مشرق وسطیٰ پر جنگ کے سائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تمام دفاعی ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن خواہشات کے مطابق بند کرنا ناممکن ہوتاہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی عوامل بدلتے رہتے ہیں۔ کون فریق کس کا کتنی دیر اور کس حد تک ساتھ دیتا ہے۔ شروع میں اس کا بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ 3 سال پہلے جب سعودی عرب نے اپنے مخالف یمنی حوثی قبائل پر حملے شروع کیے تھے۔ تو سعودیوں کی توقع یہی تھی کہ وہ بہت جلد حوثی قبائل پر فتح حاصل کر لیں گے۔ یہ صرف خواہشات تھیں۔

14 مئی بروز منگل حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کی سب سے بڑی اور اہم پائپ لائن جس کی لمبائی 1200 کلومیٹر ہے۔ اسے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اورلائن پر واقع کئی پمپنگ سٹیشنز کو شدید نقصان پہنچا۔ اس سے ایک روز قبل عرب امارات کی ایک بندرگاہ میں کھڑے آئل ٹینکرز کونقصان پہنچایا گیا۔ اس میں سعودی عرب کے بھی 2 آئل ٹینکر شامل تھے۔ عربوں کو اب یقین ہوچکا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی قبائل کو وہ اکیلے شکست نہیں دے سکتے۔

ان کا پہلا اور آخری سہارا امریکہ ہی ہوتا ہے۔ 3 سالہ عرب حوثی قبائل کی جنگ نے دونوں فریقوں کو بے شمار نقصان پہنچایا ہے۔ یمن میں ایک لاکھ اموات ہوچکی ہیں۔ قحط کی صورت حال ہے۔ ایران کی قوت امریکہ کو بھی بہت کھٹکتی ہے۔ اور امریکہ موقع کے انتظار میں ہوتا ہے کہ وہ اس طاقت کو نقصان پہنچائے۔ نقصان پہنچانے کے لئے امریکہ ایک سال پہلے ایران سے کیے ہوئے 6 ملکی معاہدے سے نکل گیاتھا۔ تب سے اب تک ایران شدید تجارتی اور کاروباری پابندیوں کی زد میں ہے۔

ایرانی ریال کی اسوقت وہی حالت ہے جودوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے سکے مارک کی ہوگئی تھی۔ جرمن باشندے سگریٹ خریدنے کے لئے بھی ایک پورا تھیلا نوٹوں کا لے جایا کرتے تھے۔ اب کچھ دنوں پہلے 32۔ ہزار ایرانی ریال ایک ڈالر کے برابر تھے۔ اس سے زیادہ بڑی تباہی ایران کی کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن امریکہ، ایران کو عربوں کے اکسانے پر بڑا سبق دینا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ اپنا ایٹمی بحری بیڑا خلیج فارس میں لے آیا ہے۔ ایٹم بردار B۔52 طیارے اس بحری بیڑے پرموجود ہیں۔ آخری خبریں آنے تک مزید جدید ترین ایف 15 اور ایف 35 بھی عربوں کے ہوائی اڈوں پر پہنچا دیے گئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ کے لئے تیاری مکمل ہے۔ میڈیا میں یہ رپورٹ بھی آچکی ہے۔ کہ ایک لاکھ بیس ہزار فوجی بھی خلیج فارس میں بھیجنے کی امریکی تیاریاں مکمل ہیں۔ ایران کی طرف سے بھی لفظی گولہ باری جاری رہتی ہے۔ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کو جانے والا 5 واں حصہ تیل گزرتا ہے۔

یہ ایران کے بالکل قریب ہے۔ ایران میزائل اور گولے برسا کرآسانی سے اس آبنائے کو بند کرسکتا ہے۔ ایران اس کی دھمکی پہلے دے چکا ہے۔ جس دن یہ آبنائے بند ہوگئی۔ یوں سمجھو کی مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں پھر آ گیا۔ عراق کی تباہی کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ عراق ایک متحد ملک سے 3 حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ تینوں حصے آپس میں دست وگریباں رہتے ہیں۔ شام کے حالات کو سب جانتے ہیں۔ افغانستان اب بھی امریکہ کے قبضے میں ہے۔

اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس سے پاکستان کا متاثر ہونا یقینی ہے۔ ایران اور پاکستان کی 900 کلومیٹر سرحد مشترک ہے۔ اگر 2001 ء کی طرح امریکہ نے پاکستان پر بری راستے کا دباؤ ڈالا تو کیا پاکستان امریکی مطالبے کو رد کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ پاکستان کی پوزیشن اسوقت 2001 ء سے بھی زیادہ نازک ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات ابھی فائنل نہیں ہوئے۔ صرف سٹاف لیول پر کچھ چیزیں طے ہوتی ہیں۔ ابھی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کا مرحلہ باقی ہے۔ اور FATF کی لٹکتی ہوئی تلوار۔ اگر امریکہ کی بات نہ مانی گئی تو پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں پھینک دیاجائے گا۔ اور پھر پابندیاں ہی پابندیاں۔ اللہ ہی کی طرف دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ شاہ محمود قریشی نے 15 مئی کو کہا ہے کہ ہم ایران۔ امریکی جھگڑے میں فریق نہیں بنیں گے۔ لیکن طاقتور کا ساتھ دینا پاکستان کی روایت رہی ہے۔ 2 دن پہلے سوچی (روس) میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی۔ پمپیو دیکھنا چاہتے تھے کہ اگر امریکہ ایران کو سبق سکھانے کے لئے حملہ کرے تو روس کا ردعمل کیا ہوگا۔

روس ہی بین الاقوامی حالات میں ایران کا سب سے بڑا سپورٹر ہوتا ہے۔ سوچی (روس) میں امریکہ اور روس مذاکرات میں روس نے یہی کہا ہے کہ حالات کو جنگ تک نہ لے جایا جائے اور ایران کو دباؤ ڈال کر کارنر نہ کیا جائے۔ امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کو بھی روس نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ روس کو اپنا ساتھی بنانے کے لئے یہ بھی کہا گیا کہ حوثی ایران کی حمایت سے ایسے علاقوں میں میزائل پھینک رہے ہیں جہاں روسی اور امریکی شہری سفر کر رہے ہوتے ہیں۔

مقصد ایران کو حوثیوں کی حمایت ترک کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ سوچی میں ان مذاکرات کے بعد چین کے وزیر خارجہ نے بھی روسیوں سے ملاقات کی۔ کیا یہ بڑے مسلمانوں کے حق میں سوچیں گے۔ جب مسلمان آپس میں ہی ایک دوسرے کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تیسرا فریق کیا کر سکتا ہے۔ عربوں کا امریکیوں کو بلانا اور امریکہ سے جنگ کی دھمکیاں دلوانا مسلمانوں کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔ 2001 ء کے بعد کی تباہی کے اثرات ابھی بھی پھیل رہے ہیں۔

ایک نئی جنگ باقی کسر بھی نکال دے گی۔ اگر پاکستان پر بری راستہ کے لئے دباؤ پڑتا ہے توموجودہ حکومت حالات سے کیسے نپٹتی ہے۔ تمام فریقوں کو جنگ سے بچنا چاہیے۔ مذاکراتی میز جو جنگ کے بعد بچھائی جاتی ہے اسے پہلے ہی سیٹ کر لیں۔ اور مذاکرات سے کوئی حل نکالیں۔ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن اپنی خواہشات کے مطابق بند کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •