انگریز، غاصبینِ پنجاب یا نجات دہندہ؟ فیصلہ آپ کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برادر عدنان خان کاکڑ نے گزشتہ دنوں اپنی ایک پوسٹ میں پنجاب میں انگریز کی آمد کو ایک بھولے ہوئے تناظر میں پیش کیا تھا، جس میں پنجاب کے وڈیروں پر لگنے والے الزام کو ایک مثبت تناظر میں برمحل پیش کیا گیا تھا۔ ان کے بقول انگریز مسلمانان پنجاب کے لیے نجات دہندہ بن کر آئے تھے اور مقامی وڈیروں اور عمائدین علاقہ کے پاس انگریز کی حمایت کرنے کی معقول وجہ تھی۔

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں اس سچ سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ بہت سارے ہمارے قومی بیانیوں کی طرح اس تاریخی حقیقت پر ہمارا رائج بیانیہ بھی حق پر مبنی نہیں۔ انگریز کو ہمیشہ صرف ولن کے روپ میں پیش کیا گیا۔ حالانکہ انگریز کا بنایا ہوا ریلوے، پوسٹ آفس، انہار، تعلیمی، صحت، پولیس، عدلیہ اور افواج پر مشتمل نظامِ حکومت، انفراسٹرکچر اور ان اداروں کی صورتحال انگریز سے قبل و بعد کے ادوار سے بہت بہتر تھی۔ بلکہ کافی سارے پیچیدہ اور مشکل ادارے تو گرانقدر رقومات صرف کر کے انگریز بہادر نے یہاں پہلی بار متعارف کرائے۔ انگریز کا انصاف ہمارے زرین ماضی کے مثل تھا۔ انہوں نے سیکھ لیا تھا کہ تھوڑی فرنگی افرادی قوت کے ساتھ ہندوستان میں رہنے کے لیے انصاف اور عدم تعصب انتہائی ضروری تھا۔

اگر انگریز نہ آتا تو کون سا ہم پہ کوئی مسلمان حکمران تخت نشین تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی بادشاہت یا حکومت صرف اس کے ذاتی محل کے اندر تک محدود تھی۔ کسی ادارے، کسں ریاست یا افسران بالا پر اس کی رٹ قائم نہیں تھی۔ انڈیا بیشمار حصوں میں بٹ چکا تھا، جہاں مختلف طالع آزما بزور طاقت حکمران بنے بیٹھے تھے۔ ہر طرف طوائف الملوکیت اور انارکی کا راج تھا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس سکہ بند قانون تھا۔

ایسے میں پنجاب میں سکھوں کی بدنام زمانہ سکھا شاہی کا دور دورہ تھا۔ مسلمان ان کے مظالم سے بلبلا رہے تھے۔ ان کی تمام مذہبی آزادیاں سلب کر لی گئی تھیں۔ تمام مرکزی مساجد کو تالے لگا دیے گئے یا وہ فوجی مقاصد کے لیے زیر استعمال تھیں۔ عیدگاہ مسجد میں گھوڑے باندھ دیے گئے جبکہ ایک حصے کو مہمان خانہ بنا دیا گیا۔ محراب کو موتنے کی جگہ بنا دیا گیا، مینار پر سے طلائی آرائش کو اتار لیا گیا۔ اذانوں اور جمعہ نمازوں پر مطلقاً پابندی تھی۔ خزانے میں جب کبھی تنخواہوں کے پیسے نہ ہوتے تو افواج کو کھلی چھٹی دی جاتی کہ دیہاتوں اور آبادیوں پر حملے کریں۔ سکھ لڑاکے لوٹ مار مچاتے، جہاں سے جو ملتا چھین لیتے، جہاں کچھ نہ ملتا خواتین کی عزتیں تاراج کی جاتیں۔ کچھ غریب اور کمزور دیہاتوں کی خواتین نے اس دور کے بچوں کو جنم دیا۔ کچھ با اثر خانوادوں کو اپنے گھرانوں، اپنی عزت و ناموس کی حفاظت اور علاقے کی بہتری کے لیے سکھ افواج میں ملازمتیں حاصل کرنا پڑیں۔

قصہ مختصر، پنجاب کی بلبلاتی عوام کسی نجات دہندہ کی انتظار میں تھی۔ نحیف مغل بادشاہ سے وابستہ امیدیں دم توڑ چکی تھیں۔ کوئی عرب، افغان، ترک یا ایرانی حکمران مسلمانانِ پنجاب کی مدد کو نہ آ سکا۔ اس حالت میں مختصر سی آٹھ ہزار فرنگی سیکیورٹی افواج نے جب ہندوستان بھر کے وڈیروں اور مقامی با اثر عمائدین کی مدد سے انڈیا کی وحدت اور ملک بھر میں امن کے نفاذ کا بیڑا اٹھایا تو یوں پنجاب میں بھی مقامی گدی نشینوں اور وڈیروں نے انگریز کی مدد سے ظالم و بربر سکھوں کو بیدخل کرنے کی جرات کی۔

انگریز چونکہ تاجر تھے، انہیں فقط مال بیچنے کی فکر تھی۔ برطانیہ کے کارخانے دن رات دھڑا دھڑ مال بنا رہے تھے، جسے کھپانے اور اچھی قیمت پر فروخت کرنے کے لیے انڈیا میں امن کی اشد ضرورت تھی۔ اگر بروقت امن کا نفاذ نہ ہوتا تو انگریز کو خدشہ تھا کہ کہیں کارخانے بند نہ ہو جائیں، جو دراصل برطانیہ کی ترقی کے لیے صحتمند خون کا درجہ رکھتے تھے۔ امن کے مسدود ہونے سے کارخانے بند ہوتے اور یوں برطانوی ترقی کا پہیہ رک جاتا جو کہ محب وطن برطانوی تاجر کمپنی کو منظور نہ تھا۔

دوسری طرف ہندوستان کی مقامی اشرافیہ نے ملکی وحدت، فعالیت اور ملک کو انارکی سے پاک کرنے کے لیے انگریز کی مدد کرنے کی ٹھانی۔ انگریز کی حمایت کرنے کی ان کے پاس معقول وجوہات تھیں۔ مسلمانوں اور دیگر اقوام کی آپسیں مناقشوں و سازشوں کی وجہ سے یقیناً انگریز سے وہ کچھ سرزد ہوا جس کے لیے ان پر بجا تنقید کی جا سکتی ہے۔

جب کسی قوم کے ایک ڈکٹیٹر کے سر پر سب ٹھیک کرنے کی دھن سوار ہو جائے تو اس کے اقدامات سے جہاں کچھ لوگ ناراض ہوں گے وہیں اس کے راست اقدامات سے مستفید بہت لوگ خوش بھی ہوں گے ۔ جہاں اس کے اقدامات سے غلط لوگوں پر کاری ضرب پڑے گی تو کہیں اسی ترنگ میں اچھے لوگ بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ مگر انگریز کا تو معاملہ ہی دوہرا تھا کہ وہ تو اپنے بھی نہیں تھے، انہیں ظالم ولن بنا دیا گیا اور ان کی حمایت کرنے والے تمام لوگوں کو غدار قرار دیا گیا۔ مگر غداری کس کی؟ کیا کبھی سوچا ہم نے؟

کم از کم پنجاب کے معاملے میں دوسری رائے نہیں کہ انگریز کی آمد مسلمانوں کے لیے باعثِ راحت تھی، لوگوں کو سُکھ کا سانس نصیب ہوا۔ انگریز کی طرف سے مسلمانانِ پنجاب کی دادرسی کو تاریخی و عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو عدنان خان کاکڑ کے بقول ”یہودیوں کے لئے واحد مقدس غیر یہودی شخصیت ایرانی شہنشاہ کوروش اعظم ہے جس نے انہیں بابل کی غلامی سے نجات دلوائی تھی“۔

اسی بارے میں: پنجابی جاگیرداروں کی 1857 میں انگریز کی حمایت کی ایک وجہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •