2019کے انتخابات: بھارتی مسلمانوں کیلئے سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی 1.3بلین آبادی میں مسلمان تقریباً14فیصد ہیں اور ایک طرح سے 145 پارلیمانی حلقوں میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرسکتے ہیں، مگر حالیہ انتخابات میں کسی بھی سیاسی پارٹی نے ان کو اپنے حق میں لبھانے کیلئے کوئی تگ و دو نہیں کی۔بھارت میں اب انتخابی عمل آخری دور میں داخل ہوگیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ماضی میں انتخابی مہم کے دوران ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت، مسلم راہنماوٗں کے دروازوں پر دستک دیکر ا ن کو اپنے حق میں لام بند کرنے کی کوشش کرتی تھی۔

نہ صرف سیکولر لیڈر بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈران بھی ان کی چوکھٹ پر پہنچ جاتے تھے۔ لکھنوٗ میں اپنی جیت یقینی بنانے کیلئے بی جے پی کے قد آور لیڈر اٹل بہاری واجپائی بھی مرحوم مولانا ابو الحسن علی ندوی اور شعیہ مذہبی عالم مولانا کلب صادق کے گھروں پر حاضری دیتے تھے۔ اندرا گاندھی، ہیم وتی نندن بہوگنا، وی پی سنگھ، ارجن سنگھ وغیرہ ان گنت لیڈران جمیعت العلماء ہند، جماعت اسلامی ہند اورامارت شریعہ کے دفاتر میں حاضری دیکر فوٹو کھنچوانا ضروری سمجھتے تھے۔

انتخابات کے دوران تو دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام مرحوم عبداللہ بخاری اور ان کے فرزند و موجودہ امام احمد بخاری کا رتبہ تو آسمان چھوتا تھا۔ ان کے دفتر کے باہر لیڈروں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں۔ امام صاحب کی اپیل کا مسلمان ووٹروں پر کوئی اثر ہوتا تھا یا نہیں، مگر ان کی سیاسی حیثیت مسلمہ تھی۔ موجودہ انتخابات میں کس حد تک مسلمان سیاسی بے وزنی کا شکار ہوچکے ہیں کہ کانگریس کے مقتدر لیڈر اور ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد کو شکوہ کرنا پڑا کہ ان کی پارٹی کے ہندو اراکین اب انکو اپنے حلقوں میں جلسے اور جلوسوں میں مدعوکرنے سے کتراتے ہیں۔

سیکولر پارٹیوں نے کارکنوں کو باضابط ہدایت دی تھی کہ اسٹیج پر کوئی مسلم لیڈر براجمان نہ ہو۔ امیدواروں کو بتایا گیا تھا کہ وہ مسلم محلوں میں ووٹ مانگنے نہ جائیں اور جلسے ، جلوسوں میں لمبی داڑھی و ٹوپی والوں کو اگلی صفوں میں نہ بٹھائیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور انکے دست راست بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے بگڑتی ہوئی معیشت، بے روزگاری اور کرپشن سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان اور پولارائزیشن کو ایک بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور ہندوؤ ںکو مسلمانوں کا خوف دلا کر یکجا کرکے مسلم ووٹ بینک کی ہوا نکال کر رکھ دی۔

کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھولے سے بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔ پہلے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے سیاسی پارٹیاں لمبے چوڑے وعدے کیا کرتی تھیں۔ ہر چندکہ کسی ایک وعدہ کی بھی تکمیل نہیں ہوتی تھی تاہم وقتی طور پر مسلمان خوش ہوجاتے تھے۔ لیکن 2019ء کے عام انتخابات میں تالی بجانے کا یہ لمحہ بھی ان سے چھن گیا۔کانگریس نے تو انتخابی منشور کی رسم اجراء کی تقریب میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے قدآور لیڈروں کو بھی دوررکھا۔

بہار کی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی پوری سیاست مسلمانوں اوریادو فرقہ پر منحصر ہے لیکن اس نے بھی اپنے منشور میں ایک جگہ بھی مسلم لفظ نہیں لکھا۔ دلتوں کیلئے پسماندگی کی بنیاد پر ریزویشن کا وعدہ تو کیا، مگر مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کیلئے کوئی تذکرہ نہیں۔ مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے کا مطلب صاف ہے کہ اب یہ پارٹیاں سمجھتیں ہیں کہ وہ مسلمانوں کی مجبوری بن گئی ہیں۔

ملک کے طول و عرض میں پھیلے 150 ملین مسلمان جہاں جموں و کشمیر میں اکثریت میں ہیں، وہیں آسام میں 33 فیصد، مغربی بنگال میں 24.6 فیصد، بہار میں 16.9فیصد اور جنوبی صوبہ کیرالا میں 25 فیصد ہیں۔ سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش کی 18 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔پولنگ ایجنسی سی۔ووٹر کے مطابق لوک سبھا کی 543 سیٹوں میں سے 145میں مسلمان ووٹر 11سے 20 فیصد کے درمیان ہیں، وہیں 35 نشستوں میں 35 فیصد سے زائد ہیں۔

سی۔ووٹر کے ڈائرکٹر یشونت دیش مکھ کے مطابق مسلمان 70 نشستوں پر جہاں ان کی آبادی 20 فیصد سے زائد ہے، فیصلہ کن رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔کیونکہ امیدواروں کی کثرت ، ووٹوں کی تقسیم اور دیگر عوامل کے سبب پارلیمانی نظام میں اکثر امیدوار 25 سے30 فیصد ووٹ لیکر ہی میدان مار لیتے ہیں۔مگر اس کے باوجود حکمران بی جے پی نے محض 7 مسلمان امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

ان میں تین تو کشمیر سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔۔ کانگریس نے 32مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔ دیش مکھ کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان کسی ایک امیدوار کے حق میں رائے عامہ بناتے ہیں، تو بقیہ 80فیصد ہندو آبادی پھر یکجا ہوکر بی جے پی کو فائدہ پہنچا تی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ بی جے پی کے مسلم امیدواروں کو بھی ہندو ووٹ نہیں دیتے ہیں۔اسکا اعتراف چند برس قبل بی جے پی کے سابق صدر اور موجودہ وزیر نتن گڈکری نے مسلم صحافیوں کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کے دوران کیا۔

جب ان سے استفسار کیا گیا کہ ان کی پارٹی مسلمانوں کو انتخابات میں ٹکٹ کیوں نہیں دیتی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ایک تو ان کی پارٹی کے مسلم امیدوار کو مسلمان بھی ایک طرح سے اچھوت سمجھتے ہیں، دوسری طرف ہندو بھی ان کو منہ نہیں لگاتا ہے۔ پارلیمانی انتخابات میں تو ایک ایک سیٹ کا حساب رکھنا پڑتا ہے اور کوئی بھی پارٹی کسی امیدوار کو ہارنے کیلئے ٹکٹ تو نہیں دے سکتی ہے۔ (جاری ہے)

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •