ہنڈرڈ ملین ڈالرز ٹیکنالوجی ورسز ہنڈرڈ ڈالرز ٹیکنالوجی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج یہاں موجودہ حکمران جدید وسائل کا رونا روتے ہیں، لیکن اس سے زیادہ بد قسمتی یہ ہے کہ اگر کہیں ٹیکنالوجی دستیاب بھی ہے، تو اس کو چلانے والے ایکسپرٹس کی کمی ہے۔ کیا پاکستان آزادی کے چند سالوں کے بعد زیادہ خوشحال تھا یا آج؟ کیا انیس سو پچاس سے ساٹھ تک یا دو ہزار سے دوہزار دس تک؟ کیا انیس سو ساٹھ سے ستر تک یا دو ہزار دس سے لے کر آج کے دن تک؟ تب تو وسائل کی بھی کمی تھی، سسٹم بھی رننگ میں نہیں تھا، پاکستان اٹامک پاور بھی نہیں تھا۔ تب تقریباً ہر ادارہ بہتری کی طرف تھا۔ آج جدید ٹیکنالوجی جدید دنیا کے مقابلے میں تونہیں، لیکن گزر بسر بہتر ہو رہی ہے۔ آج ادارے بھی ہیں۔ سربراہان بھی ہیں۔ پاکستان اٹامک پاور بھی ہیں۔ سب سے بڑی بات ملک کے وزیر اعظم بھی عمران خان ہیں، پھر خوف کے سائے کیوں ہیں؟ غربت کیوں ہے؟

ساہیوال میں دن دیہاڑے گولیاں کیوں ماری کی گئیں؟ آج قاتل بھی ہم ہیں اور مقتول بھی؟
کشکول ہاتھ میں کیوں ہے؟ ماہ صیام میں مہنگائی کا علم کیوں بلند ہے؟ آخر کیوں، کیوں، کیوں؟
آج ٹیکنالوجی سے زیادہ ذہین انسان چاہیے۔ ساٹھ، ستر کی دہائی میں حالات کیسے بہتر تھے؟

1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن چین کے دورے پر پہلی دفعہ آئے۔ اور وہ پہلے امریکی صدر تھے جو چین آئے۔ اس دورے کے بارے میں عالمی میڈیا نے بہت کچھ لکھا۔ زیادہ تر یہ واقعات ذرائع سے پبلش ہوتے رہے۔ ان دنوں ایک لطیفہ عام ہوا کہ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے چینی صدر چو این لائی کو ملاقات کے دوران ایک تصویر پیش کی۔ اس تصویر میں چینی صدر اپنے گھر کے لان میں بیٹھ کر اخبار پڑھ رہے تھے۔ تصویر بہت واضح تھی کہ اخبار کے سرخیاں تک نظر آ رہی تھیں۔ چینی صدر تھوڑا حیران بھی ہوئے اور پوچھا، ”یہ تصویر آپ نے کیسے کھینچی؟“ صدر نکسن نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہمارے پاس ہنڈرڈ ملین ڈالرز کی سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی ہے۔ اُس کے ذریعے یہ تصویر بنائی۔

اب چینی صدر نے بھی خوب سرپرائز دیا ”اٹھے اور اپنی میز سے ایک تصویر لے کر آئے جس میں صدر نکسن اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر سی آئی اے کی ایک خفیہ فائل پڑھ رہے تھے۔ اس دیکھتے ہی صدر نکسن کے تو جیسے اوسان خطا ہو گئے اور پوچھا، ’’یہ کیسے؟‘‘ چینی صدر نے جواب دیا ”کہ ہم نے وائٹ ہاؤس کے ملازم کو سو ڈالر دیے اور یہ تصویر حاصل کر لی۔ ساتھ یہ کہا کہ ’’آپ کی ہنڈرڈ ملین ڈالرز کی ٹیکنالوجی دھوکا دے سکتی ہے لیکن ہماری ہنڈرڈ ڈالرز کی ٹیکنالوجی ہمیں کبھی چیٹ نہیں کرے گی۔“

ہمارے یہاں تو قوم چاند دیکھنے پر بھی منقسم ہے۔ مسئلہ صرف اہل فراد کا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہ انسانی ذہن چاہیے جو آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچے، جو مستقبل کی تیاری کرے۔ مستقل کامیابی ہمیشہ ٹیم ورک کی مسلسل سے محنت سے آتی ہے۔ چاہے وسائل کم بھی ہوں۔ ٹیم ورک کے بغیر مستقل کامیابی نہیں ملتی۔ کیونکہ انفرادی کاکردگی عارضی ہوتی ہے۔ اس لئے ٹیم میں محنتی، قابل افراد کی ضرورت ہے۔ جو چین کے مقابلے میں کم از کم پانچ فی صد ہی سالانہ ترقی کر لیا کریں۔

آج مہنگائی کے مارے عوام کو نواز شریف یا آصف زرداری سے کنسرن نہیں۔ انہیں تھوڑا سا تو بہتر لائف سٹائل دو۔ خدا کا خوف کرو۔ ایک ہی وقت میں دو خرگوش نہ پکڑو۔ بیچ چوراہے مخالفین پر برسنے سے بہتر ہے کچھ وقت عوام کو دو۔ جیسی تیسی بھی لاہور کی میٹرو بس ایک عوامی سہولت بن چکی ہے اس پر بھی سبسڈی ختم، آخر کیوں؟ اتنے بولڈ فیصلے تو تب ہوتے ہیں، جب قوم کو آپ پہ اعتماد ہو، بھلا عوام سے پوچھو تو سہی۔ عوام ایسی باتیں کہتے ہیں:

قریبی چاپلوسی کرنے والوں کی بجائے، بھلا کسی دن کسی سستے رمضان بازار کا دورہ تو کریں، جہاں پر ایک کلو چینی، پیاز وغیرہ کے حصول کے لئے ایک کلو میٹر لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ لگ پتا جائے گا۔
”جب چاند کی طرف اشارہ کیا جائے تو بے وقوف ہاتھ کی انگلیوں کی طرف دیکھنے لگ جاتا ہے۔“
برائے مہربانی! عوام کی حالت کو بہتر کرنے پہ ہی فوکس کریں۔

پاکستان کے اتنے ہی حالات خراب تھے تو اقتدار میں آنے کی رٹ کیوں لگائی تھی؟
”جو درخت پھل نہ دے، سایہ ضرور دیتا ہے۔“
انسان اگر اپنی منزل پہ فوکسڈ رہے تو منزل ایک دن مل جاتی ہے۔
”اونچا پہاڑ بھی بالآخر قدموں تلے آ ہی جاتا ہے۔“


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).