قرض کی مے کا جام اور تبدیلی کا کشکول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ہمارے اور آپ کے پیارے مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا،

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

میرزا مغل زادے تھے، دہلی کی اشرافیہ میں سے تھے، زبان ان کے گھر کی لونڈی تھی، چند بار قرض کی مے پی بھی لی تو کیا ہوا۔ آخر اس بادہ نوشی کی ترنگ بھی خیال کی بنت میں استعمال ہو رہی تھی۔ یہ آپ اور ہم جو آج کل بات بات پہ غالب کے شعر نکال کر پیش کرتے ہیں، یہ سارا ساماں اسی فاقہ مستی کا ہی ہے۔ غالب آج زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ ایک پٹھان زادے نے قرض مانگنے پر سینکڑوں بار تین حرف بھیجے، اور قوم ایسی سادہ لوح کہ اس کی باتوں پر ایمان لے آئی۔

وہ تو برا ہو ان زمینی حقائق کا کہ کرسی پر بیٹھتے ہی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ جو آپ سے پہلے یہاں بیٹھے تھے، وہ کچھ ایسے کوڑھ مغز بھی نہیں تھے۔ ہاں اگر آپ کی خواہش صرف اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم کا لاحقہ دیکھنا تھا، اور شیروانی زیب تن کرنی تھی تو وہ بفضلِ باری تعالیٰ پوری ہو چکی ہے۔

یار لوگ تو آج کل یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ آئی ایم ایف نے قرض کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ مراد سعید جب آئی ایم کے منہ پر ایک سو ارب ڈالر ماریں، تو براہِ کرم ذرا آہستہ ماریں۔ ہمارے ایک دوست ہیں، چوہدری صاحب، بڑے منہ پھٹ قسم کے انسان ہیں۔ اگلے روز ملے تو کہنے لگے کہ ویسے تو میرا مشورہ بھی مفت نہیں ہوتا، لیکن ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں عمران خان کو حکومت کرنے کا آسان ترین نسخہ بتائے دیتے ہیں۔

میں نے کہا سرکار نیکی اور پوچھ پوچھ۔ فرمانے لگے، وطنِ عزیز کے تمام مسائل کا حل عمران خان کی پرانی ٹویٹس اور تقریروں میں ہے۔ اب بندہ پوچھے ایسے استدلال کے بعد گفتگو کی کیا گنجائش بچتی ہے۔ اگر ان کنٹینر مارکہ تقریروں میں کوئی نسخہ ہائے کیمیا ہوتے تو خان صاحب یا اپنے اسد عمر صاحب اب تک آزما نہ چکے ہوتے۔ پی ٹی آئی کا بالعموم اور خان صاحب کا بالخصوص مسئلہ یہ رہا ہے کہ مختلف معاملات پر ایسی سخت پوزیشن لے لیتے ہیں کہ بعد میں۔ یہ بعد میں والا محاورہ جس کا تعلق لعابِ دہن اور زبان کی مخصوص زاویے میں حرکت سے ہے، کو میں نے خود قطع کر دیا۔ آسانی کے لئے ایک اور محاورے سے کام چلا لیتے ہیں۔ پنجابی زبان کے ایک اور محاورے کے مطابق ہاتھوں سے لگائی گئی گرہیں بعد میں منہ سے کھولنی پڑتی ہیں۔

اب اگر آپ کہیں گے کہ میں خودکشی کر لوں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا۔ یا آپ کہیں گے کہ مجھے شرم آتی ہے جب ہمارا وزیراعظم کشکول لے کر کبھی سعودی عرب کبھی چین کبھی امارات جاتا ہے۔ تو یہ باتیں آپ کا پیچھا کریں گی۔ وہ ارسطو مارکہ وزیر خزانہ صاحب جن کے چرچے گزشتہ پانچ سال سنتے رہے، اگر انہوں نے تیاری نہیں کی تو پھر تو کسی بھی وزیر کی نہیں ہو سکتی کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اگر کسی کو اپنی وزارت کا کنفرم پتہ تھا تو وہ اسد عمر صاحب تھے۔

خیبر پختونخواہ میں تین سال حکومت کے بعد خان صاحب کو یہ کہنے میں عار نہیں تھا کہ ہم حکومت کے لئے تیار نہیں تھے۔ پہلی باری تھی، پورے ملک کی حکومت کے مقابلے میں چھوٹا تجربہ تھا، اس لیے عوام اور مقتدرہ نے رعایتی نمبروں سے پاس کر دیا۔ (مقتدرہ سے مراد مقتدرہ قومی زبان ہر گز نہیں۔) لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد، اور اتنے بلند و بانگ دعوے کرنے کے بعد اگر آپ کی یہ کارکردگی ہے، تو خاکسار یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ خدانخواستہ اگر آپ کو 2013 میں حکومت مل جاتی تو آپ ملک کا کیا حشر کرتے؟ یاد رہے کہ 2013 میں لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی اور دیگر مسائل اپنے عروج پر تھے۔ پی ٹی آئی کو ایسے وقت میں حکومت ملی، جب لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی تھی، دہشت گردی پر قریب قریب قابو پایا جا چکا تھا۔

چلے تھے ہم ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے۔ سب سیاسی و غیر سیاسی حکومتوں کا کھلواڑ اپنی جگہ، فی الوقت حالت یہ ہے کہ اس سال پاکستان کی شرح نمو بھوٹان اور مالدیپ سے بھی کم رہنے کی توقع ہے۔ ڈالر ڈیڑھ سو روپے پر پہنچ گیا، شنید ہے کہ اسی سال 180 روپے تک پہنچ جائے گا۔ کیا خان صاحب کو اندازہ ہے کہ ایک سال میں ڈالر 110 سے 150 یا 180 روپے تک پہنچنے کا کیا مطلب ہے؟ مہنگائی کس طرح عام آدمی کو متاثر کر رہی ہے؟

اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی قیمت سے باہر ہو چکی ہیں۔ اگر یہی عالم رہا تو لوئر مڈل کلاس کی ایک بڑی تعداد سطحِ غربت تک پہنچ جائے گی۔ خاکم بدہن اگر یہ وقت آیا تو جو خانہ جنگی ہو گی، اس میں نہ آپ کی وجاہت کام آئے گی، نہ آپ کے کرکٹ ریکارڈز، نہ آپ کا فر فر انگریزی بولنا، نہ ہی وزیراعظم کا لاحقہ، اور نہ ہی آستانہ بنی گالہ کا کوئی نیا تعویز۔ گنہگاروں کی اس مادی دنیا میں کام کرنا پڑتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کام کریں تو آپ سے آگے نکل جاتے ہیں، اور آپ کام نہ کریں تو تسبیح پڑھنے سے ملک ترقی نہیں کرے گا۔

اب آتے ہیں آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کی طرف۔ اس سے پہلے آئی ایم ایف کے تیرہ پیکج ہم لے چکے ہیں۔ یہ چودھواں پیکج ہے۔ اس سے پہلے آئی ایم کا صرف ایک پروگرام مکمل ہوا ہے۔ جو گزشتہ دورِ حکومت میں تھا۔ گو مشرف دور میں آئی ایم ایف کے قرضے ادا کر کے پروگرام کو قبل از وقت ختم کر دیا گیا تھا۔ برسبیلِ تذکرہ، مشرف دور 1999 تا 2008، ملکی تاریخ میں وہ واحد دور ہے جس میں بیرونی قرضوں میں کمی آئی۔ (وجوہات پر علیحدہ بحث ممکن ہے، فی الوقت صرف اس پیکج کا ذکر ہو رہا ہے۔

ویسے تو اقبال نے قریب سو برس پہلے تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ سنا دیا تھا کہ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات، لیکن لیاقت علی خان سے عمران خان تک، ہر حکمران نے بیرونی قرضوں پر لعنت بھیجی، اور آخری بار قرضہ لیا۔ گزشتہ حکومت نے بھی آخری بار آئی ایم ایف پیکج لیا تھا، اب موجودہ حکومت بھی آخری بار پیکج لے رہی ہے۔ اس کے بعد ایک بار پھر آخری پیکج لیا جائے گا۔ یہ کولہو کا بیل اسی دائرے میں گھومے گا جب تک آپ آمدنی میں اضافہ نہیں کریں گے۔

آئی ایم ایف آپ کو تین سال میں چھ ارب ڈالر دے گا، ورلڈ بینک اور ایشین بنک قریب تین ارب ڈالر دیں گے، کچھ پیسے آپ دوست ممالک سے حاصل کر چکے ہیں، یہ سب قریب بارہ ارب ڈالر بنتا ہے، اس سے دو گنا زیادہ آپ کو اگلے تین برس میں درکار ہیں۔ یعنی ان پیسوں سے صرف وقتی گزارہ ہو گا، جو بنیا دروازے پر وصولی کے لئے بیٹھا ہے، صرف اس کو ٹالا جا سکے گا، لیکن جب تک گھر کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو گا، گھر نہیں چل سکتا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ دس سال سے ہر سال برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ اس دفعہ تو روپے کی قدر گرا کر برآمدات زیادہ دکھانے کا مجرب نسخہ بھی کارگر نہیں ہوا۔ دوسری طرف ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ تجارتی خسارہ کم ہو گیا۔ حالانکہ خاکسار جیسا معیشت کا سرسری علم رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ ملک میں بے یقینی کی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ دار پیسہ روک کر بیٹھے ہیں، اور درآمدات میں بھی کمی ہوئی ہے۔ جس سے آپ کا تجارتی خسارہ تو کم ہو گیا، لیکن ملک میں صنعت کا پہیہ سست ہو گیا، معاشی سرگرمیاں کم ہو گئیں، جس کے دو سادہ سے نتیجے ہیں، روزگار کے مواقع میں کمی اور حکومتی محصولات میں کمی۔ اب اس سادگی پہ کون نہ مر جائے۔

گئے وقتوں سے دیکھتے آئے ہیں کہ ساہوکار جب قرضہ دیتا ہے تو یا وہ کوئی زیور، زمین کے کاغذات یا کچھ اور سود مند چیز گروی رکھتا ہے یا اپنے تئیں قرض کی بازیابی کی تسلی کر کے قرضہ دیتا ہے۔ اب آئی ایم ایف آپ کو اربوں ڈالر دے گا، تو یہ تو پوچھے گا کہ یہ قرضہ کیسے واپس کریں گے؟ نئے ٹیکس لگا کر، سبسڈیز ختم کر کے، بجلی پٹرول وغیرہ کی قیمتیں بڑھا کر یا پی آئی اے اور سٹیل ملز جیسے سفید ہاتھیوں کو بیچ کر۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں ہمیں فوراً امریکی سازش نظر آ جاتی ہے۔

انہوں نے آپ کی ڈور بیل بجا کر نہیں کہا کہ برائے مہربانی ہم سے قرضہ لے لیں۔ آپ کو ضرورت ہے، آپ ان کے پیچھے بھاگے پھرتے تھے، آپ کے وزیراعظم تک نے ان سے ملاقاتیں کیں۔ اب جس کا پیسہ ہے وہ شرائط تو اپنی مرضی کی طے کرے گا۔ ایک انگریزی محاورے کے مطابق بھکاری اپنی مرضی سے انتخاب نہیں کر سکتا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی بڑا دلچسپ ہے۔ آئی ایم ایف پیکج ممالک کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کے لئے بنایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ قرض لینے میں کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ کاروباری سرگرمیاں جاری ہوں اور آمدنی کے نئے ذرائع تخلیق کیے جائیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ مقروض ملک امریکہ ہے۔ تو قرض لینے میں قباحت کوئی نہیں، اگر اس سے آپ آمدنی کے ذرائع بڑھا سکیں۔ اب آئی ایم ایف آپ کو کہے کہ آپ اپنے خسارے کم کریں، اپنی آمدنی میں اضافہ کریں، پی آئی اے، سٹیل ملز اور ریلوے جیسے خسارے والے ادارے بیچ دیں اور معاشی بحالی کے طریقے بتائے تو آپ کو اغیار کی سازش کی بو آتی ہے۔

بندہ پوچھے اتنے قابل تھے تو چلا لیتے یہ ادارے، بحال کر لیتے اپنی معیشت، جب نہیں کر سکے اسی لئے معاشی ڈاکٹرز کو ایمرجنسی میں بلایا ہے۔ اب ان کے مشوروں پر عمل بھی کریں۔ یاد آیا کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز پاکستان سٹیل ملز کو 2006 میں پراؤیٹائز کرنے چلے تھے، اسٹیل مل کے نصف سے کم شئیرز 22 ارب روپے میں فروخت کیے جارہے تھے۔ یہی وہ موقع تھا جس سے نرگسیت کے شکار چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنی دکان چمکانی شروع کی۔ گزشتہ تیرہ سالوں میں قریب چار کھرب روپے اسٹیل مل پر حکومت خرچ کر چکی ہے، لیکن ادارہ جوں کا توں ہے۔

گزارش ہے کہ قرض کی مے ضرور پئیں، کہ وقت کی ضرورت ہے، لیکن یہ نااہلی کی فاقہ مستی رنگ نہیں لائے گی۔ اس کے لئے اہلیت کا سرور ضروری ہے۔ آمدنی میں اضافہ جب تک نہیں ہو گا، قرض لیتے رہیں گے، اسے اتارنے کے لئے ایک اور قرض لیں گے، اور اس کے سود کے لئے ایک اور قرض۔ سو جام ضرور اٹھائیں، لیکن کشکول توڑنے کا بھی کوئی بندوبست ضروری ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •