مقامی لوگوں کی کانفرنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا شمالی پہاڑی خطہ انسانی گروہوں، ثقافتوں اور زبانوں کے تنوع کے لیے دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں چھوٹی بڑی بیسیوں گروہ صدیوں سے قیام پذیر ہیں اور اپنا تشخص قائم رکھے ہوئے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات، بہتر ہوتے ذرائع مواصلات اور نقل مکانی کے سبب ان میں سے بیشتر گروہوں کو اپنی شناخت کے سلسلے میں شدید خطرات کا سامنا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں ان گروہوں کے نمائیندوں کی ایک کانفرنس سوات کے قصبے بحرین میں منعقد ہوئی۔

اس کا اہتمام اس علاقے کے ایک مقامی ادارے ”ادارہ برائے تعلیم و ترقی (IBT) “ نے آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے تعاون سے کیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں آسٹریلیا کے مقامی لوگوں (Aboriginals) پر تحقیق کی ڈائرکٹر پروفیسر جیکی ٹرائے کانفرانس میں شریک ہوئیں۔ پروفسر ٹرائے خود بھی قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ ان کے ساتھ شمالی علاقوں سے تعلق رکھنے والے محقق عزیز علی داد نے بھی کلیدی مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس میں کوئی بیس کمیونیٹیز کے نمائیندے شریک تھے جنہوں نے اپنے اپنے مخصوص حالات اور مسائل پر اظہار خیال کیا۔

کانفرنس کے دوران تبادلہ خیالات کے نتیجے میں کئی امور پر اتفاق رائے سامنے آیا۔ اس سلسلے میں کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے میں مقامی لوگوں کو درپیش مسائل جیسے شناخت اور زبانوں کو درپیش خطرات اور ماحولیات وغیرہ پر آگاہی پیدا کرنے اور مل جل کر کام کرنے کا عہد کیا گیا۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ایک مستقل فورم کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کا نام MOUNTAIN COMMUNITIES COLLECTIVE ہوگا۔

کانفرنس کا اعلامیہ

اس کانفرنس کے اختتام پر تمام مقامی کے نمائندوں نے مندرجہ ذیل نکات پر اتفاق کیا:

· شرکاء IBT اور سڈنی یونیورسٹی آسٹریلیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کانفرنس کے انعقاد کے ذریعے مقامی کمیونیٹیز کے نمائیندوں کو آپس میں مل بیٹھنے اور مسائل پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔

· نمائیندے عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے مقامی لوگ اپنی مقامی کمیونیٹیز کو اقوام متحدہ کے تحت Indigenous Communities کا درجہ دلوانے کے لیے کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ قومی سطح پر قانون سازی اور پالیسی سازی کے ذریعے مقامی لوگوں کے مفادات کے تحفط کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جائیں گی۔

· مقامی لوگ اپنی زبانوں اور شناخت پر فخر کریں گے اور کسی قسم کی احساس کمتری کاشکار نہیں ہوں گے۔

· کمیونیٹیز آپس میں امن، برداشت، احترام اور تعاون کو فروع دیں گے۔

· پاکستان کی مقامی کمیونیٹیز قومی سرحدوں سے باہر رہنے والی اپنے ہم نسل لوگوں سے پر امن ثقافتی رابطوں کو فروغ دیں گے۔

· مقا می لوگوں کو اس قابل بنانے کی کوشش کریں گے کہ وہ مقامی وسائل کو اپنی اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے بہتر طور پر استعمال کرسکیں۔

· مقامی کمیونیٹیز کو اس قابل بنانے کی کوشش کریں گے کہ وہ کلچرل ٹورزم کے ذریعے اپنی شناخت کو اجاگر کرسکیں۔

· مقامی ثقافتوں، زبانوں اور تاریخ پر تحقیق کے لیے ایک معیاری ریسرچ جرنل کا اجراء کیا جائے گا۔ نیز ان مقاصد کے حصول کے لیے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کا موثر استعمال کیا جائے گا۔

· مقامات کے ناموں میں کی گئی تبدیلیوں کو ختم کرکے روایتی ناموں کی بحالی کے لیے کوشش کی جائے گی۔

· ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے ایک مستقل فورمMOUNTAIN COMUNITIES COLLECTIVE (MCC) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر ایک کور کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں تمام کمیونیٹیز کو نمائندگی حاصل ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ممتاز حسین کی دیگر تحریریں
ممتاز حسین کی دیگر تحریریں

ممتاز حسین

ممتاز حسین پاکستان کی علاقائی ثقافتوں اور زبانوں پر لکھتے ہیں ۔ پاکستان کے شمالی خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبانوں پر ایک ویب سائٹ کا اہتمام کیے ہوئے ہے جس کا نام makraka.com ہے۔

mumtaz-hussain has 2 posts and counting.See all posts by mumtaz-hussain