رمضان کو عبادت رہنے دیں، فیشن ٹرینڈ نہ بنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان کا مہینہ گناہوں سے بچنے کا اور خود کو پاک کرنے کا ہوتا ہے۔ اس مہینے جب رحمت خداوندی ہر گھڑی ہر شخص پر برس رہی ہوتی ہے وہیں انسان کو آئینہ بھی دکھا رہی ہوتی ہے۔ پہلے بہت سے کام جو ہم شیطان کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے تھے اب اپنی جھولی میں دیکھ کر ٹھٹھک جاتے ہیں کہ یہ کوئی اور نہیں ہے، ہم ہی تھے۔ اس مہینے ہی ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع ملتا ہے۔ اپنے اندر کے شیطان سے ملنے کا۔ تزکیہ نفس کرنے کا۔

کسی کا احساس کرنے کا۔ کسی کے دکھ درد بانٹنے کا۔ کسی کا سہارا بننے کا۔ انسان بننے کا اور انسانیت کو فروغ دینے کا۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم چونکہ اکیسویں صدی کے لوگ ہیں اس لئے ہم اپنی عبادات میں بھی جدیدیت لے کے آتے ہیں۔ ہم تراویح کی لائیو کوریج کرتے ہیں، ہم کسی کی مدد کرتے ہوئے فوٹو شوٹ کرواتے ہیں، جس میں ہم اپنے اندر کا فرعون اور غریبوں کی بے بسی دکھا رہے ہوتے ہیں۔ ہم ایک آٹے کا تھیلا دے کر گردن اکڑا کر چلتے ہیں اپنے دوستوں میں کہ دیکھو بھائی میں تو بڑے دل کا ہوں اور بڑے گھر سے ہوں اس لئے صدقہ خیرات تو معمول ہے۔ باقی رہی نیتوں کی بات تو اس گند سے تو صرف رب واقف ہے۔ دنیا والوں کے سامنے تو واہ واہ ہوگئی کہ دیکھو کتنا نیک بندہ ہے، غریبوں پہ بہت مہربان ہے۔

ہم جب چھوٹے تھے تو رمضان کا احترام کچھ اس طرح کیا کرتے تھے، گالی دینا بہت برا سمجھتے تھے اور دوسروں کو بھی کچھ اس طرح تلقین کیا کرتے تھے کہ شرم کیجئیے، رمضان کا مہینہ ہے اس لئے گالی سے احتراز برتیے۔ چھوٹے تھے اس لئے ہم چِڑی روزہ رکھتے تھے جس میں ایک دو بار پانی پینے کی اجازت پتہ نہیں ہمیں کس نے دی ہوئی تھی، اور یہ روزہ پانی پینے سے نہیں صرف جھوٹ بولنے سے ٹوٹتا تھا۔ افطاری کے وقت مسجدوں میں افطاری کے تھال پہنچانا اور گھروں میں دعوتیں ہوتی تھیں افطاری کی، جس میں دور دور سے دوست احباب اور رشتہ دار مدعو ہوتے تھے۔

سب کچھ گھر میں تیار ہوتا تھا اماں روزے کی حالت میں سارا سارا دن چولہے کے آگے گزار دیتی صرف اس لئے کہ روزہ دار کا روزہ کھلوانے کا اتنا ہی اجر ہے جتنا روزہ رکھنے کا ہے۔ اُن افطاریوں میں نہ تو عریانی ہوتی تھی اور نہ ہی نماز چھوٹتی تھی۔ عبادت اور مہمان نوازی دونوں کا اجر ملتا تھا۔ سارا دن تسبیحات کرنے اور قرآن پاک پڑھنے میں گزرتا تھا۔ ٹی وی دیکھنے کا تو تصور ہی نہیں تھا ہم معصوم تھے اس لئے یہی سمجھتے رہے کہ گناہ ہوتا ہے پھر ہم سمجھدار ہوگئے اور بد قسمتی سے ماڈرن بھی تو پھر ہم نے سیکھا کہ دین تو عامر لیاقت ٹی وی پہ سکھاتا ہے۔

ہمیں روزہ کے معنی مفہوم یہی بتائے جاتے تھے کہ روزہ کا مطلب ہی بھوک پیاس کو برداشت کرنا ہے، تاکہ ہمیں غریبوں کا احساس ہوسکے، پھر ہم بڑے ہو گئے تو ہم پیاس نہ لگنے کے ٹوٹکے سننے لگے۔ رمضان کے احترام میں جو برائیاں ترک کر کے ہم ایک ماہ کے لئے مسلمان بن جاتے تھے اب وہ ترک کرنے کے بارے میں ہم سوچتے تک نہیں۔ جھوٹ، دھوکہ، فریب ملاوٹ، بے حسی، دکھاوا اور کون سی ایسی برائی ہے جو ہم رمضان کے تقدس میں چھوڑتے ہیں۔

ہر چیز ہم ٹرینڈ کے مطابق کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو ایسی چیزوں میں مات دینا چاہتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ہم نے ایسی چیزوں کو فیشن سمبل بنا لیا ہے جو حقیقت میں تباہی اور بربادی کا سامان ہیں اور ان چیزوں کے لئے ہم نے اپنا ایمان تک ترک کر دیا ہوا ہے۔ عبادات کو صرف عبادات تک رہنے دیں اس میں فیشن کو شامل نہ کریں۔ ایسا کر کے آپ دنیا کی دوڑ میں بے شک پیچھے رہ جائیں لیکن آخرت میں ضرور سرخرو ہوں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •