تین خودکش بمبار بچوں کی کہانیاں جو بچ گئے


\"saleem

ارسلان فیصل آباد کی ایک لوئر مڈل کلاس مذہبی فیملی کا بچہ تھا۔ اس کی عمر کوئی پندرہ سال تھی۔ وہ میٹرک کا طالب علم تھا اور مذہبی رجحان رکھتا تھا۔ وہ باقاعدگی سے نماز پڑھتا اور رمضان کے روزے رکھتا تھا۔ اس کے گھر والے اور رشتہ دار اس بات پر بہت خوش تھے اور ارسلان کی تعریفیں کرتے تھے۔ ارسلان تبلیغی جماعت سے بھی میل ملاقات رکھتا تھا۔ ہفتہ وار اجتماع میں شمولیت کے علاوہ ایک آدھ سہ روزہ بھی لگا چکا تھا۔

ارسلان ایک دن اچانک غائب ہو گیا تو اس کے گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس کی تین بڑی بہنیں اور والدین فکر اور غم سے نڈھال تھے اور اسے واپس گھر دیکھنے کو بے چین تھے۔ پولیس سمیت سب لوگ ڈھونڈنے میں لگے تھے مگر کہیں سے کوئی اچھی خبر نہیں آ رہی تھی۔ کئی مہینوں بعد جا کے کہیں سراغ ملا کہ ارسلان ایک جہادی کیمپ میں تربیت پا رہا ہے۔

ارسلان کے ماں اور باپ ایک سفارشی شخص سمیت وہاں پہنچے۔ ارسلان کو زندہ دیکھ کر انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ بیٹا انہیں پیار سے ملا مگر ساتھ واپس جانے پر تیار نہ تھا۔ وہ شہادت اور جنت کے لئے بے چین تھا۔ ساری ملاقات ارسلان کے استاد یعنی ایک مولوی صاحب کے سامنے ہی ہوئی۔ مولوی صاحب بھی ارسلان کی بہادری اور جذبہ شہادت کی تعریفیں کرتے رہے اور ارسلان اور اس کے ماں باپ کے لئے بلند درجات کی بشارتیں دیتے رہے اور اس بات پر پکے رہے کہ جہاد فرض ہے اور اس بات سے روکنا گناہ ہے۔ ارسلان کے ماں باپ زاروقطار روتے رہے مگر اس بات کا مولوی صاحب یا ارسلان کے ارادوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ حتیٰ کہ ارسلان کے والدیں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

ارسلان کے استاد مولوی صاحب نے اس (سفارشی) شخص سے رابطہ کیا اور کہا کہ بچے کو خوکش بمبار جیکٹ پہننے پر تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اور بچہ پچھلے اتنے مہینے سے ان کا مہمان ہے اور کھانے پینے کی مد میں بھی کافی اخراجات ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا اشارہ ڈونیشن کی طرف تھا۔ ارسلان کے والدین نے شکر کیا کہ کوئی حل نکلا ہے۔ انہوں نے فوراً پچاس ہزار روپے کا بندوبست کیا اور مولوی صاحب کو پہنچا دئے اور ارسلان سے ملنے کو دوبارہ کیمپ پہنچے۔ اس دفعہ مولوی صاحب کا رویہ قدرے مختلف تھا۔ انہوں نے ارسلان کو کہا اگر تمھارے والدین راضی نہیں ہیں تو تمھارے پاس گنجائش ہے ک تم اپنا ارادہ ترک کر دو اور اپنے والدین کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کرو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ چونکہ نیت کر چکے تھے اس لئے آپ درجات کے حقدار تو پہلے ہی ہو چکے ہو۔ ارسلان والدین کے ساتھ واپس گھر کو لوٹا اور خودکشی سے بال بال بچ گیا۔

دوسری کہانی بہت نرالی ہے۔ شہزاد ایک سٹریٹ چائلڈ یعنی گلی میں رہنے اور پلنے والا بچہ تھا۔ وہ سترہ سال کا تھا اور پچھلے دس سال سے اس کا مسکن مختلف شہروں کہ گلیاں ہی تھیں۔ گھر والوں سے بھی عموماً رابطے میں رہتا اور گھر والے اس کی عدم موجودگی کے عادی ہو چکے تھے۔ شہزاد بہت مذہبی نہیں تھا لیکن مہم جوئی کا شوقین تھا۔ کسی مولوی صاحب کے ہتھے چڑھ گیا اور ایک جہادی تربیت کے کیمپ پہنچ گیا۔ شہزاد کا جہاد کا ارادہ کوئی اتنا پکا نہیں تھا۔ اسے اعتماد تھا کہ وہ کسی وقت بھی وہاں سے بھاگ جائے گا۔

سٹریٹ چائلڈ ہونے ناطے شہزاد اپنی عمر سے کہیں بڑا تھا اور دھوکے کھا کھا کر لوگوں کی باتوں کا یقین کرنا اس نے چھوڑ دیا تھا۔ وہ لوگوں کی ظاہری باتوں کے اندر ان کے اصلی مطلب پہچاننے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ کیمپ میں بھی لوگوں کی میٹھی گفتگو کا اس نے اعتبار نہ کیا۔ اس کو اندازہ ہو گیا کہ اسے خاص طور پر خودکش جیکٹ پہننے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔

ایک دن وہ ایک کمرے میں موجود تھا تو کیا سنتا ہے کہ کمرے کے باہر کچھ لوگ کھڑے آپس میں بات کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے ”شہزاد بہت دلیر بچہ ہے اور اس میں ایمان کا جذبہ بھی بہت زیادہ ہے۔ یہ ٹاسک بہت مشکل ہے اور شہزاد کے علاوہ کوئی اور بچہ نہیں کر سکے گا“ ایک اور شخص نے کہا ”میں تو اصل میں شہزاد کے علاوہ اس مہم کے لئے کسی اور پر اعتماد کر ہی نہیں کر سکتا“ وغیرہ وغیرہ۔ شہزاد ہوشیار ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں آ گیا یہ لوگ اصل میں یہ باتیں اسی کو سنانے کے لئے کر رہے تھے۔ اگلے چند روز میں وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔

شہزاد نے واپس آ کر بہت سے لوگوں سے اس بات کا ذکر کیا۔ ان کے ہتھکنڈے مزے لے لے کر سناتا تھا۔ شہزاد نے بہت سارے سٹریٹ چلڈرن کو خود کش بمبار بننے سے بچا لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ گلی میں رہنے والے بچوں پر جہادی اکثر جال پھینکتے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ ابھی جب داعش مشہور ہوئی تو بہت سٹریٹ چلڈرن کو پھانسنے کی کوشیش کی گئیں۔ شہزاد کا کہنا تھا کہ وہ عراق اور شام کی بجائے فلسطین کے نام پر بچوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔

تیسری کہانی سہیل کی ہے۔ سہیل راولپنڈی کا ایک سولہ سالہ نوجواں بچہ تھا۔ بہت بے چین رہتا تھا۔ مذہبی بالکل بھی نہ تھا۔ عام زندگی نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ کچھ کر کے دکھانا چاہتا تھا۔ کسی دوست کو ملنے اٹک گیا۔ وہاں سے واپس نکلا لیکن گھر نہ پہنچا۔ ظاہر ہے گھر میں کہرام مچ گیا۔ ایک ڈھنڈیا پڑی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب جہادی کیمپ جائن کرنے کے لئے بچوں کا نکل جانا عام بات تھی۔ سب سے پہلے خیال ادھر ہی گیا۔ ان دنوں جہادی تنظیموں کے ریکروٹنگ اور فنڈ جمع کرنے کے آفس بہت سے چھوٹے شہروں تک کھل گئے تھے۔ یہ آفس مختلف مدرسوں کے اندر ہی ہوتے تھے۔ اٹک شہر میں پانچ جہادی تنظیموں کے دفاتر تھے۔ ان دفاتر میں گئے تو سب نے کہا کہ بچہ ان کے پاس نہیں آیا۔ سب نے ہی یہ اطلاع باقاعدہ اپنے رجسٹر دیکھ کر کی۔ یعنی ان کے پاس باقاعدہ رجسٹر موجود ہوتے جن میں جہاد کی تربیت کے لئے بھرتی کئے گئے بچوں کا ریکارڈ رکھتے تھے۔

کوئی دو ہفتے کے بعد پتا چلا کہ سہیل جماعت اسلامی کے مبینہ ذیلی ادارے کے زیر انتظام کیمپ میں زیر تربیت ہے۔ مزید یہ بھی پتا چلا کہ ضلعی دفتر میں موجود مولوی صاحب نے سہیل کے بارے میں لاعلمی ظاہر کر کے جھوٹ بولا تھا۔ سہیل کا نام ان کے پاس باقاعدہ درج تھا اور ان کے لوگ ہی سہیل کو کیمپ تک پہنچا کر آئے تھے۔

دو ہفتے کیمپ میں زیرتربیت رہنے سے ہی سہیل کا مہم جوئی اور کچھ کر گزرنے کا شوق کافی ماند پڑ چکا تھا۔ مگر کیمپ کے منتظمین بچہ واپس کرنے پر تیار نہیں ہو رہے تھے۔ کافی بڑی سفارش کے بعد مجبوراً بچے کو والدین کے حوالے کرنا پڑا۔ سہیل بھی بچ گیا۔

ارسلان، شہزاد اور سہیل تو بچ گئے مگر جنرل ضیاء الحق کا ڈالروں اور ریالوں میں گندھا جہادی پروگرام لاتعداد بچوں کو کھا چکا ہے اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik