کچھ ذکر بھیشم ساہنی کا ہو جائے


\"asif-farrukhi_1\"اگست کا مہینہ بھیشم ساہنی کو یاد کرنے اور عقیدت بھرا سلام پیش کرنے کے لیے عین مناسب ہے۔ اگست ان کی پیدائش کا مہینہ ہے اور اگر وہ آج ہمارے درمیان موجود ہوتے تو ایک سو ایک سال مکمّل کر لیتے۔ یہ جشن ان کے بغیر بھی منایا جا سکتا ہے اور ان کے تحریری ورثے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اگست کا مہینہ اس لیے بھی برمحل ہے کہ اس وقت ہم آزادی اور تقسیم کے ان واقعات کو یاد کر رہے ہیں جنھوں نے بھیشم ساہنی کی اپنی زندگی کے دو ٹکڑے کر دیے اور ہر ٹکڑا الگ الگ ملک سے وابستہ ہو گیا۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر انھوں نے اپنی سب سے زیادہ مشہور کتاب ’’تمس‘‘ لکھی جو اپنے زمانے کی نمائندہ کتاب بن گئی۔ تمس کی شہرت اپنی جگہ لیکن یہ نہ تو بھیشم ساہنی کی واحد اہم کتاب ہے اور نہ وہ محض ایک کتاب کے ادیب۔ اس لیے ان کے تمام کام کو دیکھنا چاہیے۔

ان کی تاریخ پیدائش کا حوالہ بڑا دل چسپ ہے۔ انھوں نے لکھا کہ یہ پیدائش ان کے والد نے حساب کتاب کے کھاتے میں درج نہیں کی اور بچپن میں اس بات پر ان کو طعنے ملتے رہے۔ والدہ تاریخوں کا حساب اس طرح رکھتی تھیں کہ بھیشم اپنے بھائی بلدیو سے، جو ہندوستانی سینما کی نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں، ایک سال اور گیارہ مہینے چھوٹا تھا۔ کچھ اسی قسم کا حساب انتظار حسین اپنی عمر کے بارے میں بتایا کرتے تھے کہ فلاں واقعہ ہوا تو وہ اتنے سال کے رہے ہوں گے۔ انتظار صاحب کی طرح تاریخ کے بجائے پیدائش کا مقام بھیشم ساہنی کے لیے اہم ہو گیا۔ ان کا خاندان پشاور سے راولپنڈی منتقل ہوا تھا۔ سال کے اعتبار سے وہ عصمت چغتائی، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی کے آس پاس نظر آتے ہیں اور سعادت حسن منٹو سے تھوڑے کم عمر۔ اہم افسانہ نگاروں کی یہ کہکشاں آج بھی جدید اردو ادب کی فضا میں جگمگا رہی ہے اور ان کی صد سالہ تقریبات، تھوڑے بہت فرق کے ساتھ، پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد کی گئیں۔ بھیشم ساہنی راولپنڈی کے جس شہر میں پلے بڑھے اور لاہور میں تعلیم حاصل کی پھر اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا، وہاں ان کو اب کم ہی یاد کیا جاتا ہے۔ اس سال انجمن ترقّی پسند مصنفین نے لاہور میں ان کے لیے ایک محفل سجانے کا اہتمام کر لیا جو بہت قابلِ ستائش ہے۔\"hqdefault\"

تقریبات سے بڑھ کر بھیشم ساہنی جیسا ادیب پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ صرف اپنے شہر کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی کتابوں کی وجہ سے۔ ادھر پینگوئن بکس نے ان کے چار ناولوں کے انگریزی تراجم شائع کیے ہیں، تمس کا ایک بار پھر نیا ترجمہ ہوا ہے جو ہندی کی ممتاز مترجم ڈیزی روک ویل نے کیا ہے، جنھوں نے اس سے پہلے اویندر ناتھ اشک کے اہم ناول ’’گرتی دیواریں‘‘ کو انگریزی میں ڈھالا ہے۔ اشک کا یہ ناول بھی دراصل اردو کا ناول ہے مگر مجھے شکایت ہے کہ اردو والوں نے اشک کو بھلا ڈالا۔ تمس کا پچھلا ترجمہ بھیشم ساہنی نے خود کیا تھا مگر روک ویل نے دیباچے میں ہی مدلل انداز میں بتا دیا ہے کہ یہ نیا ترجمہ اصل سے زیادہ قریب ہے۔ بھیشم ساہنی کے آخری دور کی یادگار کتاب ’’آج کا اتیت‘‘ بھی عمدہ انگریزی ترجمے میں اسی سال شائع ہوگئی ہے۔ اپنے بچپن کے حالات وواقعات اور ترقّی پسند ادیبوں سے ملاقاتوں کی بدولت یہ کتاب اردو والوں سے پڑھے جانے کا تقاضہ کرتی ہے۔ ان سب کتابوں کی وجہ سے بھیشم ساہنی بھرپور طریقے سے نمایاں ہو کر سامنے آگئے ہیں۔

بھیشم ساہنی کی شہرت کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا تھا۔ ان کے کئی افسانے (مثلاً چیف کی دعوت) اردو میں ترجمہ ہو کر مختلف رسالوں میں چھپتے رہے۔ مجھے خاص طور پر ان کی کہانی ’’چیل‘‘ یاد ہے جس کا ترجمہ نوجوان شاعر انعام ندیم نے کیا تھا۔ ان کے ناولوں میں سب\"bhisham\" سے زیادہ وسعت کا حامل ناول ’’مایا داس کی مڑھی‘‘ ہے جس میں پنجاب میں خالصہ راج کے زوال اور انگریزوں کے اقتدار حاصل کرنے کے تاریخی عمل کو کہانی کی بنیاد بنایا ہے۔ مختصر ناول ’’جھروکے‘‘ مجھے اس سے زیادہ پسند آیا جس میں ایک چھوٹے شہر کی فضا میں ایک کم عمر لڑکے کی ذہنی اور جنسی بلوغت کو بہت نازک طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ ناول ’’بسنتی‘‘ دہلی کی غریب آبادیوں میں پیدا ہونے والی اور اپنی زندگی کے حق کو اپنی مرضی اور پسند کے مطابق جینے کا ارادہ کرنے والی ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اگر پاکستان کے کسی شہر میں کاتب تقدیر کی غلطی سے پیدا ہو جاتی تو اب تک غیرت کے نام پر قتل ہو جاتی اور اس کے نام پر رونے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔

ان کے اہم ترین ناول ’’تمس‘‘ کو اردو میں پڑھنے کی سہولت حاصل ہے۔ اس کا ترجمہ ہندوستان کی ساہیتہ اکادمی کے اہتمام سے کئی برس پہلے شائع ہوا تھا۔ اس ناول کو مزید شہرت اس وقت ملی جب گووند نہالانی نے ٹیلی وژن کے لیے اس کی ڈرامائی تشکیل کی اور اس کی مخالفت و موافقت میں طوفان کھڑا ہوگیا اور عدالتی چارہ جوئی کی نوبت آگئی۔ ناول کا آغاز بڑے ڈرامائی اور انتہائی ناقابل فراموش طور پر ہوتا ہے جب نتّھو نام کا ایک اچھوت، پے در پے وار کرکے ایک سور کو پچھاڑ ڈالتا ہے اور اس کی کھال ان سیاسی شخصیت کے پاس لے جاتا ہے جو اس کے ذریعے سے ہندو مسلم فساد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ افواہوں سے فساد کیسے پھیلتا ہے، اس کی آگ کیسے بھڑک اٹھتی ہے اور شہر کے امن وسکون، عام شہریوں کی زندگی کو کیسے برباد کر ڈالتی ہے، ان تمام باتوں کو بڑی خوب صورتی سے اس ناول میں نمایاں کیا گیا ہے۔

خوش قسمتی سے مجھے بھیشم ساہنی سے دہلی میں ملنے کا ملاقات ہوا۔ پنجابی کی ممتاز ادیب اجیت کور نے سارک مالک کی ادبی کانفرنس\"tamas\" کا اہتمام کیا تھا جس میں بھیشم ساہنی شامل تھے۔ ان سے میری گفتگو مختصر رہی کیونکہ میں نے چند کہانیوں کے سوا ان کی تحریریں نہیں پڑھی تھیں۔ مگر ان سے مکالمے کا لطف آلوک بھلّا کی مرتّب کردہ کتاب ’’پارٹیشن ڈائیلاگ‘‘ میں آیا جہاں انتظار حسین، بپسی سدھوا، کرشنا سوبتی اور دوسرے ادیوں کے ساتھ ساتھ ان کی بھی تفصیلی گفتگو شامل ہے جس میں آلوک بھلّا نے سوال پوچھے ہیں اور انھوں نے بہت تفصیل کے ساتھ جواب دیے ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اس اہم کتاب سے ہمارے ہاں زیادہ لوگ واقف نہیں ہیں۔

آج جب ہم بھیشم ساہنی کو یاد کرتے ہیں تو وہ مجھے محمد حسین آزاد والے شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں انتظار حسین کے قریب قریب نظر آتے ہیں۔ حالانکہ بہت سے معاملات میں ان کے روّیے ایک دوسرے کی ضد تھے۔ بھیشم ساہنی پکّے ترقی پسند تھے اور سماجی واقعیت کا احوال افسانوں، ناولوں اور ڈراموں میں رقم کرتے تھے جب کہ انتظار حسین کو ہر قسم کی نظریاتی وابستگی سے انکار تھا۔ ان کا کمٹ منٹ چڑیوں اور درختوں سے تھا اور وہ سماجی واقعیت سے مخالف سمت میں اساطیر، روایات اور پرانی کتھا کہانیوں کی طرف سفر کرنے لگے۔ پھر غور سے دیکھا جائے تو اپنے اپنے طور پر دونوں کتابیں ہمیں اکسا رہی ہیں کہ شہر کو ہی نہیں، اس دنیا کو مصنّف کی نظر سے دیکھیں۔ دونوں مصنّف اپنے پڑھنے والوں کو یہی سکھاتے ہیں کہ دنیا دیکھنے کی چیز ہے، اسے بار بار دیکھا جائے اور اس رنگ ڈھنگ سے دیکھا جائے۔ بڑی خوبی کے ساتھ وہ ہمارے سامنے ظاہر کر دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو الگ کرکے بھی اپنی زندگی کی کہانی کیسے لکھی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS