جنسی زیادتی اور لڑکیوں کی بے بسی کا تماشا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل کلاس میں ایک موضوع زیر بحث لایا گیا جس میں ایک موصوفہ کہہ رہی تھیں کہ زیادتی کے واقعات میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی قصور ہوتا ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنسی زیادتی کے واقعے میں قصوروار کون؟

میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو کہ جس میں وہ لڑکی جس کے ساتھ دست درازی کی گئی ہے، وہ خود بھی قصوروار ہو، تو ایسے واقعے کو زیادتی قرار دینا واقعی زیادتی ہے۔

کیونکہ اگر کوئی لڑکی خود ہی اپنی عزت پامال کرنا چاہے گی تو کسی دوسرے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

لیکن جب کسی پاکباز لڑکی کے ساتھ زیادتی کی جائے، تو اس واقعے میں لڑکی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ نہ ہی اس کے گھر والوں سے ناز پرس کی جانی چاہیے۔

اگر کسی لڑکی کا باپ زندہ نہیں، اور وہ اپنے گھر کی واحد کفیل ہے، تو اس کی ماں بھلا کیسے اس کو گھر میں بند رکھ سکتی ہے۔

قصور میں جو لا تعداد بچوں کے ساتھ زیادتی کی گئی، اس دل دہلا دینے والے واقعے میں بھی یقیناً ان معصوموں کو کوئی دوش نہیں دیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ اگر کہیں کوئی وحشی درندہ آ بسے، تو عقل مندی اس میں نہیں کہ گھروں میں خود کو بند کر کے، اس عفریت کو بے شتر و مہار گھومنے دیا جائے۔ بلکہ صحیح فیصلہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس درندے کو اس کی تمام تر سفاکی سمیت زندہ درگور کر دیا جائے۔ اگر وہ آزادی سے گھومتا رہے گا تو اس جیسے دیگر درندوں کو بھی شہہ ملے گی۔ جنکہ اگر وہ ایک ہولناک انجام کو پہنچایا جائے گا تو باقی درندے بھی دبک جائیں گے۔

اگر کسی کا خیال ہے کہ ریپ کے واقعے میں مرد کے ساتھ ساتھ عورت کا بھی قصوروار ہونا ضروری ہے تو میں ان واقعات کی طرف اشارہ کروں گی جن میں ہوس کے ہاتھوں بے قابو ہوتے ہوئے مردوں کو اگر عورت دستیاب نہ ہو تو وہ لاشوں کی بے حرمتی کر کے لطف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا اس میں بھی اس مری ہوئی عورت کا قصور ہے کہ مرنے کے کچھ عرصہ بعد تک اس کا وجود مٹی میں موجود کیوں رہا، اپنی حفاظت کرتے ہوئے ہوا میں تحلیل کیوں نہ ہو گیا؟

تحریر میں یہ بھی لکھا تھا کہ ایک ہاتھ سے صرف دستک دی جاتی ہے، تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ تو اس پر میرا جواب یہ ہے کہ اگر تالی بجے تو اس کی شکایت نہیں کی جاتی۔ شکایت کی ہی اس وقت جاتی ہے جب اس امر میں لڑکی کی اپنی مرضی شامل نہ ہو۔

یعنی ”ایک ہاتھ کی دستک سے دروازہ نہ کھلے تب ہی اس دروازے کو زور زبردستی سے توڑا جاتا ہے“۔

ہر معاشرے میں ایسی بھی لڑکیاں ہوتی ہیں جو حرام راستوں پہ چلتی ہیں، وہ اپنی مرضی سے لوگوں کے ساتھ غیر مناسب تعلقات استوار کرتی ہیں اور خود ان کو ہر حد پار کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ تالی واقعی دونوں ہاتھوں سے بجائی جاتی ہے اور تالی بجنا اس کو کہیں گے جب دونوں فریقین کی مرضی شامل ہو۔ وہ گمراہ لڑکیاں جو ہر طرح کا غلط کام اپنی مرضی سے کریں، ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کو کبھی بھی زیادتی کا نام نہیں دیا جاتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •