ماحولیاتی دہشتگردی !
گذشتہ کافی دنوں سے یورپ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے احتجاجی مارچ ہو رہے ہیں۔ لنڈن میں ”مدھر رائیز اپ“ گروپ کی جانب سے ایک بڑا احتجاج رکارڈ کروایا گیا۔ اسی طرح کلائمیٹ چینج کی آگاہی دینے کے لیے سکولوں کے طلبہ کی یہ تحریک ہالینڈ، اسپین، زیک ری پبلک اور تقریباَ 100 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔
ساری دنیا میں موسمی تبدیدلیوں پر نوجوان نسل میں تحرک بڑھ رہا ہے۔ یورپ میں ہزاروں طلبہ نے سکولوں کا بائیکاٹ کرکے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ”سیارہ زمین کو نئی نسل کے لیے رہنے کے قابل بنایا جائے۔ “
گذشتہ برس کے دوران لنڈن میں ”اسٹرائیک فار کلائیمیٹ“ کے سرے سے سوئڈش طالبہ گریٹا تھنبرگ نے مظاہروں کا سلسلا شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کی ایک ریلی میں گریٹا نے کہا تھا کہ ”سمندروں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور ہمارے صبر کے پیمانے بھی۔ “
اس وقت پہلے سے زیادہ شدت والے سمندری طوفان آ رہے ہیں، جنگلات کو کاٹا جا رہا ہے، گرمی کی بڑھتی ہوئے شدت سے انسان بڑی تعداد میں مر رہے ہیں۔ ْ
خشک سالی، سیلاب اور قحط کی وجہ سے دنیا بربادی کی جانب رواں دواں ہے۔ پلاسٹک اور کیمیائی فضلے سے سمندر آلودہ بن گئے ہیں۔ نتیجے میں سمندری حیاتیات مر رہی ہے۔ زیرِ زمیں پانی کم ہو رہا ہے اور زیادہ آلودہ پانی پینے سے انسان کئی بیماریوں کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ دوسری طرف فاسل فیول والی دنیا کی 100 بڑی کمپنیاں 70 فیصد زہریلے گیس، مادے خارج کر رہی ہیں۔ ایئر پالیوشن کے سبب اس سیارے کو بڑے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جنت جیسے سیارہ زمین کو دوزخ کی طرف دھکلینے والے اصل ذمہ دار کون ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس میں سرمایہ دار ممالک کا بڑا ہاتھ ہے۔ سرمایہ داری کی نفعے کی نا ختم ہونی والی جبلت نے انسانوں کا جینا محال کر دیا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے رسالے ”منتھلی ری ویو“ کے ایڈیٹر اور شعبہ سماجیات کے پروفیسر جان بلیمی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”ماحولیاتی تبدیدلیاں آج کے عہد کا سب سے بڑا بحران ہے، اس بحران کا سبب سرمایہ دارانہ دنیا کی معیشت میں اضافہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام، جس کا مقصد صرف سرمایہ اکٹھا کرنا ہو، وہ نظام ماحولیاتی بحرانوں کو مزید ہوا دیتا ہے۔ سرمایہ داری کے لیے ہر چیز صرف نفع کمانا ہے، اس سرمایہ دارانہ نظام کے لیے سیارہ زمین اور انسانذات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ “
کئی لوگ سرمایہ دارانہ نظام کو انسان کی ترقی کے لیے اچھا سمجھتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کہ وہ نظام (جو استحصال پر مبنی ہے ) دنیا کی نئے سرے سے تعمیر کرکے انسانوں کے درپیش مسائل حل کرے گا۔ یہ ناممکن ہے۔ دیکھیے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں نچلا طبقہ سب سے زیادہ بھگت رہا ہے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے، پانی کی قلت، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور دوسرے مسائل نے عام لوگوں کو جینے کے لائق نہیں چھوڑا ہے۔
دنیا میں قدرتی وسائل کی لوٹ مار نے کی وجہ سے بڑے خدشات کا اظہار کیا گیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ”انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ فطرت کو بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ 10 لاکھ جانوروں اور پودوں کے نسل کو بڑا خطرہ ہے۔ “ دوسری طرف ورلڈ میٹیرو لاجیکل آرگنائیزیشن (ڈبلیو ایم او) کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ساری دنیا میں سے 62 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں، اور بیس لاکھ کی آبادی دوسری جگہوں پر منتقل ہونے پر مجبور بن گئے ہیں۔ 1998 سے اب تک 4۔ 5 بلین انسان خراب موسمی تبدیلیوں کے باعث شدید متاثر ہوئے ہیں۔ “
دوسری طرف پاکستان میں مہا سیلاب کے امکانات بھی ہیں۔ فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین کمال کا کہنا ہے کہ ”اس سال بڑی برفباری اور موسمی تبدیلیوں کے سبب ملک میں ایک بڑے سیلاب کا امکان ہے۔ “ ملک میں ہر آئے دن گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، گندگی، پانی کی قلت اور کئی ماحولیاتی مسائل درپیش ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ صحت، تعلیم و روزگار جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی طرح ماحولیات کا مسئلہ بھی ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔
ساری دنیا کے اندر بڑے پیمانے پر صنعتی آلودگی، زراعت کی زہریلی دواؤں، اور فاسل فیول کے سبب بڑی مقدار میں زہریلے مادے اور گیس خارج ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماحولیات پر تمام برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ ایک قسم کی دہشتگردی ہے، جس کو ”ایکو ٹیرر ازم“ کہتے ہیں۔ جس کے سبب انسانوں اور دورسرے حیاتیاتی نسل نشانہ بن رہیں ہے۔ مگر سرمایہ دار ممالک اس ماحولیاتی دہشتگردی کو روکنے کے بجائے مزید بڑھا رہے ہیں! کیونکہ اگر وہ فاسل فیول والی کمپنیاں بند کریں گے تو ان کے مفادات کو خطرہ ہے۔ 2015 کے پیرس معاہدے پر بھی مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بڑے سرمایہ دار ملک آمریکا اور چین اس معاہدے سے نکل گئے ہیں۔
اس ماحولیاتی دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے خطرناک کیمیائے مادوں، کاربان کے اخراج کو روکنے، سیلاب سے حفاظتی اقدامات اٹھانے، اور نئے جنگلات لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر اب بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سرمایہ دار دنیا کے حکمراں اس پر عمل کریں گے؟ تو اس کا جواب نفی میں ملے گا۔ کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیرس معاہدے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔
تو پھر کیا ہو گا؟
جیسے کہ انسانی تاریخ میں انقلابات آئے ہیں، جس سے متاثر ہو کر ایک اچھا نظام تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس دور میں بھی دنیا کے کئی ممالک میں سرمایہ دار مخالف جدوجہد جاری ہے۔ اس جدوجہد کا مقصد بربریت برپا کرنے والے نظام سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے انسان و فطرت دوست نظام کی تشکیل کرنی ہے۔ اس نظام میں سائنسی ایجادات اور پیداوار کا مقصد سرمایہ جمع کرنا نہیں بلکہ انسانیت کی بہتر خدمت کرنا ہے۔ وہ نظام اشتراکی ہی ہے، جو دنیا کو برباد ہونے سے بچا سکتا ہے۔


