ماہ رمضان، لاہور میں میرا تیسرا رمضان ہے۔ 2017 میں انٹر کے امتحانات کے بعد انجیئنرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے حصول کی خاطر انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لیے میں نے لاہور کا رخ کیا۔ اس دن رمضان المبارک کا پہلا روزہ تھا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور ہم لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ بس ڈسکہ سے گوجرانوالہ کی جانب رواں دواں تھی کہ مجھے نیند کے جھٹکے لگنے لگے۔ میرے رفیق نے مجھے لاہور تک سونے نہیں دیا۔ وہ بڑا محتاط تھا کیونکہ وہ پہلے ہی بس میں ایک دفعہ جیب کٹوا چکا تھا۔

لگ بھگ تین گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد ہم جنرل بس سٹینڈ بادامی باغ لاہور پہنچ گئے۔ بھوک شدت اختیار کر چکی تھی ادھر ادھر دیکھا تو رمضان کی وجہ سے سارے ریستوراں بند تھے، سوائے ایک کے جو جنرل بس سٹینڈ کی مرکزی عمارت میں واقع ہے۔ ہم اسی ریستوراں میں بیٹھ گئے ہوٹل کا ملازم ہمارے پاس آیا اور ایک ہی سانس میں اسے نے کوئی دس ایک کھانے گنوا دیے۔ پوچھا آپ کیا لیں گے؟ ہم نے اسے دال ماش لانے کو کہا لیکن جب وہ لے کر آیا تو اس میں چکن کا بھی ایک پیس شامل تھا۔ ہم بڑے حیران ہوئے کہ شاید لاہور میں دال ماش میں مرغ فری ملتا ہے بہر کیف ہم کھانا کھا چکے اور بل کا کہا تو اس میں مرغی کے پیس کے بھی پیسے شامل تھے تو ہم بڑے حیران ہوئے اور کہا کی بھئی ہم نے تو بس دال ماش کا کہا تھا، تو مرغی کے پیسے کیوں ڈالے ملازم نے جھٹ سے کہا، کیا آپ نے چکن کھایا نہیں؟ ہم لا جواب ہوگئے اور چپ ہی میں امان سمجھی۔

چونکہ ہم نے جوہر ٹاون دیے ہوئے ایڈریس پر پہنچنا تھا، جس کے لیے ہمیں آٹو رکشہ کراونا تھا۔ لاہور میں رکشے والے بھی ان جان آدمی کی شکل سے اندازہ لگا کے پیسے بتاتے ہیں، جس کا ہم بھی بری طرح شکار ہوئے۔ اور آخر کار جوہر ٹاون پہنچ گئے۔ دوست کو میں نے باہر سے ہی الوداع کہا اور میں اند چلا گیا۔ ذہن میں تو ہوسٹل کا تصور لے کر آیا تھا لیکن دیکھا کہ یہ ایک شاندار مکان تھا، جسے ہوسٹل بنایا گیا تھا یہ دو بھائیوں کا تھا جن کا تعلق اوکاڑہ سے تھا اور وہ بھی ہماری طرح تھے تو طالب علم لیکن ساتھ ساتھ بزنس بھی چلا رہے تھے۔

دوست نیچے آیا اس نے مجھے خوش آمدید کہا۔ ہم اپنے کمرے میں چلے گئے جس کے ایک جانب الماری ایک کونے میں فریج اور اس کے ساتھ ہی واش روم تھا۔ گرمی بڑی شدید تھی دوست نے فریج سے کولڈ ڈرنک نکالی اور مجھے پیش کردی۔ اور اس نے پوچھا کہ خیریت سے پہنچ گئے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ اب شام ہونے والی تھی میرا روزہ تو نہیں تھا لیکن میرے دوست کا روزہ تھا، جس کے لیے افطاری کا انتظام کرنا تھا۔ اب یہاں سے ہوسٹل اور رمضان کی کہانی شروع ہوتی ہے کہ اقامت گاہوں میں رہنے والے طلبہ کو ویسے تو سال کے 330 دن بھی بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن رمضان جو کہ رحمتوں برکتوں والا مہینا ہوتا اس میں ان مسائل کی شدت بڑھ جاتی ہے، جیسا کہ سحری کا انتظام افطاری کا انتظام سب سے بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

خیر اس دن بھی افطاری کا انتظام کرنا تھا وقت بہت کم تھا تہ یہ پایا کہ آج مسجد میں افطاری کرتے ہیں، کل وقت سے افطاری کا انتظام کر لیں گے۔ ہم مقامی مسجد پہنچے جہاں پہ کھجوروں اور شربت کے ساتھ افطاری کروائی گئی۔ نماز مغرب ادا کرنے کے بعد ہم نے مقامی ریستوراں کا رخ کیا۔ اسی طرح اگلی صبح سحری بھی مقامی ہوٹل سے کی۔ اگلے دن ہمارے کمرے میں اور دو لوگوں کا اضافہ ہو گیا۔ جو کہ ہونا ہی تھا کیونکہ ہوسٹلوں والے چھوٹے چھوٹے کمروں میں ایسا ہی طلبہ کو رکھا جاتا ہے جیسے مرغی خانے میں مرغیاں۔

خیر ہم نے آپس میں مشورہ کیا جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہم افطاری مقامی مسجد سے ہی کیا کریں گے۔ جبکہ کھانے کا بندوبست خود کر لیا کریں گے۔ اب صبح کے سیشن میں اکیڈمی کلاسز لینے کے بعد ہوسٹل آنا اور کھانے کے بندوبست میں لگ جانا جس کے باعث ہمارا خاصا وقت ضائع ہو جاتا۔ کچھ لوگوں نے ہوسٹل میں میس لگوایا ہوا تھا لیکن کچن میں دو طرح کا کھانا بنتا تھا، ایک محل کے دو شہزادوں کے لیے جو کہ زیتون کے تیل اور دیسی گھی میں بنتا، جبکہ دوسرا عام جنتا کے لیے جو کہ عام سے گھی میں بنتا اور کبھی وقت پر اور کبھی تاخیر سے دے دیا جاتا تھا۔

جس وجہ سے ہم نے تو نہ لگوانا ہی مناسب سمجھا۔ خیر اسی طرح مسائل سے دو چار ہمارا سارا رمضان گزرا۔ اب 2018 کے رمضان کی بات کرتے ہیں۔ اس میں ہمیں یونیورسٹی ہوسٹل کی طرف سے سحری اور افطاری دی گئی جو کہ بڑا خوشگوار رمضان گزرا۔ لیکن اس سال یونیورسٹی ہوسٹل کی طرف سے سحری تو دی جا رہی ہے لیکن افطاری کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے 2017 کے رمضان کی یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ افطاری میں ایک مشروب بنانے کے لیے بھی جتنی محنت کرنی پڑتی ہے، وہ ایک ہوسٹل مقیم لوگوں سے پوچھیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •