میں عورتوں سے دوستی کیوں کرتا ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طبیبِ من!

آداب! آپ کا ہدیہ خلوص ”درویشوں کا ڈیرہ“ موصول ہوا۔ ہمارے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ ”کتاب، کسی شعور کی برتی ہوئی مصفا اطلاع ہے۔ “ میں ممنون ہوں کہ آپ نے اپنے شعور کے اس سفر کی کیفیات اور مناظر کو میرے سنگ بانٹنا پسند فرمایا اور مجھ ناچیز کو اس کتاب کے حوالے سے اظہار رائے کی دعوت دی۔ میرے نزدیک خاموشی عبادت ہے تو اظہار مکرم ہے، سچ کہئے تو اظہار پر کائنات کی نیو رکھی گئی ہے، یہ مناظر اور مظاہر اپنے خالق کے اظہار پر گواہ ہیں اور ان کی خامشی بندگی و ریاضت کی ایک شکل ہے۔

واپس کتاب کی طرف لوٹتے ہیں، یہ کتاب ہے یا ایک طلسم کدہ، خیال کی ایک بارہ دری ہے جو اپنے ہی جیسی کئی اور بارہ دریوں سے متصل ہے، اظہار کی انگلی تھامے آپ اور رابعہ الربا جب ایک در سے دوجے در میں داخل ہوتے ہیں تو ایک نئی کہانی داستان کے پردے پر جنم لیتی ہے۔ میرا بھائی اظہر وقار کہتا ہے کہ گفتگو، شعور کا باہمی تبادلہ ہے، دورانِ گفتگو ہم اپنے ساتھی سے اپنے شعور کے کچھ حصے بانٹتے ہیں اور واپسی میں اس کے شعور کے کچھ حصے ہماری جھولی میں آ جاتے ہیں۔

اس کتاب میں لکھے گئے خطوط کے ذریعے آپ نے محض شعور و آگہی کا باہمی تبادلہ ہی نہیں کیا بلکہ آپ دونوں اکدوجے کی مدد سے اپنے اپنے لا شعور کی سرحدوں تک چلتے چلے گئے۔ یہ تخلیقی سرور و انبساط کے کیف اور کیفیت میں لکھا کلام ہے جو اپنے ایک ایک حرف سے قاری کے دل و دماغ پر سحر پھونکتا ہے۔ کتاب میں موجود تمام خطوط پر ایک ہی نشست میں سب کچھ کہہ دینا تو میرے لئے ممکن نہ ہو گا البتہ ایک واقعے نے مجھے بری طرح جکڑ لیا کہ جب الربا کے بابا دوجے ملک بسلسلہ روزگار تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کس بری طرح سے اپنے بابا کو مِس کرتی ہیں اور یہ ذہنی کرب ان پر فزیکلی بھی برے اثرات مرتب کرتا ہے، الربا کے اس کرب کو میں بہت خوبی سے ریلیٹ کر پاتی ہوں کہ اپنے والدین کی سپریشن کے سبب مجھے بھی اپنے بابا سے ملاقات کے لئے ترسنا پڑتا تھا اور اس دوری نے مجھے ایک حساس اور دردمند انسان بنا دیا۔

شاید یہ زندگی ہم سے صبر اور جہد کی متقاضی ہے اور ہم اس کے معین کردہ دائروں میں طوافِ بندگی پر مامور۔ الربا اپنی تحاریر کے آئینے میں ایک بہادر خاتون دکھائی دیتی ہیں جبکہ ان کے بر عکس بانو خود کو ایک مہین اور قدرے ڈری ہوئی عورت کے روپ میں نظر آتی ہے، الربا نے تنہائی اور خاموشی سے دوستی کر رکھی ہے تو بانو اکلاپے و سناٹے سے گھبراتی ہے، الربا دوستی کے پاوُنڈ کیک پر اکتفا کرتی ہے تو بانو رومان کی آئسنگ کی شوقین ہے، الربا اپنے بھائیوں کی لاڈلی ہے تو بانو اپنے چار سوتیلے بھائیوں کا پیار پا کر بھی عمر بھر ان سے دوری کا درد جھیلتی رہی۔

الربا روایتی مرد کے متشدد رویوں پر دلگیر ہے تو بانو ایک روایتی مرد ابریشم کی آغوش میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے، الربا حقیقت کی دنیا میں رہنے والی ایک پریکٹیکل اور مضبوط عورت ہے جبکہ بانو ایک روایتی عورت ہے، وہ مشرقی عورت کا استعارہ ہے جو مکمل مرد اور بھر پور دسترس کی خواہاں ہوا کرتی ہے، وہ اختیار مانگتی ہے، وہ تمنا دہکاتی ہے اور نصیبے سے بے نیاز اپنے خواب سے جڑی رہتی ہے جہاں ایک یکسو اور یک جہت ساتھی اس کا ہم سفر ہے۔

وہ خوابوں کی دنیا میں رہتی ہے اور اپنی سوچ کے چاک پر اپنا من پسند محب تراشتی ہے، اس کی مٹی جذبوں سے گوندھتی ہے اور اس میں احساس کی روح پھونکتی ہے، وہ تصوف، فلسفے اور نفسیات سے رچی گفتگو کرتا ہے اور بانو کے لیے نغمے بُنتا ہے، وہ بانو کو ملکہ بناتا ہے اور خود ایک غلام بن جاتا ہے، وہ محبت کا ایک عظیم طلسمی محل تعمیر کرتا ہے اور در و دیوار میں فسوں پھونک دیتا ہے، وہ خرمن ہستی پر کبھی رم جھم سا برستا ہے تو کبھی موسلا دھار بارش کی شکل دھار لیتا ہے، وہ اپنی محبت سے کچھ ایسی طلسمی گانٹھیں گانٹھتا ہے کہ اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

بانو اس کے سنگ جنگلوں تک جانا چاہتی ہے، عین اس جگہ کہ جہاں پہاڑی کی کوکھ سے ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور ندی کی شکل میں جنگل کے کناروں پر بہتا ہے، بس وہیں جنگلی پھولوں نے ماحول معطر کر رکھا ہے، وہاں املتاس کے درختوں کے تنوں میں گلہریاں چھپی ہیں اور ڈالیوں پر کوئلیں نغمے گنگنا رہی ہیں۔ بس وہیں وہ بانو کے لیے اپنے ہاتھ سے لکڑی کی کٹیا بناتا ہے، درختوں کی چھال سے ایک تخت نما جھولا بناتا ہے اور جھولے اور کٹیا کو جنگلی پھولوں سے سجا دیتا ہے، وہ بانو کی پوشاک پر چنبیلی ترپ دیتا ہے، اسے چندن کا گلال ملتا ہے اور عرقِ گلاب چھڑکتا ہے۔ وہ آبخورے میں انار کا رس، ایک کٹوری میں جنگلی بیریاں اور رکابی میں ہرن کا بھنا ہوا پارچہ لاتا ہے اور اپنے ہاتھ سے بانو کی سیوا کرتا ہے کہ وہ سیوک ہے، محب ہے، پریمی ہے اور عاشقِ صادق ہے۔

طبِیبِ مہرباں!

آپ کی ترغیب پر، آج بانو نے آپ ہی کی بخشی ہوئی ہمت کو بروئے کار لاتے ہوئے بانو کی ڈائری سے ایک صفحہ آپ کے حوالے کیا، قبول فرمائیے۔

سپاس گزار

بانو

18 مئی 2019

بانو بی

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 258 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail