پاکستانی سائنس تو بس ایسی ہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بفضل خدائے بزرگ و برتر، مملکت خداداد پاکستان میں رمضان مبارک اپنے پورے آب و تاب سے سایہ فگن ہے۔ اس ماہ مبارک میں کلمہ گو اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کی اطاعت و بندگی میں روز و شب بسر کر رہے ہیں۔ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی، مختلف نجی چینلز پر تکلف رمضان ٹرانسمیشن کا اہتمام کرتے نظر آرہے ہیں۔ چند دن پہلے کا قصہ ہے کہ راقم سحری کی برکتیں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ایک نجی چینل پر سحری کی نشریات کا لطف اٹھا رہا تھا۔ پروگرام کی خاتون میزبان، اپنے صاحب علم و عرفان مہمانوں کے ساتھ دینی تعلیمات پر پر مغز گفتگو میں مصروف تھیں۔

اسی اثنا میں ایک لائیو کالر کو شامل نشریات کیا گیا جن کا سوال پروگرام میں موجود مہمانوں میں سے ایک نورانی بزرگ سے تھا جو ہمہ وقت زیر لب ذکر و اذکار میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سوال سائل کا یہ تھا کہ ان کے والد محترم کو ذیابیطس/ شوگر کا مرض لاحق ہے اور اس سلسلے میں معزز مہمان سے شفا کے لیے نسخہ کی طلبگار تھیں۔ اس کے جواب میں معزز مہمان نے ایک قرآنی آیت کو خاص تعداد میں ایک مخصوص انداز میں پڑھنے کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی کھجور کی گھٹلیوں، شہد اور پتہ نہیں کن اجزاء پر مشتمل ایک معجون بنانے کا نسخہ بھی یہ کہہ کر عطا کیا، کہ اللہ نے چاہا تو اس نسخے کے استعمال سے شوگر سے شفائے کاملہ مل جائے گی۔ اللہ اکبر!

اسی پروگرام میں راقم نے بلڈ پریشر، کینسر، کاروبار میں منافع، گھریلو ناچاقی، بچوں کے امتحانات میں کامیابی وغیرہ کے ایسے ایسے گوھر نایاب نسخے انہیں نورانی بزرگ سے سنے جن پر عمل کرنے سے آپ کے ہر مسئلہ کا حل چٹکی بجاتے ہی ہوجائے۔

ان جیسے بے شمار مناظر، آپ کو ہمارے ٹی وی چینلز اور معاشرے میں جا بجا ملیں گے۔ دنیا میڈیکل سائنس میں تحقیق اور جستجو میں کہاں سے کہاں نکل گئی اور ہم آج بھی شہد اور کلونجی سے تمام بیماریوں کے علاج کے درپے ہیں۔ Pseudoscience (جعلی سائنس) پر یقین صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام دنیا میں اہل علم کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں۔

ہم میں سے کئی لوگوں کو یاد ہوگا کہ کیسے ایک جعلساز نے آج سے چند سال قبل پانی سے گاڑی چلانے کا حیرت انگیز دعوی کیا۔ جی ہاں، میں شہرہ آفاق آغا وقار صاحب کی بات کر رہا ہوں۔ ہمارے معاشرے کے فکری انحطاط اور علمی تہی دامنی کا یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ بزعم خود دانشور صحافی حضرات ان صاحب کی گاڑی میں بیٹھ کر پروگرام کرتے پائے گئے۔ حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ان کے اس دعوے کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند جیسے سائنسدانوں نے تصدیق کی۔ وہ تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر، کہ آغا وقار صاحب کا پچھلا مجرمانہ ریکارڈ منظر عام پر آیا جس کی وجہ سے نام نہاد دنیا کی ذہین ترین قوم آغا صاحب کے مضحکہ خیز دعوے سے دستبردار ہوئی۔ سائنس کے ایک ادنی سے طالب علم کی حیثیت سے میرے لیے یہ سب دیکھنا اور سننا سوہان روح تھا۔

بات آغا وقار یا ان جیسے نیم پڑھے لکھے اشخاص تک محدود رہتی تو ٹھیک تھی، لیکن جب مستند سائنسدان اس طرح کی یاوہ گوئیوں پر اتر آئیں تب آپ اپنا سر ہی پکڑ کر بیٹھ سکتے ہیں۔ 2010 میں جب پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلابی ریلے کا گزر ہوا، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چئیرمین ڈاکٹر عطا الرحمن نے اپنے ایک کالم میں دعوی کیا کہ پاکستان میں سیلاب اور زلزلوں کے پیچھے امریکا کا ایک طبیعاتی تجربہ ہے جسے دنیا HAARP کے نام سے جانتی ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر کوئی واقعاتی یا علمی دلیل نہیں دی۔ اور جب ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ان کے اس دعوے کا بھانڈا پھوڑا تو وہ اپنے ابتدائی دعوے سے پیچھے ہٹ گئے اور پوری بات کو آئیں بائیں شائیں کر گئے۔

اسی سے مجھے ”مرد مؤمن“ ضیا الحق کے دور میں منعقدہ ایک کانفرنس کی یاد آئی۔ اکتوبر 1987 میں منعقد اس کانفرنس میں سلطان بشیر الدین محمود جو اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن PAEC کے سینئر ڈائریکٹر کے عہدے پر براجمان تھے، کی طرف سے ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔ اس مقالے میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ ”جنات“ پر قابو پا کر، ان سے حاصل شدہ توانائی کو پاکستان میں موجود توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے!

جعلی سائنس کے مظاہر آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ یقین نہیں آتا تو اپنے گردو پیش اور الیکٹرانک میڈیا پر غور کریں۔ ہر دوسرے چینل کے مارننگ شوز میں، ٹیرو کارڈ ریڈر، ماہر فلکیات، نجومی، جن قابو کرنے والے، کالے علم کے ماہر، دیسی جڑی بوٹیوں سے علاج کے ماہرین بطور خاص بلائے جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نجی چینلز کی اس بہتات میں بھی جہاں صرف پاکستان میں 150 سے زیادہ چینلز کام کر رہے ہیں، وہاں ایک بھی پروگرام ایسا نہیں جس میں سائنس سے متعلق بات کی جاتی ہو۔

سوشل میڈیا پر حالات اس سے بھی بدتر ہیں۔ میری طرح آپ سب بھی سوشل میڈیا پر ان لاتعداد جعلی سائنس پر مبنی مواد کا شکار رہے ہوں گے۔ مثلا، کلونجی کے ہوشربا فوائد، شہد سے ہر بیماری کا علاج، کھجور کی کرشماتی خصوصیات، روزے کے فوائد، نماز پڑھنے سے حاصل ہونے والے جسمانی فوائد، حجامہ کی افادیت اور اس قبیل کے متعدد دیگر موضوعات جن کی تصدیق کسی بھی طرح سے سائنسی طریقے سے نہیں کی جا سکتی۔

یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں اس لیے بھی زیادہ گمبھیر ہے کیونکہ ہم عادتا سائنس میں مذہب کا تڑکا لگانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اب کیسے کسی کو سمجھائیں، کہ ختمی مرتبت، خاتم النبیین، حضور صلعم، نے اپنے زمانے کے مطابق بہترین طرز زندگی اور طریقہ علاج اختیار کیا۔ بطور مثال، جو طریقہ علاج آج بنی نوع انسان کو میسر ہیں، اگر ان دنوں دستیاب ہوتے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ حضور صلعم جدید ترین طریقہ علاج ہی اختیار فرماتے۔

آج ہر دوسری گلی چھوڑ کر نئے ”حجامہ“ سینٹر کھل رہے ہیں۔ حجامہ یا سائنسی زبان میں ”Cupping Therapy“ زمانہ قبل از مسیح سے دنیا کے کئی علاقوں رائج طریقہ علاج تھا۔ آج تک اس طریقہ علاج کی افادیت طبی اور سائنسی طریقوں سے ثابت نہیں ہوئی۔ پھر بھی ہمارے عوام اس طریقہ علاج کو مذہبی ارادت اور تعلق کی نسبت سے اختیار کرتے ہیں۔ رہی بات عبادات کے دنیوی اور جسمانی فوائد کی، تو محترم عبادت کو اللہ کی اطاعت اور بندگی کا مظہر سمجھ کر انجام دیجئے۔ عبادت کو عبادت رہنے دیں، جسمانی ورزش یا ایکسرسائز نا بنائیں۔

قصہ مختصر، جعلی سائنس اور توہمات سے ہماری دلچسپی اور عقیدت کی بنیادی وجہ، ہمارے نظام تعلیم میں بنیادی نقائص ہیں۔ بقول کسے، اگر ہم اپنے بچوں کو مسلمانوں کے سائنس پر احسانات سے زیادہ، سائنس پڑھانے یا سمجھانے میں وقت اور محنت صرف کریں، تو ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں کامیاب ہوں گے، جہاں دلیل اور علم پر انحصار ہوگا۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں کسی بھی بات کو پرکھنے کے لیے تحقیق اور جستجو ہی واحد معیار قرار پائے۔ اس دن کے آنے تک، تربوز اور سبزیوں پر مقدس نام تلاش کیجیے اور ماشاءاللہ کہہ کر آگے شئیر کرتے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •