میں چاہتا تھا کہ مجھے دفن کرنے کی بجائے جلا دیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروقار موت قانون کے مطابق امریکا کے چند ریاستوں میں ہی ممکن ہے۔ کیلی فورنیا ان ریاستوں میں سے ایک ہے۔ مجھے وقت آنے پر وہاں جانا تھا جہاں ڈاکٹر میری وصیت اور معاہدے کے مطابق مجھے ڈرپ لگادیں گے جس میں وہ دوا ہوگی جس کے اثر سے میں سوتا ہوا بغیر کسی تکلیف کے مرجاؤں گا۔ وہ ڈرپ ڈاکٹر نہیں شروع کریں گے، اس کا اختیار میرے پاس ہوگا جس وقت میں سمجھوں گا اس وقت ایک بٹن دبا کر اس ڈرپ کا آغاز اور اپنی زندگی کا اختتام کرلوں گا۔ یہی میرا فیصلہ تھا اورمیں اپنے فیصلے سے مطمئن بھی تھا۔

میرا علاج بھرپور طریقے سے شروع کردیا گیا اورچھ مہینے کے اندر ہی ساری سرطان کش دوائیں مختلف اوقات میں میرے جسم میں داخل کی جاتی رہیں۔ یہ دوائیں جہاں سرطان کے خلیوں کو تباہ کررہی تھیں وہ عام صحت مند خلیوں کو بھی نقصان پہنچا رہی تھیں جن سے جسم مدافعت کر رہا تھا جو درد، بے چینی، پریشانی، نرگیست اور اُلٹیوں کی صورت میں ظاہر ہورہی تھی۔ اس دفعہ بھی مجھے انجکشن کی صورت میں دو قسم کی دوائیں مختلف اوقات میں دی گئیں جن کا سلسلہ چھ ماہ تک چلتا رہا، جنہیں میں نے برداشت کرلیا اور تھوڑی بہت تکلیف کے ساتھ زندگی گزارتا رہا۔ دعوتوں، شادیوں میں بھی گیا۔ کبھی کبھی فلمیں بھی دیکھیں اور بیوی بچوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ ریسٹورانٹ اور ہوٹلوں میں کھانا بھی کھایا۔

تیس مہینے آرام سے گزرگئے جس کے بعد معمول کے ٹیسٹ میں دوبارہ سے کینسر کی علامات دریافت ہوئے اور میرے سرطان کے ڈاکٹر دوبارہ سر ملا کر بیٹھ گئے اور یہی فیصلہ ہوا کہ دوبارہ کیموتھراپی سے علاج کیا جائے۔

اس دفعہ کیموتھراپی مجھ سے برداشت نہیں ہوسکی، شاید میرے جسم کا مدافعتی نظام اندر سے کھوکھلا ہوچکا تھا۔ درد، پیروں میں جھنجھناہٹ، شدید بے چینی اور بار بار کی اُلٹیوں نے مجھے پریشان کرکے رکھ دیا۔ ڈاکٹروں کی امید کے برخلاف میرے اندر کا سرطان میری قربانی مانگ رہا تھا۔

ایک دن میں نے نائلہ سے جانے کی خواہش کا اظہار کردیا تھا۔ اکیلے کمرے میں دواؤں کے اثر سے خاموشی سے لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں دبائے بغیر آنسوؤں کے رو رہی تھی۔

وہ میری خواہش کے احترام میں میرے ساتھ کیلی فورنیا چلنے کو تیار تھی۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ دس دنوں کے اندر مجھے وہاں جا کر پروقار موت کوگلے لگالینا چاہیے۔
اس دن میرے ہاتھوں کو پکڑے پکڑے آہستہ سے دباتے ہوئے اس نے دھیرے دھیرے رُک رُک کر دھیمے لہجے میں کہا تھا کہ اب جدائی کا وقت آگیا ہے کیا میں اس کی ایک بات مانوں گا۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی کیونکہ میں اس کے مزاج سے آگاہ تھا وہ ہر بات صاف صاف کہنے کی عادی تھی۔ ایسی کیا خواہش تھی جسے اس نے چھپا کر رکھا تھا۔
ضرور۔ میں نے اسے غور دیکھتے ہوئے سوچتے ہوئے کہا۔

وہ تھوڑی دیر تک سوچتی رہی، دیوار کے پار نہ جانے کیا دیکھنے کی کوشش کرتی رہی، اس کے معصوم غم والم سے بھرے ہوئے چہرے سے میرا دل دھڑکنے لگا تھا پھر وہ آہستہ سے بولی آپ جو فیصلہ کریں گے میں اس پر راضی ہوں آپ نہیں مانیں گے تو بھی میں خوش ہوں یہ صرف ایک خواہش ہے میرے لیے نہیں ہمارے بچوں کے لیے ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ نائلہ کیا سوچ رہی ہے پہلی دفعہ میں پریشان ہوگیا۔

آپ انتقال کے بعد جسم کو جلانے کی وصیت واپس لے لیں۔ اس لیے نہیں کہ میں ایسا چاہتی ہوں، بچوں کو بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، مجھے صرف یہ احساس ہے کہ آپ کے بعد میں بہت دنوں تک زندہ نہیں رہوں گی مگر ہمارے بچے پھر ان کے بچے تو زندہ رہیں گے۔ عزیزوں رشتہ داروں دوستوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے ہمارے لوگ کیسے ہیں، نہ جانے کیا کیا باتیں کریں گے، انہیں تو اس بات کا پتہ نہیں چلے گا کہ آپ خاموشی کے ساتھ اپنی مرضی سے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن انہیں یہ تو پتہ چلے گا کہ آپ نے اپنے لیے جل کر راکھ ہونا پسند کیا ہے پھر جو باتیں ہوں گی اس کا مجھ سے زیادہ آپ کو اندازہ ہوگا۔ میں صرف اُنہیں ان باتوں سے بچانا چاہتی ہوں لیکن آپ کی خوشی اور خواہش سب سے بالاتر ہے۔ اس کا چہرہ لال تھا اور آنکھیں جھلملارہی تھیں۔

مجھے وہ بہت خوبصورت لگی تھی وہ بالکل صحیح کہہ رہی تھی۔ میں نے اس طرح سے نہیں سوچا تھا۔ ساری زندگی میں نے اپنے طریقے سے گزاری تھی، اپنے طریقوں سے بچوں کو پالا تھا، بڑا کیا تھا، تعلیم دی تھی، ذمہ دار انسان بنایا تھا، ان میں کوٹ کوٹ کر رواداری بھردی تھی، وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے، دھوکہ نہیں دیتے تھے ان میں منافقت نہیں تھی لیکن وہ وہ صحیح کہہ رہی تھی، میری وجہ سے میرے بعد انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ وہ جن لوگوں کے درمیان اُٹھیں گے بیٹھیں گے وہ باتیں بنائیں گے، ایسی باتیں جن کا نہ کوئی سر ہوگا نہ پیر۔ ایسے لوگ جن کی زندگی دوسروں کی زندگیوں میں داخلاندازی کرتے ہوئے گزری ایسے لوگوں کی باتوں کو میں تو جھیل سکتا ہوں لیکن بچوں کو کیوں تکلیف پہنچے۔

میں نے اسے گلے لگالیا تھا، میں ابھی دستخط کردوں گا، کیلی فورنیا جانے سے پہلے قانونی دستاویز بنوالوں گا بالکل فکر نہ کرو۔ میرے مرنے کے بعد کورنیا نکالنے کے بعد میرے جسم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ جو بھی کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، میں نے مسکرا کر کہا تھا۔
دوسری صبح نائلہ کے ساتھ کیلی فورنیا کا سفر بہت خوشگوار تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •