گریٹا تھونبرگ اور پاکستان کے طالب علم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سولہ سالہ سویڈش اسکول کی طالبعلم گریٹا تھونبرگ ایک ماحولیاتی کارکن ہیں جو سیاستدانوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نپٹنے کی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیتی ہیں۔ ان کی شہرت کی ابتدا اگست 2018 میں عالمی حدت کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لئے اسٹاک ہولم میں سویڈش پارلیمان (ریککگگ) کے باہروہ ہر جمعہ کو اکیلے اپنے مخصوص احتجاج سکولسٹریج فرکار کلیٹیٹیٹ (ماحولیات کے لیے سکول سے ہڑتال) کی شروعات سے ہوئے۔ ان کا مطالبہ بہت ہی چھوٹا مگر دور رس اور طاقتور تھا، وہ سویڈن کی حکومت کو پیرس معاہدہ پر مکمل عمل درآمد کروانا تھا۔

کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈکس، جس سے دنیا کے مختلف ممالک کے ماحولیاتی تحفظ کی مجموعی کارکردگی کی درجہ بندی 14 مختلف انڈیکیٹرس سے کی جاتی ہے۔ 2019 کی درجہ بندی میں سویڈن پہلے نمبر پر ہے۔ مگر گریٹا کو لگتا ہے کہ سویڈن ابھی بھی کلائمیٹ چینج کے بارے میں کم کام کر رہا ہے اور انہوں نے اپنی تحریک کو عالمی سطح پر لے جانے کا فیصلہ کیا۔

نومبر 2018 میں TEDx میں اپنی تقریر میں گریٹا تھونبرگ نے کہا کہ سب سے پہلے آٹھ سال کی عمر میں انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں سنا، لیکن یہ سمجھ نہیں سکی کہ اگر یہ اتنا اہم مسئلہ ہے تو اس کے بارے میں اتنی کم بات کیوں کی جاتی ہے۔ دسمبر 2018 میں انہوں نے اقوام متحدہ کے COP 24 کٹوتیس پولینڈ میں شرکت کی جس میں ان کا خطاب وائرل ہو گیا اور دنیا بھر میں کئی ملین مرتبہ دیکھا اور شئیر کیا گیا۔ جنوری 2019 میں انہیں ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں مدعو کیا گیا جہاں ان کے یہ الفاظ ”میں اکثر اکثر سنتی ہوں کہ بڑے کہتے ہیں کہ ’ہمیں اگلی نسل کو امید دینے کی ضرورت ہے‘ ۔ “ لیکن مجھے آپ کی امید نہیں چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ ہر روز گھبراہٹ کا شکار ہوں، میں چاہتی ہوں کہ آپ ہر روز ڈریں، اور آپ کام کریں جیسے کہ ہمارے گھر کو آگ لگی ہو، اور حقیقت میں بالکل ایسا ہی ہے ”نے دنیا بھر میں ایک بار پھر تہلکہ مچایا۔

15 مارچ 2019 کو، دنیا بھر میں 112 ممالک میں تقریبن 1۔ 4 ملین طالب علموں نے ”فرائیڈیس فور فیوچر“ یا ”جمعہ مستقبل کے لیے“ ہڑتال کی اور احتجاج میں شرکت کی۔ کرائیسٹ چرچ کے واقعات کے بعد دنیا کے طول عرض میں ہونے والی اسکول کے بچوں کی اس ہڑتال کو وہ توجہ نہ مل سکی جس کے وہ حقدار تھے۔

ماحولیاتی کارکن کے طور پر ان کا کردار دنیا بھر میں طالب علموں کے لیے ایک ماڈل کے طور پرمانا جاتا ہے۔ گریٹا نے پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی سے مطلق اپنی سرگرمیوں کے لئے مختلف انعامات اور ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ 13 مارچ 2019 کو، ناروے کی پارلیمان کے تین ارکان نے اس سال کے نوبل امن انعام کے لیے گریٹا تھونبرگ کو نامزد بھی کر دیا ہے۔ ایک سولہ سالہ اسکول کی طالب علم پرنس ولیم، برطانوی براڈکاسٹر اور قدرتی مؤرخ سر ڈیوڈ آٹینبرگ، دلائی لاما، ال گور اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس جیسی شخصیات کے سامنے اپنا مقدمہ پرزور انداز میں پیش کرنا اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے۔ اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ ابھی بھی سب کچھ کھویا نہیں ہے ہم سب مل کر ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے خطرات سے لڑ سکتے ہیں۔

پاکستانی طالب علموں میں ہر وہ صلاحیت ہے جو گریٹا تھنبرگ نے دکھائی ہے، علیزہ ایاز اس کی واضح مثال ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کالج لندن کی طالب علم علیزہ ایاز نے یو سی ایل میں کلائمیٹ ایکشن سوسائٹی قائم کی جو کسی بھی پاکستانی طالب علم کی جانب سے پہلے سوسائٹی ہے جو یو سی ایل کی سٹوڈنٹ یونین سے منسلک ہے۔ علیزہ ایاز کو ماحولیاتی تبدیلی کے مطلق خطرات پر ہاؤس آف کامنز میں ایک بحث کے لئے مدعو بھی کیا گیا تھا جہاں اس مسئلے کو حل کرنے پر تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا۔

مگر کیا پاکستان میں رہنے والے نوجوان اس قسم کی تحریک ہمارے ملک میں چلا سکتے ہیں؟ کیا کوئی گریٹا تھنبرگ یا علیزہ ایاز پاکستان کے اسکولوں اور جامعات میں ایسے اقدامات اٹھا سکتی ہیں؟ فرائیڈ یس فور فیوچر (ماحولیات کے لیے سکول سے ہڑتال) کے زیر اہتمام پاکستان میں 15 مارچ کو صرف اسلام آباد میں چند، لاہور اور ملتان میں ایک ایک اسکول نے ہڑتال میں شرکت کی۔ اس سے ظاھر ہوتا ہے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں اسکولوں اور جامعات میں ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے یہی بچے، قوم کا مستقبل، آگے چند سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کا سب سے زیادہ شکار ہوں گے۔ نوجوانوں کا یہ حق بنتا ہے کے وہ بڑوں سے پوچھیں وہ کیسی دنیا ان کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات ہمارے لیے اتنا ہی بڑے مسئلے ہیں جتنے معیشت، بیروزگاری، کرپشن، صحت، تعلیم اور دفاع ہے۔ شاید یہ ان سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ سارے مسئلے کہیں نہ کہیں ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے ہوئے ہیں۔ گلوبل کلائمیٹ انڈکس کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق طویل مدتی، 1998 سے 2017 کے درمیان، جو ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے۔ تحقیقات کے مطابق مستقبل میں بھی موسم کی شدت میں اضافہ ہونے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں قدرتی آفات کی شدت اور تعداد دونوں میں اضافہ ہوگا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات دو قسم کے ہیں، ایک تو شدید بارشیں، سیلاب، سائکلون اور خشک سالی کی صورت میں براہ راست اثرات نقصان (اموات اور املاک کی تباہی) ہے۔ ہر ایک قدرتی آفت بڑے پیمانے پر تباہی کے ساتھ ہی سالوں کی ترقی کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بیروزگاری، نقل مقانی، خوراک کی کمی، قابل کاشت اراضی میں کمی، متاثرین کی بحالی اور صحت جیسے اضافی مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔

پاکستان کے پاس نہ ہی سویڈن اور یورپ جیسی تکنیکی مہارت، وسائل اور ہے نہ ہی قومی سطح پر شعور جس سے مستقبل کی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نبر آزما ہو سکے۔ نوجوانوں کا اس مہم میں حصہ لینا کئی طرح سے اہم ہے۔ ایک تو اس سے حکمرانوں پر کام کرنے کا پریشر بڑھتا ہے اور دوسرہ یہ مسئلہ اتنا بڑا اور گھمبیر ہے کہ صرف کانفرسوں، سمیناروں، تحقیقی مکالمے لکھنے یا صرف درخت لگانے سے حل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے معاشرے کے سارے طبقوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، ورنہ کوئی بھی مختصر مدت یا طویل مدتی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی۔ اگر آج کے طالب علم ماحولیاتی تبدیلی کے لیے جدوجہد اور بیداری پھیلائیں گے تو مستقبل میں اس سے کچھ زیادہ ہی کرنے کے قابل ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •