کیا پاکستان میں گاڑی بننے سے کوئی فائدہ ہو گا؟
یوں تو پاکستان میں گاڑیاں بنتی نہیں صرف جڑتی ہیں، اور جو جڑتی ہیں وہ بھی کچرا۔ پرانی ٹیکنالوجی، مگر نئے کے دام۔ حالت یہ ہے کہ یہاں جڑنے والی گاڑیوں کے اگر جاپانی ماڈل دیکھ لیے جائیں تو زمین اور آسمان جتنا فرق ہے۔ مثال کے طور پر جاپان سے آئی آلٹو گاڑی شکل صورت کے حساب سے تو جدید ہے ہی، اس میں معیاری اے سی، نئی ٹیکنالوجی کا حامل انجن، بہتر بریک، حادثے کی صورت میں بچاؤ کے لیے ایئر بیگ وغیرہ بھی موجود ہیں۔ جب کہ پاکستان میں جڑنے والی آلٹو گاڑی میں ایسی کوئی خصوصیت موجود نہیں۔ قیمت مگر جاپانی آلٹو کے برابر ضرور ہے۔
عوام گاڑی کے نام پر ٹین ڈبا اس لیے خریدنے کو مجبور ہیں، کہ جاپان سے گاڑی منگوانے پر حکومت نے بھاری بھرکم ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے۔ حالانکہ جو کمپنی برسوں پرانی ٹیکنالوجی پاکستان میں فروخت کر رہی ہے وہ جدید بھی تو کر سکتی ہے۔ مگر کیوں کرے، جب کام پرانی سے چل رہا ہے تو؟ شہریوں کی جان اور مال کا کیا ہے؟ جتنا ہو سکے لوٹ لو۔
حال ہی میں کار سازی کی تین سے چار بڑی کمپنیوں نے پاکستان کا رخ کیا ہے۔ جس پر وزیر اعظم کئی مرتبہ شاداں نظر آئے کہ موٹر کار پاکستان میں مکمل طور بنے گی۔ اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ کمپنیاں پاکستان کیوں آ رہی ہیں اور اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟
اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج کی دنیا میں چلنے والی موٹر کار، آج ہی بے کار ہو چکی ہے۔ کل تک تو کباڑ ہو جائے گی۔ امریکا اور دوبئی وغیرہ میں ایسی گاڑیاں کامیابی سے سڑکوں کو رونق بخش رہی ہیں، جو بغیر ڈرائیور اور پیٹرول کے چل سکتی ہیں۔ یعنی اب ڈرائیور کے جھنجٹ سے بھی جان چھوٹ رہی ہے۔ پیٹرول سے بھی۔ ماحولیاتی آلودگی سے بھی اور شور شرابے سے بھی۔ آج کی گاڑی کچھ یوں ہے کہ آپ اس میں سوار ہوں، زبان سے حکم کریں کہ کہاں جانا ہے اور منزل مقصود پر پہنچ جائیں۔ ہاں اس کو چارج ضرور کرنا پڑتا ہے، اس کے لیے مگر بجلی درکار ہے، جو کہ ترقی پذیر ممالک کے پاس وافر ہے۔
مغربی دنیا کو ترقی اور سکون کے ساتھ ماحول کی بھی خاصی فکر رہتی ہے لہذا برقی قوت سے چلنے والی کسی بھی مشین کو پیٹرول پر فوقیت دی جاتی ہے، دیگر جدت اپنی جگہ۔ اب جب دنیا تیزی سے خود کار گاڑی کو اپنانے کی طرف جا رہی ہے، تو صدیوں پرانے لگے پلانٹ اور مشینری وغیرہ یک دم کباڑ ہو رہی ہے۔ جسے پھینکنے کے علاوہ اور کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ پھینکنے کے لیے مگر چاہیے ایک معقول جگہ جہاں نا صرف پرانا مال بھی ٹھکانے لگ سکے، بلکہ خوب مال بھی بنے۔ ایسے میں پاکستان سے بہتر اور کون سا ملک ہو سکتا تھا؟ دھڑا دھڑ پاکستان میں گاڑیوں کے پلانٹ لگائیں اور پرانا مال اس قوم کو نئے داموں میں چپکائیں۔ حیران ہوں دنیا ٹیسلا چلا رہی ہو گی اور ہم اس ہی بات پر خوش ہوں گے، کہ گاڑی پاکستان میں بن رہی ہے؟
کیا گاڑی سازی کی چند کمپنیوں کے پاکستان آنے سے ہم بڑے پیسے بنا سکیں گے یا فائدہ اٹھا سکیں گے؟ بالکل نہیں! کیونکہ پیسہ بنانے کے لیے ہمیں گاڑیوں کو ایکسپورٹ کرنا ہو گا۔ اس کے لیے جدید گاڑیاں بنانا ہوں گی جس کے ہم اہل نہیں ہیں۔ لہذا فی الحال خود کو آمادہ کریں مہنگے داموں گاڑی کے نام پر پاکستان میں تیار کردہ کباڑ خریدنے کو۔


