ایک تیل سے کمزوری اور ٹیڑھے پن کا علاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے لوگ چونک گئے ہوں گے۔ ادھیڑ عمری کی سرحد پار کر کے بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے مردان کار، جو ابھی بھی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ جوانان رعنا جو نشاط انگیز لمحات کی طوالت کے خواہاں ہیں، اور شادی کے دنگل کے لئے اکھاڑے میں اترنے کے لئے تیار نوجوان، جو انجانے خدشات کا شکار ہیں۔ سب کے لئے اس طرح کے تیل کے حصول میں دلچسپی ایک قدرتی امر ہے۔ اس کرشماتی تیل کا نسخہ خاص حاصل کرنے کے لئے آپ سب کو کو یہ سطور آخر تک پڑھنے کا کشٹ اٹھانا پڑے گا، لیکن مجھے یقین ہے، کوئی بھی یہ مضمون خاص ادھورا چھوڑنا گوارا نہی کرے گا۔

کیونکہ اس ملک میں کچھ لوگوں کے لئے یہ روزی روٹی، امن وامان، کرپشن اور مہنگائی سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ اس ملک میں طرح طرح کے تیلوں کی بہت مانگ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں اتنی گاڑیاں پٹرول اور ڈیزل پر نہیں چلتیں، جتنے انجن یہاں سانڈے کے تیل پر چل رہے ہیں۔ اس طرح کے پرانے انجن ٹھیک کرنے والے میکینک یعنی دیسی حکیموں کا کاروبار بھی خوب پھل پھول رہا ہے۔ اس طرح کے حکیموں کے پاس خاندانی نسخے موجود ہوتے ہیں جو کہ ان کے دادا، پردادا اور لگڑ دادا کے وقتوں کہ ہوتے ہیں، جو کہ وہ بزرگ ہمالیہ کی ترائیوں سے کسی جوگی بابا سے کسی طرح اینٹھ لائے تھے۔

لیکن تھوڑی دیر کے لئے اس تیل کی بوتل کو ایک طرف رکھتے ہیں، اور اس تیل کا تذکرہ کر لیتے ہیں جو کراچی کے ساحل کے قریب سمندر سے برآمد ہونے والا تھا۔ جس کی خوشخبری جناب وزیراعظم نے دو مہینے پہلے ہی قوم کو سنا دی تھی۔ اس سے کئی سال پہلے چنیوٹ کے قریب سے نکلنے والے لوہے اور سونے کے ذخائر ہی قوم سے ابھی پوری طرح سنبھالے نہی جا رہے تھے کہ ایشیا کے سب سے بڑے تیل و گیس کے ذخائر ہمارے دروازے پر دستک دینے لگے۔

ہم نے تو ویگو یا پراڈو خریدنے کا پروگرام بھی بنا لیا تھا، اور ایک عدد توپ (عربی چغہ) بھی سلوانے کے لئے دے دی تھی۔ اور تو اور اس بار عرب کے ریگزاروں میں ہرن اور تلور کے شکار کا پروگرام بھی فائنل تھا، کہ آج یہ منحوس خبر میڈیا پر چل گئی کہ تیل تلاش کرنے والی غیر ملکی کمپنی نے حکومت کو ٹھینگا دکھا دیا ہے کہ، چودہ ارب روپے ڈرلنگ پر پھونکنے کے باوجود وہاں سے اتنا تیل بھی برآمد نہیں ہوا جنتا کہ سانڈے کا تیل بیچنے والوں کی بوتل میں ہوتا ہے۔

یعنی وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کر دی گئی ہے کہ ”ان تلوں میں تیل نہیں“۔ حالانکہ سیانے تو پہلے ہی وزیراعظم کو مشورہ دیتے رہے تھے کہ ”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو“ مگر وہ پھر بھی اس تیل پر پھسل گئے۔ ہم بھی اس بہکاوے میں آ کر سب کچھ چپ چاپ دیکھتے رہے، ڈالر کو پر لگ گئے ہیں تو کیا ہوا؟ تیل نکلنے کی دیر ہے، روپے کے آگے منہہ کے بل گرے گا، بلکہ روپے کے تلوے چاٹے گا۔ سٹاک مارکیٹ گر رہی ہے تو کیا ہوا؟ یہی سرمایہ کار کراچی سٹاک مارکیٹ کے باہر اپنا دھن اٹھا کر قطار میں لگے ہوں گے۔باہر کے لوگ پاکستانی سفارت خانوں کے باہر ویزے کے لئے خوشامدیں کر رہے ہوں گے۔ اور ٹرمپ اور مودی وغیرہ خالی کین لئے خان صاحب کے گھٹنے پکڑ رہے ہوں گے۔

دو مہینے تک راجہ بھوج بنے رہنے کے بعد اچانگ گنگو تیلی بننا پڑ رہا ہے۔ جب سے تیل کی آس لگی تھی روزانہ مالشیے سے سر پر سرسوں کے تیل سے مالش کروا رہے تھے کہ، سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ خان صاحب نے کٹوں، مرغیوں اور انڈوں کے بعد تیل نکلنے کی نوید سنا کر سب دلدر دور ہونے کی تمنا دلوائی تھی، وہ سب خاک ہوئی۔ لگتا ہے اب تیل صرف لوگوں کا نکالا جائے گا۔ اور کولہو میں عوام ہی پستے رہیں گے۔ اب چونکہ تیل تو ملا نہیں اور پہلے والا پیسہ ٹکہ سب چور کھا پی گئے، تو ایسے میں اب بھلا کیا ہو سکتا ہے؟ یعنی نہ نو من تیل ہو نہ رادھا ناچے گی۔

چلیے آپ سب کو اصل موضوع سے دور لے آنے پر معذرت۔ نسخہ خاص بتانے سے پہلے اپنے لڑکپن کا ایک قصہ سناتے ہیں۔ اس دور میں جب جمعہ پڑھنے مسجد میں جاتے تھے، تو مولوی صاحب اکثر یہ وعظ فرماتے کہ نفس انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس کی مثال ایک سرکش گھوڑے کی سی ہے۔ جس نے نفس پر قابو پا لیا وہ کامیاب ہو گیا۔ نفس کو کمزور کرنا چاہیے، اسے مارنے میں ہی انسان کی کامیابی ہے۔ جب مسجد سے نکلتے تو سامنے ہی دیوار پر لکھا ہوا اشتہار نظر آتا ”نفس کو موٹا اور لمبا کریں“ نیچے نسخہ خاص، تیل اور طلاء کے حصول کے لئے فلاں یونانی دواخانہ اور فلاں طبیب سے رابطہ کریں ”لکھا ہوا ہوتا تھا۔ ہم اکثر سر پکڑ کر بیٹھے رہتے کہ مولوی صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں یا دواخانے والے۔ اور پھر اکثر پہلی صف میں مولوی صاحب کا وعظ سننے والے ادھیڑ عمر رنگے ہوئے بالوں والے بابے مسجد سے نکل کر دواخانے سے ہوتے ہوئے گھر جاتے نظر آتے، تو ہم دوبارہ سر پکڑ لیتے۔

تو نسخہ خاص کے متلاشیو، اب سر پکڑنے کی باری آپ کی ہے۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے وزیراعظم کے پاس معیشت کی کمزوری اور ٹیڑھا پن دور کرنے کی آس یہی کراچی کے ساحل کے قریب سے نہ نکل سکنے والا تیل تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے علم میں کوئی ایسا ویسا تیل نہیں، جو کسی اور طرح کی کمزوری اور ٹیڑھے پن کو دور کر سکے۔ اور لگتا ہے نہ وزیراعظم کے پاس کوئی اور نسخہ ہے جو کہ معیشت کو ٹھیک کر سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •