علمہ افروز کی کہانی: ’تمہیں شرم نہیں آتی؟ بہن کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں’

ثمرہ فاطمہ - کندرکی، انڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ریاست اترپردیش کے کندرکی گاوٴں میں رہنے والے عرفات افروز کی ماں نے بتایا کہ بیٹا گھر سے باہر نکلتا ہے تو لوگ اس سے کہتے ہیں کہ ’شرم کرو تمہاری بہن کے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں۔ ٹی وی پر اس کے انٹرویو چل رہے ہیں۔ اس کی شادی کیوں نہیں کرتے؟ آخر کیسے بھائی ہو؟‘

یہ سن کر دل میں پہلا سوال یہی آتا ہے کہ اس کی بہن کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہے کیا؟ آخر ٹی وی پر باتیں ہونے کا طعنہ کیوں مل رہا ہے؟ خاندان والوں کو آخر کس بات کے لیے شرم آنی چاہیے؟

مجھے نہیں پتہ آپ کو وجہ جان کر غصہ آئے گا، افسوس ہو گا یا آپ بھی یہی کہیں گے کہ لوگ صحیح تو کہہ رہے ہیں۔

علمہ افروز
لوگ ماں کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو بھی آئی پی ایس افسر بنا دیجیے: علمہ افروز

عرفات کی بہن علمہ افروز انڈین سول سروسز کے امتحانات پاس کر کے پولیس سروسز میں اپنی جگہ پکی کر چکی ہیں اور ان دنوں پولیس اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ اس سے قبل وظیفے حاصل کر کے علمہ نے دلی، پیرس اور پھر برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے۔

امریکہ کے فائنینشیل ڈسٹرکٹ اور انڈونیشیا میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے کے بعد علمہ نے انڈیا واپس آکر اُس مسئلے کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا جس نے ان کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ وہ ہے ‘پدرشاہی’۔

علمہ کی خواہش ہے کہ ان کے ملک میں سب کو برابری کے مواقع مل سکیں۔

علمہ افروز

علمہ کے والد ایک کاشتکار تھے، لیکن جب وہ دس برس کی تھیں تو ان کے والد کو کینسر ہو گیا۔ گاوٴں میں علاج کے مناسب مواقع میسر نہ ہونے کے باعث انھیں بچایا نہیں جا سکا۔ علمہ نے بتایا کہ وہ دور ان کی ماں کی زندگی کا سب سے سخت دور تھا۔

ان کی والدہ پر ہر طرف سے دباوٴ تھا کہ وہ علمہ کی شادی کر دیں۔ تاہم سماجی دباؤ کے خلاف وہ ڈٹی رہیں اور علمہ کو پڑھنے کے لیے قریبی شہر مراد آباد بھیجا۔ پڑھائی میں اچھے نمبر حاصل کرنے کی وجہ سے علمہ کو دلی یونیورسٹی کے سینٹ سٹیونز کالج میں داخلہ مل گیا۔ علمہ اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم موڑ بتاتی ہیں۔

علمہ نے مجھے بتایا کہ اگر وہ سینٹ سٹیونز نہ گئی ہوتیں تو شاید آگے کے راستے ان کے لیے کبھی نہ کھلتے۔ انھوں نے وہاں ڈبیٹنگ سوسائٹیز میں حصہ لیا اور وہیں انھیں تعلیم کے مزید مواقعوں کے بارے میں معلوم ہوا۔

انھوں نے وظیفے حاصل کر کے پیرس، آکسفورڈ اور پھر امریکہ میں بھی تعلیم حاصل کی۔ نیویارک اور انڈونیشیا میں کام بھی کیا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں مسلسل اپنے ملک کا خیال پریشان کرتا تھا۔

علمہ نے بتایا کہ ‘میں جب بھی امی سے بات کرتی تھی تو میرے سامنے تو نیویارک کی بڑی بڑی عمارتیں ہوتی تھیں لیکن امی کے گھر میں اندھیرا ہوتا تھا۔ کبھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے انسولین کے انجیکشن فریج میں نہیں رکھے جا سکتے تھے تو کبھی فون میں بیٹری نہیں ہوتی تھی۔ اور مجھے مسلسل یہی خیال پریشان کرتا تھا کہ جن مشکلوں کے ساتھ امی نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے، مجھے ان مشکلات کے خلاف لڑنا ہوگا۔ اور اس کے لیے میرا انڈیا آنا بے حد ضروری تھا۔’

علمہ اس سوچ کے خلاف لڑ رہی ہیں جس نے ان کے آگے بڑھنے کی راہ میں ہر مشکل پیدا کی۔ ان کا خیال ہے کہ سسٹم سے لڑنے کے لیے سسٹم کا حصہ ہونا لازمی ہے۔ اس لیے انھوں نے انڈیا کے سول سروسز کے امتخانات دینے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ وہی لوگ جو انھیں پڑھانے کے فیصلے پر ان کی ماں سے سوال کرتے تھے، اب ان کے پاس آکر کہتے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو بھی آئی پی ایس افسر بنا دیجیے۔

علمہ افروز

علمہ سمجھتی ہیں کہ انڈیا کے آئین نے انڈین شہریوں کو ایک جیسے حقوق دیے ہیں اور یہی شہریوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

انڈیا میں ان دنوں عام انتخابات جاری ہیں اور میرے بار بار پوچھنے پر بھی علمہ نے کھل کر نہیں کہا کہ وہ ملک میں کیسی حکومت دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کا ہر جواب اسی بات کی عکاسی کرتا تھا کہ انھیں انڈین آئین اور اس میں دیے گئے حقوق پر پورا یقین ہیں۔ ہاں انھوں نے یہ ضرور کہا کہ جیت سچائی کی ہی ہوتی ہے اور ’ہم آنے والے دنوں میں ایک بار پھر یہی دیکھیں گے‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8271 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp