پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انجینرنگ کی پڑھائی مکمل کی تھی اور مزید پڑھنے کا شوق تھا۔ ہر ایک سے مشورہ کر رہا تھا کہ مزید کیا پڑھائی کی جائے۔ ان دنوں انجینئرنگ کے بعد ایم بی اے کرنے کا رجحان تھا، سو ہمیں بھی یہی خیال ہوا کہ ایم بی اے کیا جائے۔ ملک میں آئی بی اے کا بڑا نام تھا، سو ہم کراچی کو عازم سفر ہوئے۔ نوکری بھی کراچی میں کرلی اور شام کو آئی بی اے میں داخلہ لے کر پڑھائی بھی شروع کر دی۔

کراچی ہمارے لیے فرق تھا۔ عمارتیں وہ اونچی کہ دیکھیں تو ٹوپی گر جائے، اور غریب پرور شہر یوں پھیلا تھا کہ سوچ اور نگاہ دونوں تھک کر راہ میں بیٹھ جائیں۔ شہر تو شہر تھا لوگ بھی لاہور سے فرق تھے، خوراک میں ہی تیزی نہ تھی، افراد کے انداز میں بھی تیزی تھی۔ لوگ کام کے معاملے میں بڑے پروفیشنل تھے، لاہوری لا ابالی پن نہ تھا۔ کراچی کی سڑکوں پر آواز لگاتی بسوں کا شور تھا، صدر، کیماڑی، بندر روڈ کی آوازیں لگاتے کنڈ کٹر اور رنگین نقش و نگار سے مزین بسیں۔ ان بسوں پر بہت سفر کیا۔ شام کو آئی بی اے کے صدر کیمپس کے لیے انہیں بسوں پر جاتا۔ چار پیسے پاس ہوتے تو رکشہ بھی کر لیتا، بعد میں ایک موٹر سائیکل خرید لی تو کراچی کے ہجومِ موٹر سائیکلاں کا ایک فرد ہوگئے۔

بسیں ہی نہیں شہر بھی رنگا رنگ تھا۔ بوڑھے راوی کے برعکس ایک بے کراں سمندر تھا۔ ہر رنگ، نسل کے باسی نظر آتے تھے۔ لاہور کے رہنے والے کے لیے کراچی بڑا اچنبھے کا شہر تھا۔ بوہری دکاندار، اینگلو انڈین لڑکیاں، اخروٹ بیچتے پٹھان، بنگالی مٹھائیاں، بنس روڈ کے گولا کباب، صدر کی سٹوڈنٹ بریانی، سڑک پر ہونڈا ففٹی موٹر سائیکلیں، جگہ جگہ پان کی پیک پھینکتے افراد، گجراتی بولتے کاروباری، چنیوٹی سیٹھ، سندھی نوکری پیشہ، ایرانی سفید رنگ، لیاری کے حبشی النسل پھرتیلے، سفید کرتا پاجامے میں تہذیبی بزرگ اور آئی بی اے میں ساتھ پڑھتی پراعتماد لڑکیاں۔ لاہوری لا ابالی پن کہیں نہ تھا۔ کراچی بڑا ہی رنگا رنگ تھا۔

مگر یہ دور اور شہر دونوں خون کی لالی سے بھی رنگدار ہو رہے تھے۔ دیواروں پر نعرے لکھے تھے، موت کی حقداری کے۔ آدمی آدمی سے ڈرتا تھا، پڑوسی پڑوسی سے خوف زدہ تھا۔ بات کرنے سے لوگ گریزاں تھے، ڈر فضا میں یوں رچا تھا کہ سانس لو تو جسم میں اتر آتا تھا۔

ارشد حسین ہمارا دوست تھا۔ فضائیہ میں ایرمین تھا، مردان کے علاقے کاٹلنگ کا رہنے والا۔ اپنے علاقے کے زیادہ تر لوگوں کی مانند داڑھی رکھے تھا، لمبا تڑنگا، سادہ مزاج، لطیفہ سناؤ تو کچھ دیر بعد ہنسے۔ جب بھی چھٹی سے واپس آتا تو ہمارے لیے مردان کے بدایونی پیڑے لاتا۔ بھورے رنگ کے پیڑے، تختی کی گول گاچنی کی شکل کے مانند جن کے اوپر سفید کھوپرے کا سفوف ہوتا اور ذائقہ تمام مٹھائیوں سے فرق۔ ہجرت بدائیوں سے کیا دستکاروں کو مردان لے آئی کہ شہر آج اُن سے جانا جاتا ہے۔ ہمیشہ کہتا کبھی کاٹلنگ آو تو تمہیں چپلی کباب کھلاوں گا، لوگ دور دور سے آتے ہیں اور باقی علاقوں کے کباب بھول جاتے ہیں۔ بدایونی پیڑے کھاتے میں اسے کالج کے زمانے کے ایک پٹھان دوست سے یاد کیا ہوا پشتو گیت کا بند پیش کرتا۔

لاڑشا پیخاور تا قمیص تور مالا راوڑا
تازہ تازہ گلونہ درے سلور مالا راوڑا

” پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا اور تازہ مہکتے تین چار پھول بھی لے کر آنا“۔ کچھ باموقع یا بے موقع ہونے کے سبب، کچھ شعروں کی نوعیت، کچھ ہماری پشتو کا تلفظ سب مل کر اُسے ہنسا دیتے۔

وہ ایک سوموار کا دن تھا کہ شام کو پتا لگا کہ ارشد اور اُسکے ایک ساتھی کا پتہ نہیں لگ رہا۔ دونوں اتوار کی دوپہر فلم دیکھنے سینما گئے تھے اور پھر واپس نہیں آئے۔ اگلے دن خبر آئی کہ سینما میں انہوں نے ٹکٹ خریدتے اپنے فوجی کارڈ دکھائے تھے اور فلم کے بعد دونوں اغوا ہوگئے۔ تیسرے دن دونوں کی بوری بند لاشیں مل گئیں۔ تشدد کے نشان جابجا تھے اور جسم ڈرل مشینوں سے چھیدا گیا تھا۔ دکھ ہم سب کی رگوں میں سرایت کرگیا اور پانی آنکھ میں اتر آیا۔ کراچی شہر کے رنگوں میں وہ سادہ لوح پٹھان خون رنگ بھر گیا تھا۔

مسافر نے سوچا کہ کاٹلنگ کے چپل کباب کھانے کے لیے وہ ویسے ہی آجاتا، یہ سفر کا سبب بنانا تودرست نہ تھا۔ اُس بھیگی شام قبرستان کی ایک کچی قبر کے سرہانے سیاہ ماتمی قمیص پہنے، تازہ پھولوں کی پتیاں بکھیرتے ایک مسافر بے موقع پشتو گیت کا بند پڑھ رہا تھا، ”لاڑشا پیخاور تا قمیص تور مالا راوڑا، تازہ تازہ گلونہ درے سلور مالا راوڑا“، ”پشاور جاؤ تو تم میرے لیے سیاہ قمیص لے کر آنا اور تازہ مہکتے تین چار پھول بھی لے کر آنا“۔
کیا خبر وہ ہنس ہی پڑا ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 40 posts and counting.See all posts by atif-mansoor