ایران پر امریکی حملہ: پاکستان کیا کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے امکانات کو مسترد کیا ہے لیکن مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تیاریوں سے یہ قیاس کیاجاسکتاہے کہ ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مرحلہ آن پہنچاہے۔ امریکہ اور ایران دونوں رفتہ رفتہ ایک بند گلی میں داخل ہوتے جارہے ہیں جہاں سے نکلنا محال ہے۔امریکی کانگریس اور میڈیا میں ایران پر حملے کے نتائج وعواقب زیر بحث ہیں۔

خطے میں عدم استحکام پھیلانے، شدت پسندوں کی حمایت کرنے اور عرب ممالک کے اندر خفیہ تنظیموں کے ذریعے دہشت گردی کے واقعات کی پشت پناہی کے الزامات کی بنیاد پر ایران کے خلاف مقدمہ کھڑا کیاجاچکاہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے عراق پروسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کا جھوٹا مقدمہ بنایا اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ گیاتھا۔گھنی مونچھوں والے جان بولٹن نے نیشنل سیکورٹی ایڈوئزر کا منصب سنبھالا تو امریکی میڈیا نے لکھنا شروع کردیا تھا کہ یہ شخص امریکہ کو ایک اور جنگ میں دھکیل سکتاہے۔ بولٹن ایران پر حملے کے پر جوش علمبردار ہیں۔ امریکی بحری بیڑا خلیج فارس کے لیے روانہ کرنے کی خبر انہوں نے فخر سے میڈیا کو دی۔

مائیک پمپیو جو امریکہ کے وزیرخارجہ ہیں‘ پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے اشتراک سے خفیہ ایجنسیوں کو گمراہ کیا اور عراق پر حملے کے لیے عالمی فضا سازگار بنائی۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہاتھی کے پاؤں میں سب کے پاؤں کے مصداق امریکہ نے ہی عالمی نظام کی مہار تھامی ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے عراق، لیبیااور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔

سابق سوویت یونین کی طاقت کی جاہ وحشمت کا سرے بازار جنازہ نکا لا اورالقاعدہ جسے اپنی طاقت اور صلاحیتوں پر بڑا نازتھا کا وجود مٹایا۔شام میں لاکھوں کو بے گھر کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں وہ ہی امریکہ اب ایران پر لشکرکشی کو بے تاب ہے۔120,000امریکی فوجی دستے خلیج فارس میں داخل ہونے کے حکم کے منتظر ہیں۔امریکی کہتے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی پروگرام پر کام دوبارہ شروع کیا یا مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کسی حلیف پر حملہ کیا تو ایران بچ نہیں پائے گا۔یہ ایک بے رحمانہ اعلان ہے۔

کون نہیں جانتاہے کہ مشرق وسطیٰ میں درجنوں مسلح گروہ سرگرم ہیں ان میں سے کوئی بھی امریکی اتحادیوں پر حملہ کرکے جنگ کا جواز فراہم کرسکتاہے۔جھوٹ اور سچ کی کون تصدیق کرے گا؟افسوس! مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی نہ صرف اس کھیل میں شریک ہیں بلکہ ایران کو نشانہ عبرت بنانے کے لیے امریکہ کے دست وبازو کا کردار ادا کررہے ہیں۔ یورپی اتحادیوں کو ساتھ ملانے کی امریکی کوششیں ابھی زیادہ کامیاب نہیں ہوئیں تاہم برطانیہ ہمیشہ کی طرح رفتہ رفتہ امریکہ عزائم کا شراکت دار بنتاجارہاہے۔

اگر ایران نے جنگ ٹالنے کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار نہ کی اور خلیج فارس میں جوابی جنگ کے شعلوں کو ہوا دی تو یورپی ممالک کو بھی امریکی بینڈ ویگن میں بیٹھنے زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ روس اور چین ابھی تک امریکی مہم جوئی کے راستے میں مزاحم ہیں لیکن ان کی بین الاقوامی اداروں خاص کر اقوام متحدہ اورعالمی مالیاتی نظام میں فیصلہ کن حیثیت نہیں۔ امریکہ یورپ کی مدد سے ان کے اثر ورسوخ کو آسانی سے غیر موثر کردیتاہے۔

ایران کو معاشی طور پر بھی دیوالیہ کرنے کا منصوبہ اب اپنا رنگ دیکھنا شروع ہوگیا ہے۔دنیا کی تاریخ کسی ملک کے ایسے ہمہ گیر معاشی مقاطعے کی مثال نہیں ملتی ۔عالم یہ ہے کہ ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کو بھی مسلسل دھمکا یاجاتاہے۔چنانچہ ایرانی معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے۔ ایرانی ریال کی قیمت تاریخ کی نچلی ترین سطح کو چھو رہی ہے۔ اعتدال پسند صدر حسن روحانی اور ان کے حامیوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔

وہ چاہتے ہیں کہ ایران یورپی ممالک کے ساتھ 2015ء کے معاہدے پر کاربند رہے تاکہ کم ازکم یہ ممالک جنگ ٹالنے میں کوئی کردار ادا کرسکیں۔ اس کے برعکس سخت گیر موقف رکھنے والی سیاستدان،سادہ لوح فوجی کمانڈراور قدامت پسندانہ رجحانات کا حامل میڈیا جنگ کی تباہی کاریوں کا ادراک کرنے کے بجائے جنگ کا ڈھول پیٹ رہاہے۔چنانچہ محض صدر حسن روحانی کا سیاسی اثر ورسوخ کم نہیں ہورہاہے بلکہ وہ تمام عناصر کمزور ہورہے ہیں جو مغرب کے ساتھ مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے علمبردار ہیں۔

فیصلہ سازی کے امور پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑھ رہی ہے۔ بدقسمتی سے ایرانی انقلاب کے مابعد خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکاررہے۔ ریاستوں کے تعلقات کو شیعہ سنی تنازع کی عینک سے دیکھاگیا۔دوسری جانب امریکہ کو یہ دکھ کھائے جاتا ہے کہ انقلابیوں نے اس کے پروردہ شاہ ایران کو عوامی طاقت سے ماربھاگا کر خطے میں طاقت کا روایتی توازن درہم برہم کیا۔ سفارت کاروں اور شہریوں کو یرغمال بناکر امریکہ کی جگ ہنسائی کا سامان کیا۔

امریکہ کے حلیفوں خاص طور پر اسرائیل کی بالادستی کو خطے میںمتزلزل کیا۔ بات اگر یہاں رک جاتی تو شاید ایران اس قدر ناپسندیدہ نہ ہوتا۔ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانون شکایت کرتے ہیں کہ ایران انہیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کرتاہے۔ سب سے زیادہ تکلیف اسرائیل کو ہے جو ایران کو صفحے ہستی سے مٹانے کے درپے ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جاری دھائیوں کی رقابت ایران دشمنی کی بدولت اشتراک میں بدل چکی ہے۔

امریکی مشرق وسطیٰ میںقائم موجودہ نظام میں کوئی خلل گوارہ نہیں کرتے۔اسرائیل اور عرب ممالک کی بادشاہتیں واشنگٹن کے خطے میں اسڑٹیجک مفادات کی محافظ ہیں۔ ایران کا موجودہ شکل میں وجود اسٹیٹس کو چیلنج کرتا اور امریکہ کی عالمی بالادستی کا منہ چڑاتاہے۔

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فرمایا کہ پاکستان امریکہ ایران جنگ میں غیر جانبدار رہے گا۔اس بیان سے پاکستان کی بے بسی کا اظہار ہوتاہے۔ کم ازکم وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس کشیدگی کو ختم کرانے کی کوشش کریں گے۔اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ بولنے سے پہلے تولو۔ شاہ محمود بولتے ہیں اور خوب بولتے ہیں۔ ان کی طویل گفتگو کا خمیازہ اکثرپاکستان کو بھگتنا پڑتاہے۔پاکستان کا جو بھی سفارتی یا سیاسی اثرورسوخ ہے وہ جنگ روکنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ آج ایران کی باری ہے تو کل ہدف کوئی اور ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 116 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood