جادو کے ذریعے لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کا انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکیوں کو اغوا کر کے بیرون ملک سمگل کرنے اور جسم فروشی کے دھندے پر لگانے والے گروہوں کے متعلق حیران کن انکشافات ہوئے ہیں۔ بتا گیا ہے کہ اب خواتین کو جادو کے ذریعے بھی جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

برطاونی اخبار دی مرر کے مطابق ایسے کئی گروہ افریقی ممالک، بالخصوص نائیجیریا میں سرگرم ہیں جو وہاں کی خواتین کو جادو کے ذریعے سپین اور دیگر یورپی ممالک لے جاتے اور وہاں جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں برطانیہ میں بھی ایسے ہی ایک گروہ کی سرغنہ خاتون گرفتار ہوئی تھی۔ اس 53سالہ خاتون کا نام جوزفین لیامو تھا جو بنیادی طور پر لندن کی رہائشی تھی لیکن اس نے نائیجیریا میں بھی ایک عالیشان گھر بنا رکھا تھا اور وہاں سے لڑکیوں کو جادو کے ذریعے سپین، برطانیہ، اٹلی، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک بھیجتی اور انہیں جسم فروشی کے دھندے پر لگاتی تھی۔ اس کے ساتھ اس کے گروہ کے دیگر کئی اراکین کو بھی گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جوزفین اور دیگر ایسے گروہوں نے ماہر جادوگروں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ گروہ کے اراکین لڑکیوں کو بہلا پھسلا کراپنے دفاتر میں لاتے ہیں جہاں ان پر جادو کیا جاتا ہے، جس کے بعد لڑکیاں ان کے تابع ہو جاتی ہیں اور ان کے ہر حکم کی تعمیل کرتی ہیں۔

جوزفین کے متعلق برطانوی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ورغلا کر لائی گئی لڑکیوں کو جادو کیا گیا خون پلاتی تھی جس میں کیڑے مکوڑے ہوتے تھے اور انہیں جادو کیے ہوئے مرغیوں کے دل کھلاتی تھی جس سے لڑکیاں اس کا ہر حکم ماننے پر مجبور ہو جاتیں۔

رپورٹ کے مطابق سپین کے شہر بینیڈروم اور میگالوف میں ایسی جسم فروشی افریقی لڑکیاں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں جنہیں مبینہ طور جادو کے ذریعے اس دھندے میں لایا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •