بلاول بھٹو زرداری کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ


راؤ انوار کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے پر نہیں تھا مگر پارلیمانی ضوابط سے ناواقف ایک رکن نے یہ معاملہ اٹھایا۔ راؤ انوار کو بہادر بچہ کہنے کے حوالے سے ہماری جانب سے مکمل وضاحت آچکی ہے۔ راؤ انوار کے حوالے سے آئی ایس آئی کے خط کی وضاحت آئی ہے یا نہیں؟ مجھے اب تک اس سوال کا جواب نہیں ملا۔ راؤ انوار کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم صرف ایک راؤ انوار کی بات نہیں کرتے کیونکہ ہم ماورائے عدالت قتل کا شکار رہے ہیں۔ میرے کارکنان کو کراچی سے بلوچستان اور فاٹا تک ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی ماورائے عدالت قتل کا ہتھیار استعمال ہوتے دیکھا۔ میرا خاندان ماورائے عدالت قتل کے معاملے کا شکار رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک پولیس افسر میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ ملک بھر میں ماورائے عدالت قتل کرے۔ ماورائے عدالت قتل ایک بری روایت ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے انسانی حقوق کا المیہ پیدا کر لیا ہے۔ لاپتہ افراد اور جعلی پولیس مقابلوں کے خاتمے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنا ہوگی

اختر مینگل نے لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کی محرومیوں کے معاملے کو اٹھایا۔ پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دیا جائے گا۔ شیریں مزاری نے پارلیمان میں کھڑے ہوکر جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کی بات کی تھی۔ اختر مینگل نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور ان کی جماعت کے منشور میں لاپتہ افراد کا معاملہ تھا۔ میں نے تجویز دی کہ جبری گمشدگی کو جرم قرار نہ دینے پر اختر مینگل حکومت کو عوام دشمن بجٹ پر ووٹ نہ دیں۔ اختر مینگل صاحب ووٹ نہ دے کر حکومت کو مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دے کر اپنے وعدے پر عمل درآمد کرے۔ ہم جلد بلوچستان میں انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس منعقد کریں گے۔ بلوچستان کے مسائل کو بلوچستان میں ہی بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش سے بہتر اور کچھ نہیں

افتخار چوہدری سوموٹو لے کر لاپتہ افراد کے معاملے کو عدالت لے آئے۔ معاملہ عدالت میں جانے کے بعد پارلیمان اچھے فیصلے کا منتظر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے لاپتہ افراد کے حوالے سے سوموٹو کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پہلے صرف پاکستان پیپلزپارٹی لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنے منشور میں بات کرتی تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس انسانی المیے کے حل کی بات کررہی ہیں۔ جب حکومت خود کہہ چکی ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کو جرائم قرار دیگی تو پھر تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ حکومت لاپتہ افراد کے بل کو وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کے درمیان فٹ بال نہ بنائے۔ ایم کیوایم کے افراد لاپتہ ہوئے تو انہوں نے بھی اس معاملے کو اٹھایا۔ اگر حکومت جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کے وعدے کو پورا نہ کرے تو ایم کیوایم اور اختر مینگل کو عوام دشمن بجٹ کو ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ عمران خان نے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے جو وعدے ایم کیوایم اور اختر مینگل سے کیے۔ انہیں پورا کریں

صحافی شاہزیب جیلانی کے خلاف پی ٹی آئی حکومت نے مقدمہ درج کیا۔ شاہزیب جیلانی نے قائمہ کمیٹی میں قانونی ماہرین کے سامنے اپنا مؤقف بیان کیا۔ اگر آپ کے پاس اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوگی تو دیگر بنیادی انسانی حقوق کے لئے کیسے آواز اٹھائیں گے۔ ممکن ہے کہ میں آپ کی بات سے اختلاف کروں مگر آپ کے بات کو کہنے کے حق کے لئے آخری دم تک لڑوں گا۔ شاہزیب جیلانی کیس کے حوالے سے ایف آئی اے سربراہ کو اگلے اجلاس میں طلب کرلیا ہے۔ قانون کے مطابق متعلقہ ایجنسیوں کو اپنی ششماہی کارکردگی پارلیمنٹ کو پیش کرنا ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے متعلقہ ایجنسیوں نے اپنی ششماہی کارکردگی پارلیمنٹ کو پیش نہیں کی۔ شاہزیب جیلانی کے معاملے میں بنیادی قانونی تقاضوں کو ایف آئی اے نے نظرانداز کیا۔ ایف آئی اے کو شاہزیب جیلانی کے معاملے میں جواب دینا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں دیکھا جائے گا کہ ایف آئی اے اپنے ہی ملک کے قانون پر عملدرآمد کیوں نہیں کر رہا

نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن۔ معذوروں کے حقوق۔ دفاتر میں ہراسانی کا معاملہ۔ ڈے کیئر سینٹر اور زینب کیس سے متعلق سمیت سات بلوں کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے سامنے آیا۔ بلوچستان میں رکن اسمبلی کا ایوان میں بیمار بیٹی کو لانے پر دیگر ارکان کا ردعمل درست نہیں تھا۔ کام کرنے والی ماؤں کے لئے ڈے کیئر سینٹرز کا قیام بہت ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے قوانین کی منظوری کے حوالے سے ہم نے ذیلی کمیٹی بنادی ہے۔ ذیلی کمیٹی بلوں کی رپورٹ کے بعد انسانی حقوق کے بلوں کو پارلیمنٹ منظوری کے لئے بھجوایا جائے گا۔ گزشتہ اجلاس میں ہمیں حکومت نے بتایا کہ انسداد تشدد بل منظوری کے حوالے سے کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوگا۔ وزارت قانون کے حوالے سے کچھ ایشوز کے باعث انسانی حقوق وزارت کا انسداد تشدد کا بل کابینہ میں پیش نہیں کیا گیا۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے حکومتی بل بھی آگے نہیں بڑھایا جارہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسانی حقوق کی وزارت اور قائمہ کمیٹی کے پارلیمانی حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حکومت انسانی حقوق سے متعلق بل دوسری وزارتوں کو بھجوا دیتی ہے اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ حکومت کی وزارت برائے انسانی حقوق کو بھی دوسری وزارتوں کو ان کے بل بھجوائے جانے پر اعتراض ہے۔ ہم اپنے پارلیمانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جبری گمشدگی و تشدد جیسے معاملات انسانی حقوق سے متعلق ہیں۔ یہ کیسا طریقہ ہے کہ انسانی حقوق کے معاملات پر وزارت انسانی حقوق اور قائمہ کمیٹی اپنی رائے نہیں دے سکتی

حکومت ہر قانون سازی کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے۔ ڈے کیئر سینٹر کے حوالے سے ہمارے سینیٹر نے بل سینیٹ سے منظور کرایا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ڈے کیئر سینٹر کے حوالے سے بل اسمبلی سے بھی اتفاق رائے سے منظور ہو گا۔ خواتین کے خلاف جرائم ملک میں معمول بن چکے ہیں۔ ملک میں خواتین کی لیگل فورمز تک رسائی بہت مشکل ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے خصوصی پراسیکیوٹرز تعینات کرنے کی تجویز دی ہے۔

Facebook Comments HS