لائل ‘ پوہم ینگ اورکیمپ بیل زندہ ہوتے, تو پوچھتے کہ اب افاقہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوگی ادتیاناتھ (Aditya nath) یو پی کے ایک گائوں میں 1972ء میں پیدا ہوا۔ باپ محکمہ جنگلات کا ملازم تھا۔ نوے کی دہائی میں ادتیا ناتھ اس تحریک میں شامل ہو گیا جو ایودھیا مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنا چاہتی تھی۔ اسی دوران خاندان سے قطع تعلق کر کے وہ گورکھ پور کے مشہور مندر گورکھ ناتھ سے وابستہ ہو گیا۔ یہیں اسے ’’مہنت‘‘ کا درجہ دے دیا گیا۔ پھر وہ انتہا پسند ہندو کے طور پر سیاست میں آیا اور لوک سبھا کا رکن منتخب ہو گیا۔

آر ایس ایس کو اس کے نظریات راس آ رہے تھے۔2017ء میں وہ یو پی کا وزیر اعلیٰ مقرر ہو گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ مدارس کو پابند کیا گیا کہ یوم آزادی پر قومی ترانہ گائیں اور ثبوت میں ویڈیو پیش کریں۔ پاکستان کو شیطان سے تشبیہ دی۔ صدر ٹرمپ کی اینٹی مسلم پالیسی کی حمایت کی۔ اس نے اعلان کیا کہ ہم ہر مسجد میں دیوتائوں کے بت نصب کریں گے۔

2015ء میں اس نے کہا کہ شاہ رخ خان وہی زبان استعمال کرتا ہے جو حافظ سعید کی ہے۔ حال ہی میں ادتیا ناتھ نے الہ آباد کا نام تبدیل کر کے پریاگ راج رکھ دیا ہے۔ مسلم ثقافت پر یہ بھارتی تاریخ کا بدترین حملہ ہے۔ عبدالقادر بدایونی‘ نظام الدین احمد اور اکبر نامہ کا مصنف سب یہی لکھتے ہیں کہ الہ آباد کی بنیاد اکبر اعظم نے رکھی۔ 1580ء میں اکبر نے اسے صوبائی دارالحکومت قرار دے دیا۔

شہزادہ سلیم نے بغاوت کی تو الہ آباد کو مستقر بنایا۔ تاریخ الہ آباد کے نام ہی سے آشنا ہے۔ 1902ء سے 1922ء تک الہ آباد یوپی کا دارالحکومت رہا۔ آزادی کی تحریکوں میں الہ آباد پیش منظر پر چھایا رہا۔1857ء میں مولوی لیاقت علی نے علم بغاوت یہیں بلند کیا۔ 1930ء میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور خطبہ جس میں الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہیں دیا تھا۔ اکبر الہ آبادی ے بغیر الہ آباد کا تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔

اقبال کو اکبر نے آم بھیجے تو اقبال نے رسید یوں دی ؎ اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبرؔ الہ آباد سے لنگڑاچلا لاہور تک پہنچا مشہور شاعر نوح ناروی یہیں سے تھے۔ مصطفی زیدی کا ابتدائی تخلص تیغ الہ آبادی تھا۔ ایودھیا مسجد کے سانحہ کے بعد الہ آباد کے نام کی تبدیلی مسلمانان برصغیر کے لئے دوسرا بڑا ثقافتی صدمہ ہے۔ پاکستانی مسلمان کم رنجیدہ نہیں مگر بھارتی مسلمانوں کے لئے یہ ایک المناک تبدیلی ہے۔

مسلمانوں کے بدترین دشمن یوگی ادتیا ناتھ نے مسلمانوں کو بڑے بڑے زخم دیے ہیں۔ مگر یہ زخم سب سے زیادہ گہرا ہے۔ تاہم یہ گریبان میں جھانکنے کا لمحہ ہے۔ اس حوالے سے ہم پاکستانیوں کا ریکارڈ کیا ہے؟

آج اگر ادتیاناتھ سے گلہ کیاجائے تو وہ ایک فلک شگاف قہقہہ لگائے گا اور کہے گا ع این گناہیست کہ در شہر شمانیزکنند کہ تم بھی تو یہی کرتے آئے ہو۔ جہاں آج فیصل آباد ہے۔ وہاں ایک زمانہ تھا کہ صرف جنگل تھے اورجانگلی قبیلے !بقول ناصر کاظمی ؎ یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے سنا ہے میں نے لوگوں کی زبانی انگریز سرکار نے غلہ انگلستان بھیجنے کے لئے اس علاقے میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام قائم کرنے کی ٹھانی اور زرعی پیداوار میں انقلاب برپاکر کے دکھا دیا۔

ایک انگریز افسر پوہم ینگ نے نئے شہر کا نقشہ ترتیب دیا اور وہی ڈیزائن بنایا جو انگریزی پرچم(یونین جیک) کا ہے۔ مرکز اور اس کے گرد آٹھ شاہراہیں۔ مرکزگھنٹہ گھر بنا اور آٹھ شاہراہیں آٹھ مشہور بازار بن گئے۔ اس وقت کے پنجاب کے گورنر جیمز لائل نے شہر کو تعمیر کرایا۔ لائل کا نہری نظام کی تعمیر میں بہت بڑا حصہ تھا۔ ساٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ نیا شہر صفر سے شروع ہوا۔ یہ برصغیر میں انگریزی عہد کا پہلا شہر تھا جو باقاعدہ پلاننگ سے آباد کیا گیا۔

1895ء میں اسے ٹرین کے ذریعے وزیر آباد سے جوڑا گیا۔1904ء میں اسے ضلع بنایا گیا۔ موجودہ زرعی یونیورسٹی اصل میں زرعی کالج تھا جو 1906ء میں قائم ہوا۔1930ء سے یہ شہر صنعتی ہونا شروع ہوا۔ تقسیم کے بعد اسے پاکستان کا مانچسٹر قرار دیا گیا کیونکہ کپڑے کی صنعت کا مرکز بن گیا تھا۔ 1977ء میں اس کا نام لائل پور سے بدل کر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ شاہ فیصل سے اہل پاکستان کی محبت اور عقیدت اپنی جگہ۔ مگر آج تک یہ راز‘ راز ہی ہے کہ شاہ فیصل مرحوم کا لائل پور سے کیا تعلق تھا۔

ایسا بھی نہیں کہ لائل پور کا اصل نام فیصل آباد تھا۔ جسے انگریز سرکار نے بدل دیا تھا۔ شہر کی پہلی اینٹ ہی برطانوی عہد میں رکھی گئی پوہم ینگ نے نقشہ بنایا۔ جیمز لائل نے تعمیر کی سرپرستی کی۔1977ء میں جب شہر کو ’’مسلمان‘‘ کیا گیا تو اس کی کل عمر نوے برس کے لگ بھگ تھی۔ انصاف کا اندازہ لگائیے کہ نقشہ کسی اور نے بنایا۔ تعمیر کسی اور نے کرایا۔ شاہ فیصل کی پیدائش 1906ء کی تھی۔ جب کہ اس وقت تک لائل پور ضلع بھی بن چکا تھا!

1978ء میں ہمارے اندر کے یوگی ادتیا ناتھ نے ایک بار پھر انگڑائی لی۔ اس بار ہم نے کیمبل پور شہر کا نام اٹک رکھ دیا حالانکہ اٹک اصل میں ایک پرانا قصبہ تھا جو دریائے سندھ کے کنارے سینکڑوں برس سے آباد چلا آ رہا ہے۔ اکبر کا تعمیر کردہ قلعہ بھی اٹک کے نام سے موسوم چلا آ رہا ہے۔ کیمبل پور شہر کی بنیاد انگریز سرکار نے رکھی تھی۔ کیمبل پورچھائونی 1857ء میں وجود میں آ چکی تھی۔

فیلڈ مارشل کولن کیمپ بیل 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران انگریزی فوج کا کمانڈر ان چیف تھا۔ جنگ آزادی کے ہیرو تانیتا ٹوپی کو اسی نے شکست دی۔ پھر لکھنؤ کو دوبارہ انگریزی عملداری میں لایا۔ کیمبل پور (Campbell pur)شہر کی بنیادیں 1908ء میں کھودی گئیں۔ اصل اٹک قصبہ اس سے کئی میل دور شمال مغرب میں تھا۔ نئے شہرکو کیمپ بیل کے نام پر کیمپ بیل پور کہا گیا۔ عام لوگ جو انگریزی تلفظ سے ناآشنا تھے۔

کیمبل پور اور کبھی کامل پور کہتے اور لکھتے تھے۔ یہ دو الگ الگ آبادیاں تھیں۔ اٹک قصبہ جو دریا کے کنارے‘ قلعے کے نزدیک تھا۔ اور کیمبل پور شہر جو انگریزوں نے بنایا اور بسایا۔اگر قومی ثقافت کا دورہ اتنا ہی شدید تھا تو ضلعی ہیڈ کوارٹر کیمبل پور سے اٹک(موجودہ اٹک خورد) میں منتقل کر دیتے۔ مگر ایک شہر جو کسی اور نے بنایا اور آباد کیا‘ اس کا نام بدلنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ خود ہم نے ستر برسوں میں ایک نیا شہر اسلام آباد بسایا جو اب جرائم کا گڑھ بن چکا ہے اور نااہلی اور شرمناک بدانتظامی کا بدترین نمونہ ہے۔

ہر روز کئی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں۔ پانی کمیاب ہے۔ کوڑے کے جابہ جا ڈھیر ہیں۔ شہر کا مرکز میلوڈی مارکیٹ اور میلوڈی فوڈ پارک غلاظت کا گڑھ ہے گندھے بدبودار پانی کے اوپر بیٹھ کر کباب اور نہاری کھائی جاتی ہے۔ سڑکوں پر اینٹوں کے انبار لوہے کے سریے اور بجری کے ڈھیر پڑے ہیں۔ گرین ایریا‘ لینڈ مافیا کے جبڑوں میں آ چکا ہے۔ ہر نئی حکومت نے پلاٹوں کو رشوت کے طور پر بانٹا۔ شہر کے دونوں کناروں پر بارہ کہو اور ترنول کے ’’آزاد‘‘ علاقے ہیں۔ انہیں علاقہ غیر کہا جانا چاہیے۔

شہر کے عین درمیان پورا سیکٹر(جی۔12) غیر منظم اور انتظامیہ کے قبضے سے آزاد ہے۔ یہ منشیات اور تمام ممکنہ جرائم کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس شرمناک کارکردگی اور بدترین نااہلی پر حیا کرنے کے بجائے ہم نے پرانے شہروں کو فتح کرنا بہتر جانا۔ کبھی ایک شہر کا نام بدلا کبھی دوسرے کا۔ کمائی کسی اور کی۔ جیب ہماری! ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ آئے چوکھا۔ وہی کام ادتیا ناتھ نے کیا تو ہمیں صدمہ ہوا۔ لائل ‘ پوہم ینگ اورکیمپ بیل زندہ ہوتے تو ہم سے ضرور پوچھتے کہ اب افاقہ ہے؟

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •