شہباز شریف کا شکایت سیل، حمیرا ارشد اور دو ہمدرد افسر
”حمیرا ارشد کو اپنے کمرے میں طلب کرنے والے افسر کی نئی واردات“… ایک تاریخی واقعہ پر "ہم سب” میں خاور نعیم ہاشمی کی یہ تحریر پڑھی تو دلگداز یادوں کے دیے سلگ اٹھے۔ ہم نئی نسل کوقومی تاریخ کے ایک نادر واقعے سے تفصیلاً روشناس کرانے کی غرض سے خاورنعیم ہاشمی کی بات کو بڑھاوا دینے کی سعی کرتے ہیں۔ دلوں کے تارچھیڑنے والے اس واقعے پر 2009ء میں ہم نے وصی شاہ سے معذرت کے ساتھ ایک کالم لکھا تھا، جس کا عنوان تھا ”کاش میں ترے شکایت سیل کا ڈائریکٹر ہوتا“ملاحظہ فرمایئے:
”گلوکارہ حمیرا ارشد اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت لے کر وزیراعلیٰ پنجاب کے شکایات سیل میں جا پہنچی ۔ اس ’نازک موقع‘ پر شکایات سیل کے ڈائریکٹرز کا جذبہ خدمت خلق بے لگام ہو گیا اور خوبرو گلوکارہ کا کیس سننے کے شوق میں دو ڈائریکٹر صاحبان شاہد قادر اور عرفان یوسف آپس میں لڑ پڑے۔ اس دوران دونوں میں شدید تلخ کلامی ہوئی اور وہ ایک دوسرے سے حمیرا کی فائل چھینتے رہے۔ وزیراعلیٰ نے دونوں ڈائریکٹرز کو معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
قبل ازیں ہم اخبارات میں شائع ہونے والی فلمسٹار میرا کی وہ تصویر بھی دیکھ چکے ہیں، جس میں وہ عتیق الرحمن کے خلاف اپنی درخواست پکڑے وزیراعلیٰ شکایات سیل کے ڈائریکٹر کے سامنے سائل کی طرح کھڑی ہے۔ اخبارات ایسی ’ہیجان انگیز‘ خبریں اور تصاویر شائع کرتے ہیں تو ملک کے طول و عرض میں بہت سے دلوں میں موجزن جذبہ خدمت خلق آپے سے باہر ہونے لگتا ہے۔ خود ہم میاں شہباز شریف کی متحرک شخصیت اور ولولہ انگیز قیادت کے مداح ہیں، سو ان کے شکایات سیل سے متعلق ایسی رنگین خبریں پڑھ کر دل کے کسی گوشے میں یہ خواہش انگڑائی لیتی ہے کہ
کاش میں ترے شکایات سیل کا ڈائریکٹر ہوتا
’وہ‘ جو بڑے پیار سے، چاﺅ سے، بڑے مان کے ساتھ
اپنے نازک سے ہاتھوں سے عرضیاں دیتے
نظروں کے جام چڑھاتیں مجھ کو
بے تابی سے وصل کے بہار لمحوں میں
میں ان ہاتھوں کی خوشبو سے مہک سا جاتا
اور ان انگلیوں کے لمس سے دہک سا جاتا
میں ان نازنینوں سے کئی ’باتیں‘ کہتا
مجھ کو بے تاب سا رکھتا ترے سیل کا نشہ
میں بڑھ بڑھ کے ’فائلیں ‘ چھینا کرتا
اور ترے سیل کے آنگن میں اچھلتا رہتا
کچھ نہیں تو یہ بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں ترے شکایات سیل کا ڈائریکٹر ہوتا “


